گائے کے ذریعے کورونا وائرس سے بچنے کا انوکھا طریقہ، ماہرین نے تحقیق شروع کردی

گائے کے ذریعے کورونا وائرس سے بچنے کا انوکھا طریقہ، ماہرین نے تحقیق شروع کردی
گائے کے ذریعے کورونا وائرس سے بچنے کا انوکھا طریقہ، ماہرین نے تحقیق شروع کردی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے علاج کے حوالے سے امریکی سائنسدانوں نے ایک خوشخبری سنا دی ہے جنہوں نے گائے کے خون سے ایک اینٹی باڈیز طریقہ علاج دریافت کر لیا ہے اور آئندہ ماہ انسانوں پر اس طریقہ علاج کے تجربات شروع کرنے جا رہے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق گائے کے خون سے یہ اینی باڈیز امریکی ریاست ساﺅتھ ڈیکوٹا کے شہر سیوئیکس فالز میں واقع ایس اے بی بائیوتھراپیوٹکس نامی لیبارٹری کے ماہرین نے تیار کی ہے۔ ان ماہرین نے گائیوں میں کچھ ایسی جینیاتی تبدیلیاں کی ہیں جس سے ان میں انسانی مدافعتی نظام کے کچھ خواص پیدا ہو گئے اور ان کے خون میں بڑی تعداد میں انسانی اینٹی باڈیز بننی شروع ہو گئی جو کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سائنسدانوں نے گائیوں کے خون سے یہ اینٹی باڈیز الگ کرکے ان پر تجربات کیے جو کامیاب رہے اور اب ان کے انسانوں پر تجربات آئندہ ماہ شروع ہونے جا رہے ہیں۔ لیب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایڈی سلیوان کا کہنا تھا کہ انسانوں میں فی ملی لیٹر جتنی اینٹی باڈیز بنتی ہیں گائیوں میں نہ صرف مقدار میں اس سے دو گنا زیادہ پیدا ہوتی ہیں بلکہ زیادہ اقسام میں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ایسی اینٹی باڈی ہو گی جو کورونا وائرس کے خلاف موثر ثابت ہو گی، دوسرے اس طریقے سے ہم زیادہ مقدار میں اینٹی باڈیز بنا سکتے ہیں اور مریضوں کے جسم میں داخل کرکے انہیں کورونا وائرس سے بچا سکتے ہیں۔ ان اینٹی باڈیز میں سے کورونا وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈی تلاش کرکے اس کے کورونا وائرس سے متاثرہ جانوروں پر تجربات کیے گئے جن کے بہت کامیاب نتائج سامنے آئے۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -