تھری اور فور جی سپکیٹرم کے آغاز سے 10لاکھ ملازمتیں پیدا ہونگی

تھری اور فور جی سپکیٹرم کے آغاز سے 10لاکھ ملازمتیں پیدا ہونگی

  

                                        اسلام آباد (اے پی پی) تھری اور فور جی سپیکٹرم کے آغاز سے پاکستان میں روزگار کے 9 لاکھ 90 ہزار نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ اس سے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 380 ارب روپے کا اضافہ ہوگا اور 2020 تک جی ڈی پی میں مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے۔ برطانوی ادارے پلم کنسلٹنگ کی ” پاکستان میں تھری جی کے اقتصادی اور سماجی فوائد“ کی رپورٹ کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے کئی پاکستانی صنعتوں میں معاشی انقلاب آئے گا۔ سال 2020 تک قومی پیداوار میں 0.13 پوائنٹس کا سالانہ اضافہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی سروسز سے سماجی مفادات میں بھی وسیع اضافہ ہوگا جبکہ اس سے تعلیم اور صحت کے شعبوں کی سہولتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اقتصادی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق براڈ بینڈ اور جی ڈی پی میں گہرا مثبت تعلق ہے جس سے کم آمدنی اور زائد آمدن والے طبقات کو یکساں فوائد حاصل ہوں گے۔ جی ڈی پی میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں ٹیکس وصولیوں میں 23 ارب روپے کی اضافی وصولی سمیت حکومت کی آمدن میں مجموعی طور پر 70 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ حکومتی محصولات میں ہونے والے اضافہ سے ملک کی سماجی ترقی میں بھی بڑی حد تک معاونت حاصل ہوگی۔ براڈ بینڈ ٹیکنالوجی سے ملک کی مجموعی معیشت پر انتہائی خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے اور موبائل براڈ بینڈ کی معاونت سے زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی جس سے بے روزگاری کے خاتمہ سمیت وسائل آمدنی میں اضافہ سے ملکی معیشت کی ترقی میں مدد ملے گی۔

مزید :

کامرس -