" ڈاکٹر صاحبہ سٹپٹا گئی ہیں لیکن ۔ ۔ ۔" صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کے عوام کو جاہل کرنے پر تحریک انصاف کے ایک وزیر نے کیا کہا اور لاہوریئے کیا سمجھتے ہیں؟ سینئر صحافی نے تہلکہ خیز انکشاف کردیا

" ڈاکٹر صاحبہ سٹپٹا گئی ہیں لیکن ۔ ۔ ۔" صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کے عوام کو ...

  

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ دنوں صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتےہوئے موقف اپنایا تھا کہ لاہوریئے اللہ تعالیٰ کی کوئی الگ ہی مخلوق ہیں، بات نہیں سمجھتے ، تماشا دیکھتے ہیں، ہم جیسی کوئی اور قوم جاہل نہیں ہے ، اب اس پر سینئر صحافی حامد میر نے بھی روشنی ڈالی ہے اور اپنے کالم میں بتایا کہ  وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ سٹپٹا گئی ہیں لیکن وبا کے دور میں ڈاکٹر صاحبہ کو الفاظ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے تھی۔بہت سے لاہوریے کہتے ہیں کہ ہم جاہل نہیں بلکہ ہمارے سیاسی قائدین پڑھے لکھے جاہل ہیں جو وبا کے دور میں بھی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے اور عوام کو کنفیوز کر دیا۔

روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں حامد میر نے لکھا کہ "  یہ وبا کا دور ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان اور گردونواح کے ممالک میں بھی روزانہ سینکڑوں لوگ مر رہے ہیں۔ ابھی تک اس وبا کا بہترین علاج احتیاط ہے لیکن جو احتیاط نہیں کر رہے اُنہیں پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جاہل قرار دے دیا ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ نے جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے شو میں کہا کہ لاہوریے اللہ تعالیٰ کی الگ مخلوق لگتے ہیں، وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جیسی باتیں ہم کرتے ہیں۔ اُن کے اس بیان کے اگلے روز پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کو جاہل کہنے والوں سے اگلے الیکشن میں عوام بدلہ ضرور لیں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان سے صرف بلاول نہیں اکثر لاہوریے بھی بہت ناراض ہیں۔

جب تین ماہ قبل کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے بلاول صاحب دو تین ہفتے کے لاک ڈائون کی بات کر رہے تھے تو ڈاکٹر یاسمین راشد کے قائد وزیراعظم عمران خان لاک ڈائون کی مخالفت کر رہے تھے۔ پھر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاک ڈائون کا اعلان کر دیا تو عمران خان نے کہا کہ امیروں نے غریبوں کا لاک ڈائون کر دیا۔ پھر لاک ڈائون ختم ہوا اور پاکستان کے بڑے شہروں میں تیزی سے وبا پھیلنے لگی تو لاہور کے 61علاقوں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لاہوریے کہتے ہیں کہ ہم جاہل نہیں بلکہ ہمارے سیاسی قائدین پڑھے لکھے جاہل ہیں جو وبا کے دور میں بھی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے اور عوام کو کنفیوز کر دیا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ بات ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کی ہے جو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے سے پریشان ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ سٹپٹا گئی ہیں لیکن وبا کے دور میں ڈاکٹر صاحبہ کو الفاظ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے تھی۔ لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔

یہیں پر 23مارچ 1940کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد پاکستان کی تحریک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوئی۔ کیا بےاحتیاطی صرف لاہوریوں نے کی ہے؟ کیا راولپنڈی کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور کراچی کے وفاقی وزیر امین الحق کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے؟ کیا یہ دونوں جاہل ہیں؟میں ذاتی طور پر ڈاکٹر یاسمین راشد کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن اُن کے حالیہ بیان کے بعد میں نے بھی سوچا کہ بےاحتیاطی تو پورے پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں کی جا رہی ہے پھر ڈاکٹر صاحبہ نے غصہ صرف لاہوریوں پر کیوں نکالا؟  لاہور کے لوگ اتنے عجیب نہیں البتہ لاہور پر بڑے عجیب عجیب لوگوں نے حکومت کی ہے"۔

مزید :

قومی -