معاشرے میں عدم برداشت

معاشرے میں عدم برداشت
معاشرے میں عدم برداشت

  

تحریر: امجد مجید

یہ مانے بنا کوئی چارہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں برداشت‘ تحمل‘ بردباری اور نرم روی جیسی اقدار یا خصوصیات ختم ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی جگہ غصے‘ عدم برداشت‘ جلد بازی اور شدت پسندی نے لے لی ہے۔ جو باتیں ماضی میں ہنسی میں اُڑا دی جاتی تھیں آج دلوں کو دُکھانے اور تکلیف پہنچانے لگی ہیں اور اسی وجہ سے شدید رد عمل بھی ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کبھی یہ معاشرہ بڑا کھلا‘ خوبصورت اور ہنس مکھ تھا لیکن آج پریشان نظر آتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کا حال دیکھ لیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی صورتحال دیکھ لیں۔ پارکوں‘ شاپنگ مالوں اور دکانوں پر دیکھ لیں۔ ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم نظر آئے گا.

ایک زمانہ تھا کہ مختلف طبقۂ فکر کے لوگوں کے درمیان مناظرے اور مناقشے ہوتے تھے‘ جہاں فریقین ایک دوسرے کی بات سنتے تھے اور پھر کسی ایک کی بات تسلیم کر لی جاتی تھی‘ دوسرا اپنی ہار تسلیم کر لیتا تھا‘ لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔ مادیت پرستی بڑھ چکی ہے اور لوگ یہ بات بھول چکے ہیں کہ میانہ روی‘ تحمل مزاجی‘ رواداری اور عدل و انصاف جیسی اقدار اور خصوصیات کسی معاشرے کو ہی مستحکم نہیں کرتیں بلکہ یہ افراد کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں۔ آج ہم ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ عدم برداشت ہی ہے۔ معاشرے میں درجہ بالا خصوصیات کا فقدان پیدا ہو جائے تو شدت پسندی‘ جارحانہ پن‘ غصہ‘ عدم برداشت اور لاقانونیت جیسی وحشتیں جنم لیتی ہیں اور معاشرے کا امن و سکون تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رواج پڑ جاتا ہے۔ آج پورے معاشرے کے بے سکون ہونے کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔ رواداری کی تعلیمات ہمارے مذہب اسلام کا ایک روشن باب ہے۔ اسلام میں انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک‘ انسانوں کی خدمت اور ان کی بہتری کے کام کرنے کی خصوصی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے تعلقات ختم نہ کئے جائیں‘ ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرا جائے‘ ایک دوسرے کے بارے میں کینہ نہ رکھا جائے‘ کسی سے حسد نہ کیا جائے‘ سب کو آپس میں مل کر حسن سلوک کے ساتھ رہنا چاہیے.

آج پھیلتے ہوئے لسانی‘ مذہبی‘ سماجی بحرانوں کی اصل وجہ عدم برداشت ہی ہے۔ تو معاشرے کو پُر سکون بنانے اور قومی سطح پر ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ اس کے لیے مکالمہ ہی بہترین طریقہ اور طرز عمل ہو سکتا ہے۔ اسلام کی کامیابی کی بنیادی وجہ مکالمہ ہی تھا اور حضرت محمدﷺکی پوری حیاتِ طیبہ ہم آہنگی کی کوششوں سے عبارت ہے اور یہی ہمارے لیے بھی مشعلِ راہ ہے.

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -