صدارتی ریفرنس:منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں،ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں کرنسی کو تبدیل کرائیں فارن اکاﺅنٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں ،جسٹس عمرعطابندیال

صدارتی ریفرنس:منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں،ہمارے ملک کے قانون اجازت ...
صدارتی ریفرنس:منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں،ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں کرنسی کو تبدیل کرائیں فارن اکاﺅنٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں ،جسٹس عمرعطابندیال

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں کرنسی کو تبدیل کرائیں فارن اکاﺅنٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں ،حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں منی لانڈرنگ کو 1998 سے جرم کہاگیا ،میں عدالتی فیصلے پڑھ کر ایجوکیٹ ہورہاہوں ،ہم منی لانڈرنگ کی نہیں منی لانڈرنگ رجیم کی بات کررہے ہیں ،اس وقت کے قوانین حوالہ ہنڈی کی صحیح وضاحت نہیں کر پائے ۔

نجی ٹی وی جی این این کے مطابق سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی درخواست پر سماعت جاری ہے، جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجربنچ سماعت کررہا ہے۔حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے مطابق حوالہ ہنڈی سے پیسہ باہر جانا جرم ہے ،سٹیٹ بینک کے سرکلر حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر جانے کو منی لانڈرنگ قراردیتے ہیں ،قانون میں ایک تصور جرم کے تسلسل کا بھی ہے ۔

جسٹس منیب اختر نے کہاکہ منی لانڈرنگ کاجرم تسلسل جرم کب ہوگا؟،برطانیہ اور پاکستان کی منی لانڈرنگ رجیم میں بہت فرق ہے ۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں کرنسی کو تبدیل کرائیں فارن اکاﺅنٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں ۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں منی لانڈرنگ کو 1998 سے جرم کہاگیا ،میں عدالتی فیصلے پڑھ کر ایجوکیٹ ہورہاہوں ،ہم منی لانڈرنگ کی نہیں منی لانڈرنگ رجیم کی بات کررہے ہیں ،اس وقت کے قوانین حوالہ ہنڈی کی صحیح وضاحت نہیں کر پائے ۔

جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ہمارے سامنے کوئی بینک ٹرانزیکشن نہیں جس پر الزام دے سکیں،فروغ نسیم نے کہاکہ 20 سے 28 مئی تک میڈیا پر ریفرنس کی کوئی خبر نہیں تھی ،سابق چیف جسٹس کہہ چکے تھے انہوں نے ریفرنس جج صاحب کو پڑھنے کیلئے دیا ،میرے حساب سے جج صاحب صاف ہاتھوں سے عدالت نہیں آئے،جج صاحب نے صدر کو خط لکھے،ریفرنس کی خبر میڈیا کو حکومت نے لیک نہیں کی،جج صاحب نے ریفرنس پڑھااورنوٹس بھی لیا۔

فروغ نسیم نے کہاکہ میں بینک کے ذریعے رقم باہر بھیجواورجائیداد خریدوں تو ظاہر کروں گا،جج صاحب نے ریفرنس پڑھنے کے باوجود خط میں لکھا مجھے تو ریفرنس کامعلوم ہی نہیں ۔

فروغ نسیم نے کہاکہ انکم ٹیکس قانون کے مطابق جائیداد خریداری کے ذرائع بھی بتانے لازم ہیں ،عدالت نے استفسار کیاکہ تحریری گزارشات کب دیں گے؟فروغ نسیم نے کہاکہ تحریری گزارشات کیلئے4 سے 5 دن لگیں گے۔حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل مکمل ہو گئے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -