چین کا بیجنگ میں وبا کے خلاف قابلِ تقلید ردِ عمل

چین کا بیجنگ میں وبا کے خلاف قابلِ تقلید ردِ عمل
چین کا بیجنگ میں وبا کے خلاف قابلِ تقلید ردِ عمل

  

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں نوول کورونا وائرس کووڈ-19 کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکومتی اداروں نے فوری اور بروقت اقدامات اختیار کئے ہیں ۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لئے اختیار کئے جانے والے یہ اقدامات دنیا کے تمام ممالک اور علاقوں کے لئے قابل تقلید ہیں۔ پاکستان جہاں یہ وائرس اب بھی پھیل رہا ہے   وہاں  اس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

بیجنگ میں گزشتہ تقریباً دو ماہ سے مقامی طور پر وبا کے کسی ایک بھی مقامی کیس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی، اور جب ہمیں یہ لگ رہا تھا  کہ زندگی اور کام معمول پر واپس آچکے ہیں ،تو گزشتہ 4 دنوں میں ، بیجنگ میں70  نئے مقامی کیسز سامنے آئے ہیں۔صرف محض ایک روز کے دوران 36افراد میں وائرس  کی تصدیق ہوئی ہے۔

بیجنگ میں مقامی طور پر کووڈ-19 کے کیسز سامنے آنے کے بعد ریاستی مشینری تیزی سے حرکت میں آئی اور وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بروقت اقدامات اختیار کئے۔ ان اقدامات میں نئے انفیکشن سے منسلک ایک بڑی ہول سیل مارکیٹ کو بند کرنا،  اس کے آس پاس کے علاقوں  میں جزوی طور پر لاک ڈاؤن کرنا اور کلیدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانچ اور اسکریننگ کے عمل کو کو تیز کرنا شامل ہیں۔

شہر کے ہیلتھ کمیشن نے بتایا کہ نئے تصدیق شدہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد فینگ تائی ڈسٹرکٹ کی شن فادی ہول سیل مارکیٹ میں کام کرتی ہے یا حالیہ دنوں میں وہاں گئی تھی ،  اور باقی افراد  مارکیٹ سے براہ راست یا بالواسطہ رابطے میں آئے تھے۔

واضح رہے کہ شن فا دی مارکیٹ بیجنگ میں ایشیاء کی سب سے بڑی سبزی ، پھل اور گوشت کی سب سے بڑی منڈی  ہے، اس کا رقبہ  گیارہ لاکھ بیس ہزار

مربع میٹر ہے جو تقریباً 157 فٹ بال میدانوں یا 251 رگبی کے میدانوں کے برابربنتا ہے۔ یہ مارکیٹ بیجنگ کے 2 کروڑ لوگوں کی ضروریات کے لئے اسی فیصد سامان فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر روز 18000 ٹن سبزیاں اور 20000 ٹن پھلوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس مارکیٹ میں 1500 سے زیادہ انتظامی اہلکار موجود ہیں ، جو ہر روز سبزیاں ، پھل ،سی فوڈ اور گوشت فروخت کرتے ہیں ۔اب اس مارکیٹ میں بڑے گوشت ،چھوٹے گوشت اور سی فوڈ کے حصے میں  وائرس کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ اس جگہ پر گوشت اور سی فوڈ کو محفوظ رکھنے لئے انتہائی کم درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے اس جگہ بہت  زیادہ سردی  ہوتی ہے ، جو وائرس کے پھیلاؤ اور بقا کے لئے ماحول فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

جمعرات کے روز ، بیجنگ میں تقریباً دو ماہ کے بعد مقامی انفیشکن کے کسیز رپورٹ ہوئے۔ ان میں ایک 52 سالہ شخص تھا جو دوہفتے قبل بیجنگ میں آیا تھا۔ اس نے 3 جون کو مارکیٹ کے سمندری غذا اور گوشت کے ہال کا دورہ کیا تھا ۔جمعہ کے روز ، مزید چھ افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی یہ لوگ یا تو مارکیٹ میں کارکن تھے  یا وہ لوگ تھے جنہوں نے حال ہی میں اس کا دورہ کیا تھا۔ کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بیجنگ میں تصدیق شدہ تمام مریض معمولی یا اعتدال پسند بیمار ہیں ، سوائے ایک مریض کے کہ جمعہ کے روز ایک سنگین معاملہ قرار دیا گیاتاہم  اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

ریاستی کونسل کے مشترکہ روک تھام اور کنٹرول میکنزم نے اتوار کے روز ایک اجلاس کے دوران کہا ہے کہ سخت ترین وبائی سروے اور ماخذ کی اصلیت کے بارے میں جامع تفتیش کا عمل شن فادی  مارکیٹ اور اس کے قریبی علاقوں میں شروع کیا جائے گا۔ اجلاس میں متاثرہ کمیونٹیز میں نقل و حرکت پر قابو پانے ، سخت اسکریننگ شروع کرنے اور تصدیق شدہ تمام معاملات اور ان کے قریبی رابطوں ، مشتبہ معاملات کے ساتھ ساتھ بخار میں مبتلا افراد کو سنٹرلائیزڈ قرنطین کو کرنے کے  علاوہ  تمام اہم علاقوں اور کلیدی آبادیوں میں چانچ کے عمل کو توسیع دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

بیجنگ میں سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کی ضمانت کے لئے ، بیجنگ حکومت نے مارکیٹ کے قریب دو عارضی مارکیٹیں کھولیں ، اور ملک بھر سے آنے والی سبزیاں ان دونوں بازاروں میں جارہی ہیں۔ اب بیجنگ کی مارکیٹ میں پھل اور سبزیاں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ لوگوں کو اشیائے ضروریہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -