اس طرح ماسک پہننے کا کیا نقصان ہوتا ہے؟ ماہرین نے وارننگ جاری کردی

اس طرح ماسک پہننے کا کیا نقصان ہوتا ہے؟ ماہرین نے وارننگ جاری کردی
اس طرح ماسک پہننے کا کیا نقصان ہوتا ہے؟ ماہرین نے وارننگ جاری کردی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءکے ان دنوں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ فیس ماسک کو ناک سے نیچے کیے رکھتے ہیں، گویا منہ کو وہ وائرس سے بچا رہے ہوتے ہیں اور ناک کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کے لیے اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں ایسی سخت وارننگ جاری کر دی ہے کہ جان کر کوئی بھی ماسک سے ناک ڈھانپے بغیر باہر نہ نکلے گا۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس گلے اور پھیپھڑوں کے خلیوں کی نسبت ناک کے خلیوں میں انتہائی آسانی کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے اور وہاں اپنی افزائش کرکے تعداد بڑھا سکتا ہے چنانچہ کورونا وائرس کو ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے سے بچانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ناک میں داخل ہو کر کورونا وائرس وہیں علامات ظاہر کیے بغیر ناک ہی کے خلیوں میں اپنی تعداد 1کروڑ تک بڑھا سکتا ہے اور جب اتنی زیادہ تعداد ہونے کے بعد وہ انسانی جسم پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کے حملے کو روکنا ہمارے مدافعتی نظام کے بس کا کام نہیں رہتا۔ کورونا وائرس گلے اور پھیپھڑوں میں جا کر اپنی جتنی تعداد بڑھاتا ہے اس سے 1ہزار گنا زیادہ تعداد وہ ناک میں بڑھاسکتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ بوشی نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ باہر نکلتے وقت کم از کم ایسا ماسک ہر حال میں پہنیں جس سے ان کی ناک ڈھکی رہے اور اس میں کورونا وائرس داخل نہ ہونے پائے۔ منہ کے ذریعے اگر وائرس داخل ہوتا ہے تو اس کی شدت بہت کم ہو گی اور مریض جلد صحت مند ہو جائے گا لیکن ناک کے ذریعے وائرس داخل ہو تو علامات سنگین ہونے کا خطرہ کئی گنا زیادہ ہوگا۔

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -