سندھ کے بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے، خرم شیر زمان

  سندھ کے بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے، خرم شیر زمان

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے بجٹ میں کراچی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔پچھلے سال کراچی کے لئے 19 منصوبے رکھے گئے جس میں 12 پر ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا۔کراچی پورے ملک کو چلارہا ہے،  کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ناقابل برداشت ہے، پی ٹی آئی ایسے بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اراکین سندھ اسمبلی سعید آفریدی، جمال صدیقی، راجہ اظہر، شہزاد قریشی، پی ٹی آئی رہنما سمیر میر شیخ، فراز لاکھانی موجود تھے۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ نالائق اعلیٰ نے بجٹ تقریر میں نہیں بتایا کہ ٹرانسپورٹ کا نظام کیسے موثر بنایا جائیگا، اس بجٹ میں ٹرانسپورٹ کے نظام کے حوالے سے کچھ نہیں ہے۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ صاف پانی کا ہے،ہمیں امید تھی کہ کراچی کے شہریوں کو ٹینکر مافیا سے نجات دلائی جائیگی مگر اربوں روپے بنانے کیلئے ٹینکر مافیا کیخلاف وزیر اعلیٰ نے کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الحمدللہ پی ٹی آئی کے فور پروجکٹ مکمل کرنے جارہی ہے۔ پی ٹی آئی نے کراچی کو 52 فائر ٹینڈرز دیے،ان 52 فائر ٹینڈرز کیلئے سندھ حکومت کے پاس عملہ موجود نہیں ہے۔ صوبے میں ایمبولینس کا فقدان ہے،بجٹ میں ایمبولینس سے متعلق کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔ بلاول کے سامنے معصوم بجے کتے کے کاٹے سے مررہے ہیں،کتوں کی ویکسین کیلئے کوئی کام شروع نہیں کیا۔ شہر کا لاکھوں گیلن پانی سمندر میں ضایع ہوتا ہے، پانی کی فلٹریشن کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔ کراچی سیف سٹی کیلئے سندھ حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، کل رات دو میاں بیوی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، متاثرہ خاندان ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ صفائی ستھرائی کے نظام کیلئے وزیر اعلیٰ نے کوئی پلان نہیں دیا۔

مزید :

صفحہ آخر -