پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے سیکورٹی خدشات دور ہونے چاہئیں

پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے سیکورٹی خدشات دور ہونے چاہئیں

  

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان میں تجارت و سرمایہ کاری کے بہترین مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ سکیورٹی خدشات ہیں جو اگر دور ہوجائیں تو پاکستانی معیشت تیزی سے بحال ہوسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان میں چیک ریپبلک کے سفیر میروسلاو کرینک نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر کاشف انور، چیک ریپبلک کے اعزازی قونصل کمال منوں، سابق نائب صدر سعیدہ نذر، ایگزیکٹو کمیٹی اراکین چودھری محمد اسلم، طلحہ طیب بٹ اور سابق ایگزیکٹو کمیٹی رُکن رحمت اللہ جاوید نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ سفیر نے کہا کہ غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی حکومت کو امن و امان کی صورتحال پر خاص توجہ دینا ہوگی جو معاشی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چیک ریپبلک زیادہ تر تجارت علاقائی ممالک کے ساتھ کررہا ہے لیکن پھر بھی پاکستانی تاجروں کے لیے تجارت اور مشترکہ منصوبہ سازی کی سیع گنجائش ہے جس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ا نہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت پوٹینشل کی عکاس نہیں ، اس سلسلے میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چیک ریپبلک انجینئرنگ اور پاور پلانٹس کی پروڈکشن میں خاص مہارت رکھتا ہے۔

 اور وہاں کے تاجر ان شعبوں میں پاکستانی تاجروں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کو تیار ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ پاکستان اور چیک ریپبلک کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم ٹھوس اقدامات کا تقاضا کرتا ہے جن میں سرِفہرست تجارتی معلومات کا تبادلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معلومات کے فقدان کا خلا پر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اپنا بھرپور کردار ادا کریں، تجارتی وفود کا تبادلہ اور سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چیک ریپبلک کو آلات جراحی، کھیلوں کا سامنا، تازہ پھل، سبزیاں، قالین، ہینڈی کرافٹس، چاول، مچھلی ، ٹیکسٹائل اور لیدر مصنوعات برآمد کرسکتا ہے۔ پاکستان کے میڈیکل ایکویپمنٹ، فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے چیک ریپبلک کے سرمایہ کار نہ صرف بھاری فائدہ اٹھاسکتے ہیں بلکہ وسطیٰ ایشیائی ریاستوں ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک تک رسائی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول بتدریج بہتر ہورہا ہے، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری پالیسی بہترین ہے جبکہ سرمائے اور منافع کی وطن ترسیل پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چیک ریپبلک کو برآمدات میں لیدر اور ٹیکسٹائل مصنوعات قابلِ ذکر ہیں لیکن چیک ریبپلک کی کُل درآمدات میں ان کا حصہ بہت کم ہے۔ پاکستان کی چیک ریپبلک سے درآمدات میں مشینری، پیپر اینڈ پیپر بورڈ اور الیکٹریکل ایکویپمنٹ شامل ہیں۔

مزید :

کامرس -