پاکستان کی خارجہ پالیسی ؟

پاکستان کی خارجہ پالیسی ؟
 پاکستان کی خارجہ پالیسی ؟
کیپشن: nasar ch

  

پاکستان کو جہاں دشمنوں کا سامنا ہے، وہیں ناقص خارجہ پالیسی کی وجہ سے کئی دوست ممالک بھی مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ملکی روابط قومی سطح پر قائم کرنے کی بجائے ذاتی سطح پر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بننے کے بعد سعودی عرب کے شاہی خاندان کے اہم افراد کے دوروں کے بعد ولی عہد اور وزیر دفاع بھی پاکستان آئے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کی مضبوطی اور اچھے روابط خوش آئند ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان برادر ملک ہیں اور کڑے وقت میں پاکستانی حکمرانوں کے لئے مددگار کے طورپر بھی اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو بھی مشکل حالات میں سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ہی سہارا فراہم کیا تھا ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات کے باوجود بعض معاملات ایسے بھی ہیں، جنہیں تشویشناک قرار دیاجاسکتا ہے۔ پاکستان میں عسکریت پسندی انتہائی خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہاں موجود عسکریت پسند محض چند مقامی افراد کا گروہ ہرگز نہیں ، بلکہ ان کے انداز کار سے واضح ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس میں غیرملکی ہاتھ بھی ملوث ہیں۔ ان غیرملکی طاقتوں میں پاکستان مخالف طاقتوں کے نام تو لئے ہی جاتے ہیں، لیکن بعض دوست ممالک پر بھی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں خارجہ پالیسی بھی ہرحکومت کے ساتھ ہی تبدیل ہوجاتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پاکستان کے ایران سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں، جبکہ مسلم لیگ کے دور حکومت میں سعودی عرب سے تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح مارشل لاءکے دور حکومت میں امریکہ سے اتحاد کے گن گائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی مستقل رہنے کی بجائے ہر حکومت کے ساتھ ہی بدل جاتی ہے۔

خارجہ پالیسی میں غیر مستقل مزاجی اس لحاظ سے خطرناک ثابت ہوتی ہے کہ دوست ممالک بھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اپنے مفادات کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے کھینچا تانی شروع ہوجاتی ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں جہاں سی آئی اے نے فنڈنگ کی، وہیں سعودی عرب نے بھی بھرپور مالی تعاون کیا، پاکستان میں بننے والے کئی جہادی گروپوں اور مدارس کو سعودی عرب سے امداد ملتی رہی۔ اس طرح دوسری جانب متعدد امام بارگاہوں کو ایرانی ”تعاون “ بھی حاصل ہوگیا ۔ دوممالک کی باہمی کھینچا تانی کی سرد جنگ پاکستان میں ”گرم جنگ “ بن گئی، جس کے اثرات آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی ان عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایف سی کے یرغمال اہلکاروں کو بھی افغانستان میں قتل کیا گیا تھا۔ افغانستان کے صدر کرزئی نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کام کرنے والے عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ امریکہ کے سامراجی عزائم کے باوجود کئی مسلم ممالک امریکہ کے اتحادیوں میں نظر آتے ہیں۔

سوویت یونین کے خلاف جنگ سے لے کر آج تک سعودی عرب بھی امریکہ کا بڑا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح شام پر حملے کے حوالے سے امریکی فیصلے پر شدید پریشانی کا اظہار کرنے والوں میں سعودی عرب اور اسرائیل سرفہرست نظر آتے تھے۔ سعودی عرب کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول کی وجہ سے مسلم دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ پاکستان میں اپنی مضبوط جڑیں رکھنے کی وجہ سے برادر ملک اہم فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے، جس کی ایک مثال میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ایک معاہدے کے تحت جیل سے نکال لے جانا اور پھر معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی واپس آنے کی اجازت دلوانا بھی شامل ہے۔ پاکستان کی جانب سے دوست ممالک کو داخلی امور میں شامل کرنا بعض حوالوں سے انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ آصف علی زرداری کے دور میں ایران سے اہم معاہدے ہوئے لیکن سعودی عرب کو نظرانداز کیا گیا جبکہ اب ایران کو نظرانداز کرکے سعودی عرب سے تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایران، جو گزشتہ سال پاکستان سے اہم معاہدے کررہا تھا ،اب پاکستان میں فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید :

کالم -