صدارتی ریفرنس:حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ،جب بات آرٹیکل 209کی آئے گی تو صدر کو اپنی رائے بنانا ہو گی،جسٹس مقبول باقر

صدارتی ریفرنس:حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ...
صدارتی ریفرنس:حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ،جب بات آرٹیکل 209کی آئے گی تو صدر کو اپنی رائے بنانا ہو گی،جسٹس مقبول باقر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) جسٹس مقبول باقر نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ،جب بات آرٹیکل 209کی آئے گی تو صدر کو اپنی رائے بنانا ہو گی۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر سماعت جاری ہے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں بنچ سماعت کررہا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاہے کہ حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ،جب بات آرٹیکل 209کی آئے گی تو صدر کو اپنی رائے بنانا ہو گی۔

حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ سمری سیکرٹری قانون کی طرف سے تیار کی جاتی ہے ،ریفرنس سے متعلق سمری بڑی جامع ہے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا وزیراعظم کی ایڈوائس سے صدر مملکت اختلاف کرسکتے ہیں؟۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ صدرمملکت معاملے کادوبارہ جائزہ لینے کیلئے واپس بھیج سکتے ہیں ،صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس سے اختلاف نہیں کر سکتے ،بینظیر کے مقدمے میں فون ریکارڈ ہورہاتھایہاں تو کسی جج کی جاسوسی نہیں کی گئی ،حکومتی وکیل نے کہاکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جاسوسی ہوئی اورنہ ہی کسی اور جج کی ،ریفرنس اورشوکاز نوٹس میں اینٹی منی لانڈرنگ قانون کی بات نہیں کی گئی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -