یہی تو ”جمہوریت “ہے

یہی تو ”جمہوریت “ہے
 یہی تو ”جمہوریت “ہے

  

پیپلز پارٹی کے نزدیک یہی ”جمہوریت“ ہے کہ غریب عوام کو سبز باغ دکھا کر صرف ووٹ دینے کے لئے استعمال کرے اور ان کے ووٹوں سے حکومت میں آنے کے بعد سرکاری وسائل اور خزانے کو کسی مفتوح ملک کے مال غنیمت کی طرح فاتح افواج کی مانند لوٹا، بلکہ نوچا کھسوٹا جائے اور مراعات یافتہ متمول احباب میں خزانہ لٹایا اور تقسیم کیاجائے۔ نیز اس لوٹ مار اور نوچ کھسوٹ میں اس بات کی قطعی پرواہ نہ کی جائے کہ عام لوگ کیا کہیں گے، اور کیا سوچیں گے، چنانچہ اس کا حالیہ شرمناک مظاہرہ 15مارچ کو سندھ اسمبلی کے آخری اجلاس میں دیکھا گیا.... سندھی زبان کے سب سے بڑے اخبار ”کاوش“ نے شاید حکام کی دیدہ دلیری کو بے نقاب کرنے کے لئے ہی یہ خبر شہ سرخی میں شائع کی ہے، جس کے الفاظ ہیں .... ”سندھ اسمبلی نے جاتے جاتے وزیراعلیٰ، سپیکر، وزیروں اور ممبران کو نواز دیا، پانچوں انگلیاں گھی میں“ .... ”وزیراعلیٰ اور سپیکر کے لئے تاحیات 70 فیصد تنخواہ اور چھ ملازم، وزیروں کے لئے 40اورممبران کے لئے 60فیصد اضافی تنخواہ منظور، دوسری مراعات جدا“۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو گریڈ17 کے عہدے کے پرائیویٹ سیکرٹری، ڈرائیور، باورچی ، باغبان اور سینیٹری ورکر سمیت 6ملازمین خود بھرتی کرکے رکھنے اور ان کی تنخواہیں سرکاری خزانے سے وصول کرنے کی مراعات کے ساتھ ساتھ تمام عمر کے لئے پولیس کی سیکیورٹی ملے گی اور فون کی سہولت کے لئے 10 ہزار روپے بھی دیئے جائیں گے۔

پیپلز پارٹی نے اس ”اندھے“ کی طرح جو ریوڑیاں صرف اپنوں میں بانٹتا ہے، یہ مراعات صرف اپنے لئے مخصوص رکھنے کی خاطر منظور ہونے والے بل میں یہ ”آنکڑہ“ لگادیا ہے کہ ان مراعات کے حق دار کم از کم چار سال تک عہدے پر رہنے والے لوگ ہوں گے۔ گزشتہ تقریباً تمام وزرائے اعلیٰ اور سپیکروں نے چار سال کی مدت پوری نہیں کی، لہٰذ ا مذکورہ مراعات کے حقدار قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور شہلا رضا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوگا۔ یہ عوام کی بد قسمتی کہ بدبختی کے سیاہ دور میں عوام کی بہبود، ان کے سکھ چین، امن و امان ،روزگار ، کاروبار ،بازار کے بھاﺅ ،تعلیم اور علاج معالجے کے تعلق سے پانچ سال کی مدت گزارنے والے کسی شرمندگی اور افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے عوام کی گرد نوں پر لمبے عرصے تک سوار رہنے کا خراج بھی وصول کررہے ہیں اور اپنے ہی پاس کردہ قانون سے سرکاری خزانے کے بل بوتے پر غیر معمولی مراعات کے حقدار بن رہے ہیں.... کیا پیپلز پارٹی کی ”جمہوریت “ اسی طرح سے مراعات یافتہ طبقے کے لئے سرکاری طور پر مراعات در مراعات حاصل کرنے کا نام ہے؟

حیرت کی ایک بات یہ ہے کہ وزیروں کو تنخواہوں میں 40فیصد اور ممبران کو 60فیصد منظور کیا جانے والا اضافہ جولائی 2011ءسے ملے گا اور وہ اس ناتے لاکھوں کروڑوں روپے وصول کر لیں گے ، جبکہ وہ سرکاری گیسٹ ہاﺅس اور ایئرپورٹس کے وی آئی پی لاﺅنج کی سہولتوں کے بھی حق دار ہوں گے، حتیٰ کہ جن وزیروں اور ممبران کا انتقال ہوگیا ہے ،ان کی بیواﺅں اور جو خواتین ممبران بےوہ ہوگئی ہےں، ان کے رنڈوے شوہر بھی ان مراعات کے اتنے ہی حق دار ہوں گے۔ ہوش رُبا لوٹ مار کی اس ہوش رُباخبر کو ”کاوش“ نے جس نمایاں انداز اور جن الفاظ کے ساتھ شائع کیا ہے، وہ بذات خود ایک تبصرہ، بلکہ ایک طمانچہ ہے.... پاکستان کتنا بدقسمت ملک ہے کہ، اس کی عمر عزیز کا نصف حصہ فوجی حکومتوں کے تحت گزرا اور بقیہ نصف عرصے میں، جو منتخب حکومتیں برسراقتدار آئیں اور جن اسمبلیوں کو عوام کی بہبود اور خوشحالی کے کام کرنے کے مواقع ملے، انہوں نے عوام کو حد درجے مایوس کیا۔

تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو بہت سے شرمناک واقعات پارلیمانی تاریخ کا حصہ بنے ہوئے نظر آئیں گے۔ ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ قومی اسمبلی کے حوالے سے2مئی 1992ءکا ہے، جب قرضوں کے بوجھ تلے دبے غریب ملک کے عوامی نمائندوں نے اپنے تمام باہمی اختلافات اور جماعتی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مراعات میں 100فیصد اضافے کا بل منظور کیا تھا تو 4مئی 1992ءکے ”نوائے وقت“ نے یہ خبر شہ سرخی میں ان الفاظ کے ساتھ شائع کی تھی.... ”صدر، وزیراعظم اور ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں سو فیصد اضافہ“ .... جبکہ ذیلی سرخیوں میں شرمناک تفصیل موجود تھی ،مثلاًپہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں اتفاق رائے تھا۔ صرف ایک رکن اسمبلی سید ظفر علی شاہ (جن کا تعلق ضلع نوشہروفیروز سے ہے اور جنہوں نے حال ہی میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کی ہے)نے اعتراض کرتے ہوئے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔

 منظور ہونے والے بل کے مطابق مراعات کا اطلاق 1975ءسے اب تک تمام سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، سابق وفاقی وزراءاور سابق ارکان پارلیمنٹ پر ہونا تھا اور بل کے مطابق کسی قسم کی ڈیوٹی اور ٹیکس کے بغیر تمام ارکان پارلیمنٹ کسی بھی قسم کی گاڑی درآمد کرنے اور بلا لائسنس اسلحہ رکھنے کے حقدار بھی ہوگئے تھے، لیکن اس بل کی منظوری پر جب ایک بھونچال اُٹھا اور چاروں طرف سے لعنت ملامت کی گئی تو یہ بل واپس لے لیا گیا، مگر1992ءکے مقابلے میں یہ توقع عبث ہے کہ 2013ءکی سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ ، سپیکر ، وزیروں اور ممبران کے لئے مراعات کے نام سے لوٹ مار کا جو بل منظور کیا گیا ہے، اسے عوام اور میڈیا کی جانب سے لعنت ملامت کے بعد واپس لے لیا جائے گا ، کیونکہ یہ بل اسمبلی کے آخری اجلاس میں منظور ہوا ہے اور جب تک نگران حکومت بنے گی، اس بل کے تحت ادائیگیاں اور وصولیاں ہوچکی ہوں گی۔ نگران حکومت کے دور میں بھی اس حوالے سے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا وقت ملے گا، کیونکہ بیوروکریسی میں ”جیالوں “ کی فوج بیٹھی ہے، لہٰذا اگر آنے والی کسی دوسری حکومت نے پہیہ اُلٹا گھمانا بھی چاہا تو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

1992ءاور2013ءکے درمیان 20سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، لیکن ہم نے اچھی پارلیمانی روایات کے تعلق سے جمہوریت کو نیک نام بنانے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا اور حقیقت یہ ہے کہ یا تو ہم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف لڑھک رہے ہیں یا پھر منیر نیازی کے بقول ”حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ“ کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔

مولانا عبدالستار خان نیازی ایک بہت جرا¿ت منداور نڈر رہنما تھے ۔ انہوں نے 1992ءمیں حکومت کے اتحادی کی حیثیت سے وزیر مذہبی امور ہونے کے باوجود سچ بولنے کی راہ میں وزارت کو آڑے نہیں آنے دیا تھا اور غالباً مارچ 1992میں نہ صرف برملا یہ اعتراف کیا تھا کہ وہ بے اختیار وزیر ہےں، بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت کی غلطیوں کو نمایاں نہ کیا گیا تو پھر للو کی جگہ کوئی کلو آجائے گا ۔ عبدالستار خان نیازی کی یہ بات ہر دور کے سیاسی کارکنوں، خصوصاً کسی بھی حکمران جماعت کے ذمہ داروں کے لئے نشان راہ تھی اور ہے ،مگر ہم نے بروقت سچ نہ بولنے اور غلط فیصلوں پر روکنے ٹوکنے کی اخلاقی قوت سے تاحال محروم ہونے کا مظاہرہ کرکے للو کی جگہ کسی کلو کے آنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ شاید 2013ءکے انتخابات کے نتائج کا ایک المناک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے۔     ٭

مزید :

کالم -