جنسی زیادتی کے مجرم کو جیل کی بجائے چہل قدمی کی سزا

جنسی زیادتی کے مجرم کو جیل کی بجائے چہل قدمی کی سزا
جنسی زیادتی کے مجرم کو جیل کی بجائے چہل قدمی کی سزا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرم کو جیل کی بجائے سماجی کارکنوں کے ساتھ چہل قدمی کی سزا سنا دی گئی۔ دی مرر کے مطابق اس 16سال مجرم نے 2سال قبل 14سال کی عمر میں لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، جسے پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا اور اب عدالت کی طرف سے مجرم کی جرم کے وقت عمر کے پیش نظر اسے ریفرل آرڈر کی سزا دے دی ہے۔ اس سزا میں مجرم کو دیگر فلاحی کاموں کے ساتھ ممکنہ طور پر سماجی کارکنوں کے ساتھ طویل چہل قدمی بھی کرنی ہو گی۔

ڈسٹرکٹ جج گوائن جونز نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرم سے کہا کہ ”جرم کے ارتکاب کے وقت تمہاری عمر 14سال تھی۔ اگر اس وقت تمہاری عمر 18سال ہوتی تو تمہیں کم از کم10سال تک کے لیے جیل جانا پڑتا۔ “ جج نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ”مجرم کو بچپن میں مناسب توجہ نہیں ملی اور اسے نظرانداز کیا گیا۔ اس کے والدین کی یہ غفلت اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوئی۔ کورونا وائرس کی وجہ سے جسٹس سروس کو سزا کے نئے طریقے اپنانے پڑ رہے ہیں چنانچہ ریفرل آرڈرز میں سماجی میل جول میں پابندی کی وجہ سے کم عمر مجرموں کو طویل چہل قدمی کا حکم دیا جا رہا ہے۔ “ رپورٹ کے مطابق جج کی طرف سے جنسی زیادتی کے اس مجرم پر 12ماہ کا ریفرل آرڈر مسلط کرنے کا حکم دیا گیا۔

مزید :

برطانیہ -