غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کیسے روکی جائے؟

غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کیسے روکی جائے؟
غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کیسے روکی جائے؟
سورس: File

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) نے کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کابل میں صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے،غنی مخالف گروہ کابل  کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جنرل عبدالرشید دوستم کل کابل سے روانہ ہوگئےہیں حقانی گروپ ایک مضبوط ترین گروپ کے طور پر ابھر رہا ہے اور نسلی کارڈ اسوقت خطرناک ترین ثابت ہوسکتا ہے،عالمی طاقتیں افغانستان میں امن کےلئےاپنامخلصانہ کردارادا کریں کیونکہ جامع حکمت عملی کےبغیر افغانستان سےفوجیوں کےانخلاءکےاعلان نےوہاں کےعوام کوممکنہ خانہ جنگی سےخوفزدہ کیاہے،افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے کیوںکہ ہم براہ راست افغان و سوویت یونین کے جنگ کا نشانہ بنے ہیں جس کے بعد طالبان ، القاعدہ اور داعش پیدا ہوئے جنہوں نے ہمیں تباہی سے ہمکنار کردیا ۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اسوقت طالبان افغانستان کے 52 فیصد علاقے پر قابض ہیں اور باقی حکومت اور طالبان کے زیر کنٹرول ہیں، طالبان شوری تمام "سیاسی اور فوجی امور" کے فیصلے کررہی ہے اور آج کابل گھیرے میں ہے جس سے عام لوگوں خوفزدہ ہیں،طالبان ہر گزرتی گاڑی کو روکتے ہیں اور حکومت سے ان کے رابطے پر سوال اٹھاتے ہیں،اگر انہیں کوئی پتا چلتا ہے تو وہ انہیں اپنی عدالتوں کے حوالے کردیتے ہیں جس سے بدامنی پھیل رہی ہے، طالبان کو یقین ہے کہ فتح ان کی ہے اور انہوں نے امریکہ کے خلاف جنگ جیت لی ہے،طالبان کو یقین ہے کہ اگلے چند مہینوں میں ان کا دارالحکومت پر کنٹرول ہوگا۔

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان یا افغانستان میں کسی بھی ملک میں اڈے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ جنگی جہازوں کے لئے خلیج کی ضرورت ہے، پاکستان کو اپنی حکمت عملی کا منصوبہ بنانا ہوگا کیوں کہ اب یہ کوئی راز نہیں کہ ہندوستان کا اثرورسوخ افغانستان میں بہت زیادہ ہوچکا ہے اور وہ اس کی لابی کو سالانہ ایک بلین ڈالر مہیا کیا جا رہا ہے،اس کے علاوہ  شمالی اتحاد کے سینئر رہنما مودی سرکار سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے باقاعدگی سے ہندوستان جاتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ جب افغانستان میں جنگ کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان سب سے اہم علاقائی کھلاڑی ہے اور امریکہ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے چیف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کو سراہا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ امریکہ کو افغانستان میں تمام دھڑوں کی نمائندگی کرنے والی عبوری حکومت کے قیام کے لئے کام کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے منفی کردار سے بچنے کے لئے اسے انخلا کی حکمت عملی سے دور رکھا جائے۔

مزید :

قومی -