یہ ناٹک نہیں چلے گا

یہ ناٹک نہیں چلے گا
 یہ ناٹک نہیں چلے گا
کیپشن: ali hassan

  

اس تماش گاہ میں عوام یہ ناٹک دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ ناٹک کرنے والے بڑے دانا ہیں اور ناٹک دیکھنے والے بڑے نادان۔ اردو لُغت میں بہت ہی کم الفاظ ایسے ہوں گے جنہیں الٹ کر پڑہا جائے تو وہ ہی ہوں جیسے الٹے بغیر تھے۔ ان میں ایک لفظ نادان ہے۔ لوگ نادان نہیں ہیں۔ سادہ لوح ہیں اور معاشرتی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وزراء، انتظامیہ ، پولس اور عدالت ان کی پہنچ سے دور ہیں۔ اسی لئے ناٹک دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ سیاست داں آپس کے اختلافات کو نمٹانے کا ہنر جانتے ہیں ، اس ہنر سے عوام نا آشنا ہیں اسی لئے آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں۔ تھر پارکر میں بچوں کی اموات اور عام لوگوں میں گندم کی بر وقت تقسیم نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر کو ہٹایا۔ سرکاری ملازمین کو اس طرح ہٹانے کے فیصلے تو ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ چونکہ ڈپٹی کمشنر عقیل الزماں مخدوم امین فہیم کے بیٹے ہیں تو مخدوم امین فہیم آگ بگولہ ہو گئے۔ ابھی وہ اپنی ہی آگ میں جل رہے تھے کہ ایک اور بیٹے جمیل الزماں سے ان کا قلم دان واپس لے لیا گیا۔ جمیل ریوینیو، امداد اور بحالی کے وزیر تھے۔ مخدوم کے ایک اور بیٹے شکیل الزماں بھی سرکاری ملازم ہیں۔ ان بیٹوں کو امین فہیم نے طریقہ کار سے ہٹ کر سرکاری ملازمت میں براہ راست بھرتی کرایا تھا۔ ایک ایسی رعایت جو عام لوگوں کو حاصل نہیں ہے۔ بی بی کی شہادت کے بعد پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے والے آصف علی زرداری نے پارٹی کی مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم مخدوم امین فہیم ہوں گے، لیکن بعد میں آصف زرداری نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور خود صدر منتخب ہونے کی ٹھان لی۔ مخدوم ایک طرف کر دئے گئے، لیکن مخدوم سے برداشت نہ ہوا اور انہوں نے ایسے ایسے جتن کئے کہ آصف زرداری نے انہیں پاکستان کا وزیر تجارت مقرر کرا دیا۔ ان کی وزارت کے خلاف سپریم کورٹ اور نیب میں بدعنوانی کی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جن کے نتیجے میں ملنے والی بدنامی سے خدا اپنی پناہ میں رکھے۔ صاحبزادگان کی برطرفیوں کے خلاف سیخ پا مخدوم نے سیاست دکھائی، پیر پگارو کی عیادت کے لئے پہنچ گئے۔ تین گھنٹے تک ملاقات ہوئی جس میں تنہا ئی میں بھی گفتگو ہوئی۔ آصف زرداری متحمل نہیں ہو سکتے ہیں کہ پیپلز پارٹی میں کوئی فارورڈ گروپ تشکیل پائے۔ سندھ اسمبلی میں مخدوم گروپ کے تین اراکین تو گھر کے ہیں۔ پھر ان کے مریدین کی تنظیم سروری جماعت نے بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف احتجاج کیا۔ اس سے قبل جب پیپلز پارٹی کی سندھ کونسل کا اجلاس ہوا تو اس میں شریک کسی بھی رکن نے مخدموں کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ ابھی بات کوئی اور رنگ اختیار کرتی ، قائم علی شاہ معافی تلافی کے لئے مخدوم کے گھر پہنچ گئے۔ وزیر اعلیٰ شاہ صاحب نے ہاتھ باندھ کر باقاعدہ معافی مانگی۔ قائم علی شاہ میں بھی برداشت کا مادہ بلا کا ہے۔ یہ تو مخدوم ہیں ، انہوں نے پیپلز اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے مرحوم نجیب کی غیر اخلاقی بدتمیزی کو در گزر کیا تھا۔

قائم علی شاہ اور مخدوم کا معاملہ تھر کی صورت حال پر سرکاری طریقہ کے مطابق کارروائیوں کے بعد شروع ہوا۔ سندھ میں سیاست پر گرفت رکھنے والوں نے بیوروکریسی میں بھی پنجے گاڑ لئے ہیں۔ تھر ہی کو دیکھیں۔ مخدوم اپنے بیٹوں کو وہیں ڈپٹی کمشنر لگواتے ہیں۔ دونوں بیٹے براہ راست کسی امتحان کے بغیر صوبائی بیورو کریسی میں داخل کر ائے گئے۔ سیلاب کے زمانے میں شکیل الزمان ڈی سی او تھے۔ انہیں بھی صفر کارکردگی کی وجہ سے تبدیل کیا گیا تھا۔ انہی شکیل الزمان کے بھائی عقیل الزماں تھے۔ حالانکہ مخدوم صاحبزادگان کو تھر پارکر کی خدمت اس لئے زیادہ کرنا چاہئے کہ یہاں مخدوم امین فہیم کے مریدین کی تعداد اتنی زیادہ ہے جن کے بل پر وہ اپنے بیٹوں کو بھی اس علاقے سے انتخابات بھی لڑاتے ہیں ۔ مخدوم کو اپنے بیٹوں کے خلاف کارروائیوں پر اعتراض ہے۔ انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ پیر تو غلطی سے مبرا ہوتے ہیں ۔ اپنے ایک بیٹے کے دفاع میں ان کا اصرار ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت کو مطلع کر دیا تھا، لیکن کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا گیا۔ دوسرے بیٹے جو امداد کے محکمے کے وزیر تھے خود ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ناسازی طبیعت کے پیش نظر اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ کوئی تو تھر پارکر میں پیدا ہونے والی اس صورت حال کا ذمہ دار ہے۔ سید قائم علی شاہ اور مخدوم امین فہیم خود فیصلہ کریں کون ذمہ دار ہے۔ ایک دوسرے کو کہہ کر بات کو نہ ٹالیں کہ آپ ہمارے بڑے ہیں، آپ ہمارے بڑے ہیں۔ اتنے بچے جو مر گئے ، یقیننا ان بڑوں کے بچے نہیں تھے اس لئے مر گئے اور ان نام نہاد بڑوں کو اتنی بڑءتعداد میں ہلاک ہوجانے والے بچوں کی موت کا کوئی دکھ ہی نہیں ہوا۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے دوسری طرف سندھ میں عملًا ایک ہی وقت میں کئی وزیر اعلیٰ کام کرتے ہیں۔گزشتہ پانچ سال کے دوران بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ اسی روش کو دہرایا جارہا ہے۔ آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، بلاول زرداری بھٹو، سب ہی وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ اویس مظفر نے بھی وزیر مقرر ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آصف علی زرداری نے انہیں کسی اور وجہ سے وزارت سے ہی فارغ کردیا۔ اصل وزیر اعلیٰ بس دیکھنے کے ہیں۔ انہیں اپنی بات کہنے اور منوانے میں مشکلات سے ہی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ بیورو کریسی میں بھی وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بات کم ہی سنی جاتی ہے۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ ہمیشہ وفاق کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ اس مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ وفاق کی ماتحتی سے محفوظ ہیں ،لیکن وزیر اعلیٰ کی کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ کوئی معاملہ پیدا ہوتا ہے تو ساری انگلیاں ان کی طرف ہی اٹھتی ہیں۔ سید قائم علی شاہ ہیں کہ اپنی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو اس طرح موڑ دیا کرتے ہیں جیسا انہیں نے مخدوم امین فہیم کے معاملے میں کیا۔ ایک دوست بتا رہے تھے کہ ایک زمانے میں انہیں رات دیر گئے گھر جانے کی عادت تھی۔ جب وہ گھر پہنچتے تھے تو ایک ہاتھ سے گھنٹی بجاتے تھے دوسرے میں اپنا ایک جوتا تھام لیتے تھے۔ جیسے ہی ان کی بیگم دروازہ کھولتیں تو وہ جوتا بیگم کو تھمادیتے تھے اور کہتے تھے کہ کل بھی دیر سے آﺅں گا۔ بیگم بے چاری ہکا بکا رہ جاتی اور اپنا رد عمل ظاہر کئے بغیر شوہر کی خیریت دریافت کرنے میں لگ جاتی۔

فوجی بھی تھر پارکر کے لوگوں کی مدد کے لئے سر گرم ہیں۔ فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب نہیں کہا گیا ہے، بلکہ وہ خود آگئے ہیں۔ جب فوج کو باضابطہ طور پر مدد کے لئے طلب کیا جاتا ہے تو حکومت اسے بعض ضروری خرچے ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ حکومت نے فوج کو طلب نہیں کیا ۔ فوج نے یہ کام اپنی مدد آپ کے تحت کیا ہے ۔ تمام چھوٹے بڑے عملے کا ایک روز کا راشن تھر میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ اخراجات کے لئے فوج اپنے وسائل استعمال کر ر ہی ہے۔ فوجی ایسے ایسے علاقوں میں جا رہے ہیں جہاں سول انتظامیہ سالوں نہیں جاتی ہے۔ تھر پار کر کی ایک تحصیل چھاچھرو ہے۔ چھاچھرو کے علاقے کھینسر سے چالیس کلومیٹر دور ریگستان میں مٹھری چارن ایک گاﺅں ہے۔ اس گاﺅں کی پچانوے فیصد آبادی غیر مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ اس علاقے سے قومی اسمبلی کے لئے پیر نور محمد جیلانی منتخب ہوئے ہیں، اس علاقے میں ان کا اثر اس لئے ہے کہ ان کے مریدین رہائش رکھتے ہیں، لیکن اپنے اثر و نفوذ کے باوجود وہ شاہ محمود قریشی کے مقابلے میں صرف 2051 ووٹ زائد لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ علاقے میں پیری مریدی اور برادری کی بنیاد پر ووٹ دینے کی وبا ءاتنی گہری ہے کہ خدمت اور اہلیت پر بھی چھا جاتی ہے۔ دوست محمد راہموں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ۔ صوبائی وزیر بنائے گئے۔ زکات کا محکمہ ان کے پاس ہے۔ ڈبہ بھرو مہم کے باوجود راہموں اپنے مخالف سے صرف 780 ووٹ زائد حاصل کر سکے تھے۔

مٹھری چارن میں لوگوں نے کور کمانڈر کو بتایا کہ اس علاقے میں انتظامی افسران اور عوامی نمائندے آتے ہی نہیں ہیں۔ جنرل سجاد غنی نے ایک سے زائد بار لوگوں سے معلوم کیا کہ آپ تک کوئی امداد نہیں پہنچی۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ گھبرائیں نہیں، راشن لائے ہیں، ابھی بھی دیں گے اور بعد میں بھی دیں گے۔ علاج کے لئے عملہ بھی آگیا ہے ۔ کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فوج یہ حکومت آپ کی ہے اور آپ کی ہر طرح مدد کرے گی۔ ایک آدمی جھکا اور جنرل کے پاﺅں چھونے لگا۔ جنرل نے اسے بازو پکڑ کر کھڑا کیا اور کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ساتھ موجود رہیں گے۔ سرکاری ڈسپنسری میں بھرتی کئے گئے ڈاکٹر کبھی آتے ہی نہیں ہیں، ڈسپنسر ڈاکٹر کی خدمات انجام دیتا ہے۔ مٹھڑی کو چھوڑیں یہ تو ایک دور افتادہ ایسا گاﺅں ہے جو پاکستان اور بھارت کی سرحد سے کچھ فاصلے پر واقع ہے جہاں پاکستانی نشریاتی اداروں کی نشریات نہیں پہنچتی ہیں، بلکہ بھارت کے ریڈیو اتنے صاف سنائی دیتے ہیں جیسے ان ہی گاﺅں سے نشریات ہو رہی ہوں۔ کھینسر میں صحت کی بنیادی سہولت کا مرکز قائم ہے۔ اس کی عمارت کا ایک سال قبل افتتاح ہوا ۔ ڈاکٹر کی تقرری ہوئی۔ اسٹاف بھرتی کیا گیا، لیکن جب فوج کو ضرورت پڑی کہ علاقے میں صحت کی دیکھ بھال کے لئے لوگوں کی مدد کرے تو معلوم ہوا کہ عمارت بند ہے۔ ڈاکٹر اور عملہ آتا ہی نہیں ۔ فوجیوں نے عمارت کھولی، رنگ روغن کیا، صفائی کرائی گئی اور فوجی عملہ بٹھایا گیا، تاکہ لوگوں کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جائے۔ ضرورت مندوں کی قطار لگ گئی۔ اسی علاقے میں سرکاری سکول ہے جہاں سائنس ٹیچر نہیں ہے۔ اساتذہ کی کمی ہے۔ یہ عمارت سکول کی نہیں تھی۔ ریگستانی علاقوں میں پانی فراہم کرنے والے ادارے سازدا کا دفتر تھا۔ وہ ہی سازدا جو اپنے افسران کی بدعنوانیوں کے نتیجے میں دفن کر دی گئی۔ اپنے وقت کے چیف سیکریٹری زبیر قدوائی ایک مرتبہ اس علاقے کے دورے پر گئے تو انہوں نے بند عمارت محکمہ تعلیم کے سپرد کر دی، تاکہ سکول قائم کیا جاسکے۔ آج بھی بچے پانچ کلو میٹر دور سے اس سکول میں آتے ہیں۔ معیار تعلیم پر بحث مقصد نہیں ہے، لیکن بچے آتے ہیں۔

بات ہے احساس کی۔ جیسا سینئر صحافی ادریس بختیار نے تھر پر اپنے ایک کالم میں تحریر کیا کہ احساس کہاں گیا۔ بہت کم ایسے زمیندار ، خصوصا بڑے رقبوں کے مالک ، ہوں گے جو اپنے لوگوں کا اس طرح احساس کریں کہ لوگ محسوس کریں کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔ اگر ایسا ہو تو فوج کے افسران کو لوگوں کو یہ یقین نہ دلانا پڑے کہ فوج اور حکومت آپ کے ساتھ ہیں۔ کیوں یقین دلایا جائے؟ یہ فوج ان ہی لوگوں کی فوج ہے۔ یہ حکومتیں ان ہی لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہیں اور حکومت سنبھالتی ہیں۔ یہ لوگ مالک ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ پاکستان کی اس تماش گاہ میں مالکوں کو بے سہارا اور بے آسرا چھوڑ دیا گیا ہے۔اس تماش گاہ میں اقتدار ہو، اختیار ہو، سرکاری ملکیت ہو، سرکاری عہدے ہوں، ایسے لوگوں نے ان پر قبضہ کر لیا ہے جن سے قبضہ وا گزار کرانے کے لئے انقلاب فرانس کی پیروی کرنا پڑے گی۔

مزید :

کالم -