تیزی سے برباد ہوتی پاکستان کی زراعت 

  تیزی سے برباد ہوتی پاکستان کی زراعت 
  تیزی سے برباد ہوتی پاکستان کی زراعت 

  

 پاکستان کا شمار دنیا کے زرعی ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے، یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی زراعت معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وطن عزیز کا یہ شعبہ ملکی ترقی میں اپنا اہم حصہ ڈال رہا ہے لیکن افسوس یہ شعبہ بھی ملک کے دوسرے شعبوں کی طرح حکومتی عدم توجہ کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی زبوں حالی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس شعبہ کو ہنگامی بنیادوں پر توجہ نہ مل سکی تو اس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

میرا گزشتہ ہفتہ جنوبی پنجاب میں گزرا ہے، اس قیام کے دوران میری ملاقاتیں ڈائریکٹر ایگریکلچر، ڈائریکٹر سیڈز، ڈائریکٹر پیسٹ مینجمنٹ سمیت محکمہ زراعت کے متعدد افسران سے ہوئیں، ان ملاقاتوں میں خوشی کی بات یہ تھی کہ محکمہ کا ہر فردکام کرتا نظر آیا۔ ان تمام افسران کو فیلڈ زمینداروں کی رہنمائی کے اور موجودہ وسائل کے مطابق انہیں سہولتیں مہیا کرتے دیکھا، اس کے ساتھ خوش آئند بات یہ تھی کہ پرائیویٹ سیڈ اور پیسٹی سائیڈ کمپنیاں بھی زراعت ترقی کے لئے محکمہ کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں جو باقاعدہ ٹریننگ،سیمینار اور میٹنگز کے ذریعے کسانوں کو آگاہی فراہم کرتی ہیں۔ ان کے ماہرین فصلوں کو وزٹ کرتے ہیں اور فصلوں میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی نشاندہی کرکے اس کا علاج بھی بتاتے ہیں۔ خوشی کی ان خبروں کے ساتھ بری خبر یہ تھی کہ محکمہ زراعت کے تمام افسران اور اہلکاروں کو انتظامیہ نے میچ کے انتظاما ت میں لگایا ہوا تھا اور وہ اپنے تمام کام چھوڑ کر پی سی بی کی نوکری کر رہے تھے۔ حکومت وقت سے اپیل ہے کہ خدارا ایسا ہرگز نہ کریں انہیں اپنا کام کرنے دیں ہماری زراعت پہلے ہی بہت مشکلات سے دوچار ہے اور اگر یہ لوگ میچوں کے انتظامات کرتے رہے تو کسانوں کا بہت نقصان ہو جائے گا۔

ان حضرات سے ملاقات کے بعد میری ملاقات پرائیویٹ پیسٹی سائیڈ کمپنی (بائیوقیم)کے سی ای او جناب فرحان اقبال صاحب سے ہوئی جو بہت پڑھے لکھے، محنتی اور معتبر انسان ہیں، وہ خود اور ان کی کمپنی وطن عزیز کی زرعی ترقی کے لئے دن رات کوشاں ہے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران زرعی شعبے کے سر پر منڈلاتے خطرات سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق زرعی شعبے کو جو خطرات لاحق ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: موسمی تبدیلی، پانی کے لیے ڈیموں کا نہ ہونا،ناقص نہر ی نظام،آبی وسائل پر مخصوص گروہوں کا قبضہ،گلیشیئرکا تیزی سے پگھلاؤ اور صدیوں پرانا طریقہ آبپاشی ہے۔

اس سال موسمی تبدیلی اور شدت کی وجہ سے فصلیں بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں، مختلف ذرائع سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس سال آ م کی فصل میں تقریبا چالیس فیصد کمی، گندم تیس فیصد اور مکئی کی پیداوار میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار خطرے کی پہلی گھنٹی ہیں، حکومت وقت خدارا ہوش کے ناخن لے لیں اور فوری طور پر زرعی ایمرجنسی نافذ کر دیں تو شاید ہمارے بچنے کا کوئی راستہ نکل آئے۔ ہندوستان،بنگلا دیش،چین اور روس اس وقت فی ایکڑ پیداوار میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں کیونکہ وہاں پر ذمینداروں کے لئے آئے روز جدید سے جدید طریقہ کار اور زرعی آلات متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ اگر ہندوستان اپنے زرعی ماہرین کو ٹریننگ کے لئے چین یا دوسرے ممالک میں بھیج سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔

وزیراعظم صاحب ملکی زراعت کو آپ کی اشد ضرورت ہے محکمہ زراعت کے کچھ افسران کو منتخب کر لیں اور اُنہیں بنگلا دیش،روس،چین پھر ہندوستان ٹریننگ کے لیے بھیج دیں تاکہ یہ لوگ واپس آکر اپنے محکمے کے تمام افسروں اور ملازمین کو ٹریننگ دے سکیں۔اس سے اگلے مرحلے میں کسانوں کی ٹریننگ کا انتظام کریں اور ملک میں زرعی یونیورسٹیوں کے طلبہ کو سکالر شپ پر جدید ریسرچ کے لیے باہر کے ممالک میں بھیجیں تاکہ یہ لوگ بیچوں کی ایسی اقسام متعارف کروائیں جن میں قوت مدافعت قدر ے زیادہ ہو۔ ہمارے سیڈ ڈپارٹمنٹ کو جدید مشینری مہیا کریں جہاں پر پہلے سے زیادہ صحت مند بیچ تیار ہوں،جن کی جرمینیشن کی شرح موجود بیچوں سے زیادہ ہو۔وطن عزیز میں بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہوچکی ہیں اس لیے ضروری ہوچکا ہے کہ کسانوں کو گرین انرجی پر منتقل کیا جائے،اُنہیں آسان اقساط پر بلا سود سولر سسٹم مہیا کیے جائیں تاکہ نہری پانی کی کمی کو ٹیوب ویل کے ذریعے پورا کیا جا سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے کے لیے ملک میں ہر خالی جگہ پر گرین ایمرجنسی لگا کرکے درخت لگائیں، ہماری موٹر وے، ہائی ویز،لوکل سڑکوں، ریلوے لائنوں، نہروں، دریاؤں اور سمندروں کے ساتھ لاکھوں مربع کلومیٹر جگہیں خالی پڑی ہیں، اس سال مون سون کے موسم میں بڑے اہداف مقرر کرکے ملک کی ہر خالی جگہ پر جنگلات لگانے کا منصوبہ شروع کیا جائے۔ 

چین نے گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں ایکڑ ریگستانوں کو جنگلات میں تبدیل کیا ہے، ان سے سیکھ کر ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں گزشتہ دنوں ہاؤسنگ کالونیاں بنانے کے لیے لاکھوں آم کے درختوں کو کاٹ دیا گیا جو سرا سر ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ ابھی بھی ہمارے بچنے کے کچھ راستے باقی ہیں لیکن اس کے لیے وزیراعظم کی دلچسپی اور احکامات کی فوری ضرورت ہے، ہمیں نئے عزم کے ساتھ ملک کو سرسبز کرنے میں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ہم با ئیس کروڑ ہیں،اگر ہم سب ہر سال دس درخت فی کس لگائیں تو سوچیں اگلے پانچ سالوں میں ہم کتنے درخت لگا چکے ہوں گے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اگلے کئی سال ہم پانی ضائع نہیں کریں گے اور حکومت جلد از جلد ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ملک میں نئی نہریں تعمیر کرے اور پہلے سے موجود نہروں کی حالت میں بہتری لائے تاکہ ہم پانی کا آخری قطرہ بھی استعمال کر سکیں اور ہمارا ساٹھ فیصد پانی جو سمندروں میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے انہیں ہم اپنی کاشتکاری کے لیے استعمال میں لا سکیں۔ انشاء اللہ بہت جلد پاکستان پھر سے سرسبز و شاداب اور آباد نظر آنے لگے گا۔

مزید :

رائے -کالم -