اقتصادی بحالی کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اصلاحات کے نتائج ظاہر ہونے لگے

اقتصادی بحالی کے لیے حکومتی پالیسیوں اور اصلاحات کے نتائج ظاہر ہونے لگے

  

                           اسلام آباد (اے پی پی) رواں مالی سالی 2013-14 کے پہلے 8 ماہ کے دوران موجودہ حکومت کی اقتصادی بحالی کے لئے جامع پالیسیوں اور اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔ حکومتی اقدامات اور بہتر انتظام کے نتیجے میں شرح نمو، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں اضافہ جبکہ مہنگائی اور مالیاتی خسارہ میں کمی آئی ہے۔ وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 8ماہ کے دوران ملک میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4.4 فیصد جبکہ افراط زر جی ڈی پی کا 8.6فیصد رہی، اس عرصہ میں ٹیکس وصولیاں 17.7فیصد اضافہ کے ساتھ 1348ارب روپے ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اس عرصہ میں 1145ارب روپے تھیں۔ اسی طرح بجٹ خسارہ جو گزشتہ مالی سال کے پہلے 8ماہ کے دوران 4.4فیصد تھا رواں مالی سال کے اتنے ہی عرصہ میں کم ہو کر 3.1فیصد ہو گیا ہے۔ رواںسال 28فروری تک ترسیلات زر کا حجم 10.24 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 9.23بلین ڈالر تھا، اس طرح رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ ملکی برآمدات کا حجم 15.88ارب ڈالر سے بڑھ کر رواں سال کے دوران 16.86ارب ڈالر ہو گیا ۔ ملک کامالیاتی خسارہ 8.8فیصد سے کم کر کے 8فیصد تک لایا گیا ہے جسے موجودہ حکومت رواں سال کے اختتام تک 6فیصد جبکہ اپنے دور میں 4فیصد تک لائے گی ۔

سی طرح ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ کا رجحان پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، اس کا اثر ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر پڑے گا جس کا فائدہ عام آدمی کو بھی پہنچے گا۔ اس عرصہ میں پاکستانی معیشت میں بہتری کے دیگر اشارے بھی ظاہر ہوئے ہیں جس کا ثبوت رواں مالی سال کے پہلے 8ماہ کے دوران ملک میں2490نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اس عرصہ میں 2166نئی کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی تھی، اس طرح ایس ای سی پی کے پاس نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 11فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ملکی معیشت کی کارکردگی کے پیش نظر حکومت جی ڈی پی کی شرح نمو کا 4.5فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے حوالے سے پر اعتماد ہے جو لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں 13.2فیصد کی شرح نمو سے ظاہر ہو رہا ہے۔ حکومت نے زرعی شعبہ کو ترقی دینے کے عزم کے تحت اس سال چھوٹے زرعی قرضوں کے لئے مختص رقم 336ارب روپے سے بڑھا کر 380ارب روپے کرنے کا عندیہ بھی ظاہر کیا ہے جس سے کسانوں سہولت ملے گی اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹوں نے بھی 37فیصد کی بے مثال شرح نمو حاصل کی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9.52ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،حکومت کو توقع ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک 10ارب ڈالر کے ذخائر کا ہدف حاصل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی معاشی شعبہ میں موجودہ ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنے میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔ ایک معروف جاپانی مالیاتی ادارے جیڑو نے پاکستان کو کاروبار کی ترقی کے حوالے سے دنیا دوسرا بڑا ملک قرار دیا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پیشنگوئی کی ہے کہ پاکستان 2050ءتک دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بن جائے گا۔

مزید :

کامرس -