’مجھے لگتا تھا کورونا وائرس سے میری موت ہوجائے گی لیکن اس انتہائی سستی دوا نے میری جان بچالی‘

’مجھے لگتا تھا کورونا وائرس سے میری موت ہوجائے گی لیکن اس انتہائی سستی دوا ...
’مجھے لگتا تھا کورونا وائرس سے میری موت ہوجائے گی لیکن اس انتہائی سستی دوا نے میری جان بچالی‘

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک انتہائی سستی دوا نے کورونا وائرس کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ایک خاتون کی جان بچا لی، جس سے اس موذی وباءکے خوف میں مبتلا دنیا کے لیے امید کی ایک کرن پیدا ہو گئی ہے۔ دی مرر کے مطابق اس 55سالہ خاتون کا نام کیتھرین مل بینک ہے جسے کورونا وائرس کی علامت سنگین ہونے پر سٹاک مینڈیویل ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں وینٹی لیٹر پر رکھا جا رہا تھا۔

اسی دوران ماہرین نے عام دستیاب انتہائی سستی دوا ڈیکسامیتھاسون (Dexamethasone)کے کورونا وائرس کے مریضوں پر تجربات شروع کیے اور کیتھرین کے شوہر پاﺅل کو بلا کر اس سے اجازت طلب کی کہ وہ کیتھرین کو بھی ان تجربات میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ پاﺅل نے اجازت دے دی اور ڈاکٹروں نے کیتھرین کو بھی یہ دوادینی شروع کر دی جس کے حیران کن نتائج سامنے آئے اور کیتھرین روبہ صحت ہونے لگی۔ اب صحت مند ہونے کے بعد کیتھرین کا کہنا ہے کہ ”جب مجھے وینٹی لیٹر پر ڈالا گیا تو مجھے لگنے لگا تھا کہ اب میرا آخری وقت آ گیا ہے لیکن ڈیکسامیتھاسون میرے لیے معجزاتی دوا ثابت ہوئی اوراس نے میری جان بچا لی۔ “ واضح رہے کہ ان تجربات میں وینٹی لیٹر پر پہنچ چکے کئی مریض صحت مند ہو چکے ہیں، بہرحال ماہرین کی طرف سے اس تحقیق کے حتمی نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -