صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ کروا دیا ، کیا کہا ؟ جانئے

صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ ...
صدارتی ریفرنس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ کروا دیا ، کیا کہا ؟ جانئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل بینچ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف کارروائی رکوانے کیلئے درخواستوں پرسماعت کی جس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرے خاوندنے کہاریفرنس میرے متعلق نہیں، میرے لیے مشکل وقت تھا، میرے والدقریب المرگ ہیں، معلوم نہیں تھاکہ 21سال بعدلندن میں جائیدادخریدوں گی،شادی کے 21 سال بعدلندن میں جائیدادخریدی، میراکمپیوٹرائزڈشناختی کارڈ 2003 میں بنا،پہلاکارڈزائدالمعیاد ہونے پردوسراکارڈبنوایا،میرا نام شناختی کارڈپرسرینا عیسیٰ ہے،میری والدہ اسپین کی شہری تھیں،میرے پاس سپین کاپاسپورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ الزام لگایاگیامیں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیان دیتے ہوئے بتایا کہ میں لندن کی جائیدادیں 2018 کے گوشواروں میں جمع کرا چکی ہوں،آغاز میں ہی مجھ سے بات پوچھ کی جاتی ہے ،میں کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتی ،مجھے عام شہری کی طرح سلوک کیا جائے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فریقین سے پوچھا کہ معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیتے ہیں،دوسرا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے،آپ وہاں پر موقف دے سکتی ہیں،آپ کے پاس سوالات کے مضبوط جواب ہیں،متعلقہ اتھارٹیز کو ان دستاویزات سے مطمئن کریں، آپ کے حوصلے کی داد دیتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھ سے یہ بات پہلے کیوں نہیں پوچھی گئی،13 ماہ میں نے انتظار کیا،میرے بیٹے کو انگلینڈ میں ہراساں کیا گیا، پیسہ بینک اکاونٹ سے لندن بھیجا گیا ، میرے نام سے پیسہ باہر گیا،جس اکاﺅنٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے ، ایک پراپرٹی 236000 پاونڈز میں خریدی گئی، سٹینڈر چارٹر بینک کے فارن کرنسی اکاﺅنٹس میں سات لاکھ پاونڈز کی رقم ٹرانسفر کی گئی،یہ تمام دستاویزات جو میں نے دکھائی ہیں اصلی ہیں،مجھے محدود وقت دیا گیا ہے،میرا لندن اکاونٹ بھی صرف میرے نام پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 245000 پاونڈز سے 2013 میں تیسری جائیداد خریدی، اس پراپرٹی میں میرا بیٹا رہتا ہے، 270000 پاونڈز سے پراپرٹی اپنے اور بیٹی کے نام خریدی، یہ پراپرٹی میرے خاوند کے نہیں میرے اور بیٹی کے نام ہے،امریکن اسکول میں کام کرنا بند کیا تو ریحان نقوی نے تجویز دی کہ آمدن قابل ٹیکس نہیں۔ان کا کہناتھا کہ اب قانون تبدیل ہو گیا ہے2 جائیدادیں کرایہ پر دے دی گئیں، تیسری پراپرٹی میں بیٹا رہتا ہے، اب میں پاکستان اور برطانیہ میں انکم ٹیکس نہیں دے رہی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے بیان کو سننے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آدھا گھنٹہ سن کر محسوس ہوا آپ کے پاس اپنا موقف پیش کرنے کے لیے کافی ہے،آپ بہت بہادر اور حوصلہ مند خاتون ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے عدالت میں بتایا کہ مجھے پہلی مرتبہ موقع ملا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اچھے ذہن کے ساتھ آپ کو موقع دیا،ہم آپ کے حوالے سے مطمئن ہے،خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہیں، اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ سٹیٹ بینک کے پاس تمام معلومات موجود تھی۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے 2018 کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سیل لفافے میں طلب کر لیاہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جج کی اہلیہ نے ایف بی آر کی بہت شکایت کی ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر نے زیادتی کی تو براہ راست شکایت وزیر اعظم کے پاس جائیگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے گھر پر ویڈیو لنک انتظامات کروا رہے ہیں، دوپہر میں بیان لیں گے، وہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور ہمارے سامنے فریق نہیں، ہماری درخواست ہے کہ بیان دیتے وقت عدالتی ڈیکورم کا خیال رکھتے ہوئے مختصر بات کریں اور مناسب الفاظ کا استعمال کریں۔

حکومتی وکیل فروغ نسیم نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بدنیتی پر فائنڈنگ دینے پر جوڈیشل کونسل کے سامنے کوئی چیز مانع نہیں، کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااختیار ہے اور اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔فروغ نسیم نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تشدد کے بغیر حاصل مواد قابل قبول دستاویز ہیں ، برطانیہ میں بھی جاسوسی اور چھپ کر تصویر بنانے کو قابل قبول شواہد قرار دیا گیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے آپ کہہ رہے ہیں میری جاسوسی ہو سکتی ہے ، میں گالف کلب جاتا ہوں کیا میری تصاویر لی جاتی ہیں، یہ تو ایسے ہی ہو گا جمہوریت سے فاش ازم کی طرف بڑھا جائے۔

فروغ نسیم نے جواب دیا کہ میں فاش ازم کی بات نہیں کر رہا ، یہاں بات شواہد کے اکھٹا کرنے کی ہو رہی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ کوئی نہیں کہتا کہ جج جوابدہ نہیں ہے ، جج چاہتا ہے کہ میری پراﺅیسی بھی ہو اور میری عزت کا خیال بھی رکھا جائے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نام پر تباہی پیدا ہو رہی، ہوسکتا ہے کہ ملک میں جاری احتساب پر بھی کبھی کوئی فیصلہ لکھیں، ضیا المصطفی نامی شخص کے پاس اختیار نہیں تھا کہ نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرے ، مقصد کسی نہ کسی طرح جج کو سامنے لانا تھا، تمام کارروائی کے بعد ڈوگر کو لاکر کھڑا کردیا گیا، میں اپنی تفصیلات آرام سے نہیں لے سکتا تو ایک جج کی تفصیلات وحید ڈوگر کے پاس کیسے آئی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انجینئرنگ کے الزامات لگتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -