"جس جج سے میمو گیٹ انکوائری میں پیپلز پارٹی، کوئٹہ دھماکہ کیس میں مسلم لیگ ن، فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف اور اسکے ہم نوا ناراض ہو گئے وہ جج عوام کا مجرم نہیں بلکہ وہ جج تو ۔ ۔ ۔" حامد میر بھی کھل کر میدان میں آگئے

"جس جج سے میمو گیٹ انکوائری میں پیپلز پارٹی، کوئٹہ دھماکہ کیس میں مسلم لیگ ن، ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس زیر سماعت ہے اور آج ویڈیو لنک کے ذریعے فاضل جسٹس کی اہلیہ بھی اپنا موقف عدالت میں پیش کرنے جارہی ہیں، جوڈیشل کونسل نے انہیں بھی اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔

ایسے میں ایک خاتون صحافی نے غیرملکی اخبار میں ایک آرٹیکل لکھا جس کی سرخی کچھ یوں تھی" کیا جسٹس عیسیٰ پاکستانی عوام کے مجرم ہیں؟" اس پر سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ " جس جج سے میمو گیٹ انکوائری میں پیپلز پارٹی ناراض ہو گئی کوئٹہ دھماکہ کیس میں مسلم لیگ ن ناراض ہو گئی اور فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک انصاف اور اسکے ہم نوا ناراض ہو گئے وہ جج عوام کا مجرم نہیں بلکہ وہ جج تو صرف مجرموں کا مجرم ہے اللّٰہ پاک سب دیکھ رہا ہے"

ان کی اس ٹوئٰٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ "آپ کو بات اس لئے اچھی نہیں لگی کیوں کہ اس نے ن لیگ کا نام بھی مینشن کیا ۔اگر صرف پی ٹی آئی کا ہوتا تو آپ اسے فرشتہ صفت انسان کہتے"

ایک اور صارف نے لکھا کہ "جسٹس قاضی فائز عیسٰی اپکی جرت و بہادری کو سلام"

مزید :

قومی -