حادثات اور ان کی روک تھام!

حادثات اور ان کی روک تھام!
حادثات اور ان کی روک تھام!

  

پاکستان کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لئے انفرادی اور مشترکہ ہر دو سطح پر کام ہوتا رہا ہے، مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم زندگیوں کو محفوظ طریقے سے بچانے کے لئے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل تیار نہیں کر سکے۔ یہاں تک کہ آنے والے خطرات اور حادثات سے بچنے کے لئے اپنے معاشرے کو دماغی طور پر محفوظ رہنے کے لئے کوئی تبدیلی نہیں لا سکے۔ اگر کہیں تبدیلی آئی بھی ہے تو آٹے میں نمک کے برابر....دیکھا جائے تو سڑک پر ہونے والے حادثات کے باعث 1.3 ملین لوگ مر جاتے ہیں، تقریباً 50 ملین زخمی اور معذور ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا میں ہونے والے حادثات کی تعداد ہے۔ پاکستان میں حادثات کی نوعیت بہت خراب اور شاید زیادہ ہے۔ ریسکیو1122 کی روزانہ حادثات پر مبنی رپورٹ کی تعداد450 ہے جو پورے پنجاب میں ہونے والے حادثات کی تعداد ہے۔ اگر پورے پاکستان کی تعداد کو دیکھا جائے تو صورت حال پر افسوس ہو گا۔ کسی بھی نوعیت کا حادثہ کسی غلطی کے باعث رونما ہوتا ہے۔ یہ غلطی چاہے عمارت میں آگ لگنے کے باعث ہو، غلط طریقے سے سائیکل، موٹر سائیکل یا پیدل چلتے ہوئے لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا ، کسی بھی صورت میں سامنے آئے، غلطی کہلائے گی، جس کو بعد میں حادثہ کہا جاتا ہے۔

 کچھ ہی عرصہ ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ایک تقریب میں جو Helmets for all کے نام سے ایک مہم شروع کی تھی، اس کا مقصد بھی لوگوں کی جان کی حفاظت کرنا تھا، گو کہ ہر اچھے کام پر بعد میں تنقید ضرور ہوتی ہے، لہٰذا جن کو اچھے کاموں سے محبت ہو، وہ تنقید کی پروا کئے بغیر لوگوں کو تحفظ اور محفوظ رکھنے کے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ گو مَیں اس تقریب میں شامل تھی اور بعد میں سڑکوں پر اکثر بغیر ہیلمٹ کے لوگ دیکھتی رہی، جس سے مَیں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ شاید ہم حادثوں سے بچنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ حادثے سے پہلے خود کو محفوظ رکھنے کے بارے میں سوچیں تو شاید دنیا کے باقی ممالک کی طرح چونکہ پاکستان میں بھیSafe Communities Pakistan کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے پیچھے پہلے مسلمان برٹش پارلیمینٹرین چودھری ایم سرور ہیں، جو Safe Communities Pakistan کے صدر اور ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس کے سیکرٹری جنرل ریسکیو 1122کے ڈاکٹر رضوان نصیر ہیں۔ یہ نہ صرف مل کر کام کریں گے، بلکہ ہونے والے حادثات اور خطرات کی نشاندہی اور بچاو¿ کی مناسب کوشش اور عملی اقدامات جو Safe Communities کے لئے ضروری ہوں، اُن پر عملی اقدامات کریں گے۔

11 مارچ کو چودھری سرور اور ڈاکٹر رضوان نصیر کے ساتھ مختلف طبقات سے لوگ اسSafe Communities Pakistan کے لئے اور اس کے پھیلاو¿ اور مناسب عملی اقدامات اور معاشرے میں اس تبدیلی کو زمینی طور پر قبول کرنے اور عمل کرنے کے لئے ہر سطح پر کام کرنے کا عہد کیا گیا۔ یہ تین لفظوں پر مشتمل نام اپنے اندر بے شمار مسائل کا حل لئے ہوئے ہے۔ اس پہلی میٹنگ میں خوش آئند بات یہ تھی کہ چودھری سرور نے مکمل تیار آفس SafeCommunitaties Pakistan کے لئے وقف کر دیا۔ ڈاکٹر رضوان نصیر کی دور اندیشی اس کو بھانپ گئی تھی اور کہ ریسکیو 1122 کی کامیابی کے بعد وہSafe Communities Pakistan کے پروگرام کو مکمل محنت اور لگن کے ساتھ کرنے کے لئے کچھ دیگر ساتھیوں کو شامل کیا جائے، جنہوں نے اس پروگرام میں ہر سطح پر ان کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اب اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ لوگ اپنی اور دوسروں کی جان کی کتنی پروا کرتے ہیں، کیونکہ زندگی صرف ایک بار ملنی ہے، اس کو اپنی لاپرواہی سے ضائع ہونے سے ہر ممکن طریقے سے بچایا جائے۔   ٭

مزید :

کالم -