قاری غلام رسول ؒ کے استاد قاری عبدالمالک ؒ

قاری غلام رسول ؒ کے استاد قاری عبدالمالک ؒ
قاری غلام رسول ؒ کے استاد قاری عبدالمالک ؒ

  

قاری غلام رسول ؒ بھی اللہ کوپیارے ہو گئے،

کس کی بنی ہے اس عالم ناپائیدار میں

آپ لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ہی پیوند خاک ہو گئے۔ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:ہم نے اسی مٹی سے تم کو پیدا کیا۔ ہم اسی مٹی میں تمہیں لوٹاتے ہیں اور بالآخر اسی مٹی سے تمہیں دوبارہ اٹھائیں گے۔ یہ آیت انسان کی اصل ہے۔ اس کی حقیقت اور انجام کار کی غماز ہے۔قاری غلام رسول پاکستان کے نامور قاری تھے۔ ان سے قبل قاری زاہر قاسمی کا شہرہ پاکستان میں بہت تھا۔ موصوف پاکستان کے معروف نعت خواں قاری وحید ظفر قاسمی کے بھائی تھے۔ یہ دونوں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری محمد طیب قاسمی کے بھتیجے ہیں۔تقسیم ہند کے وقت مصطفےٰ علی ہمدانی آل انڈیا ریڈیو کے اناﺅنسر تھے۔ انہوں نے اگست 1947ءمیں پاکستان کے قیام کا اعلان ان الفاظ میں کیا: ”یہ ریڈیو پاکستان ہے۔“ اس سے قبل برصغیر کے لوگ ”یہ آل انڈیا ریڈیو ہے“ کے الفاظ سے شناسا تھے۔ اس اعلان کے معاً بعد سب سے پہلے تلاوت نشر ہوئی، جس کی سعادت قاری زاہر قاسمی کو حاصل ہوئی۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی سے اپنی سریلی آواز میں تلاوت کی۔ جو آیات آپ نے تلاوت کیں وہ سورة الفتح کی پہلی آیات ہیں۔ الفاظ یہ ہیں۔

(انافتحنالک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من دنبک وماتاخر)

ان آیات کی تلاوت پر پورے پاکستان کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ دیوانہ وار پاکستان زندہ باد، اسلام زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگاتے چوکوں چوراہوں میں آن نکلے۔علم تجوید میں قاری غلام رسول کے استاد قاری عبدالمالکؒ تھے جو استاد الاساتذہ تھے۔ پاکستان میں جتنے قراءمصری لہجے میں قرآن پڑھتے ہیں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ انہی کے شاگرد ہیں۔ قاری غلام رسول بھی ان میں سے ایک تھے۔ بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا کہ قاری عبدالمالک دارالعلوم حزب الاحناف میں پڑھاتے رہے۔ ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ قاری عبدالمالکؒ حزب الاحناف میں کبھی استاد نہیں رہے، بلکہ آپ پرانی انارکلی میں واقع دارالعلوم اسلامیہ میں پڑھاتے تھے۔ قاری غلام رسول مرحوم نے بھی اسی دارالعلوم میں ان سے اکتساب فیض کیا۔ قاری غلام رسول کو قرآن نے شہرت اور عروج عطا کیا۔ ان کے اس عروج میں ان کے استاد حضرت استاد الاساتذہ قاری عبدالمالکؒ کابڑا حصہ ہے جو پاکستان میں مصری لہجے کے استاد الکل تھے۔ ان کے شاگردوں میں قاری اظہار احمد تھانوی، قاری محمد صدیق لکھنوی، قاری غلام نبی گیاوی، قاری محمد شریف، قاری عبدالوہاب مکی اور قاری غلام نبی ایرانی جیسے اکابر شامل ہیں۔ اس کالم میں ہم قاری عبدالمالک ؒ کا تفصیلی تذکرہ کریں گے۔

قاری عبدالمالکؒ کے والد کا نام شیخ جیون علی ہے۔ آپ 1303ھ کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب سیدنا صدیق اکبرؓ سے متصل ہے۔ آپ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کے والد اللہ کو پیارے ہو چکے تھے، اس لئے آپ کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آپ کی والدہ ماجدہ اور آپ کے بڑے بھائی قاری عبدالخالق نے بطریق احسن نبھائی۔ چار برس کی عمر میں آپ کو سرائے کلیم علی گڑھ بھیجا گیا۔ جہاں حافظ محمد صدیق استاد تھے۔ انہوں نے آپ کو قرآن مجید کی ابتدائی ناظرہ تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ 1313ھ میں آپ کی والدہ دونوں بیٹوں کے ہمراہ حج کی غرض سے حجاز مقدس تشریف لے گئیں اور محلہ جیاد میں رہائش اختیار کی۔ دونوں بیٹوں قاری عبدالخالق و قاری عبدالمالک کو مکہ مکرمہ کے مشہور مدرسہ صولتیہ میں داخل کرا دیا۔ یہاں استاد القراءحضرت عبداللہ مہاجر مکیؒ سے آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر روایت حفص کی تکمیل کی۔ حفظ قرآن اور تعلیم تجوید کے ساتھ ساتھ تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب کی تعلیم بھی آپ نے مدرسہ صولتیہ ہی سے حاصل کی۔ 1320ھ میں قاری عبدالمالک واپس ہندوستان آ گئے۔

قیام مکہ کے دوران قاری صاحب کا معمول تھا کہ اپنی تعلیمی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر روزانہ حرم شریف میں تلاوت کرتے۔ لوگ محظوظ ہوتے۔ ایک روز نواب فیاض احمد خاں شیروانیؒ نے حرم پاک میں آپ کی تلاوت سنی تو آپ سے کہنے لگے کہ حرمین شریفین میں تو کلام اللہ کی بہترین طرز ادا سے پڑھنے والے بیشمار لوگ موجود ہیں، جبکہ ہندوستان صحیح پڑھنے والوں سے خالی ہے لہٰذا ہندوستان اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ جیسے ماہرین فن حضرات اس علم کی آبیاری کے لئے ہندوستان آئیں۔ نواب صاحب کی اس بات نے گہرا اثر کیا اور آپ ان کے ہمراہ ہندوستان آ گئے اور آگرہ کی شاہی مسجد میں اس علم کی خدمت پر مامور ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مولانا عین القضاةؒ بانی مدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنو¿ نے آپ کو اپنے مدرسہ میں بلا لیا۔ 1337-38ھ میں آپ نے الہٰ آباد جا کر قاری عبدالرحمٰن مکیؒ سے قرا¿ت سبعہ و عشرہ کی تکمیل کی۔ اس کے بعد دوبارہ مدرسہ عالیہ فرقانیہ آ کر صدر نشین ہوئے۔ نواب ابراہیم کی دعوت پر آپ ریاست ٹونک تشریف لے گئے۔ والئی ٹونک نے آپ کی خوب پذیرائی کی۔

 ریاست ٹونک میں آپ کا قیام چار پانچ برس رہا۔ بہت سے شاگرد لکھنو¿ میں چھوڑ کر ٹونک ہی میں آ گئے۔ اس دوران مسلم یونیورسٹی علی گڑھ والوں نے آپ کو یونیورسٹی لے جانے کی کوشش کی، آپ آمادہ بھی ہو گئے۔ مولانا عین القضاة کو علم ہواتو انہوں نے آپ کے استاد قاری عبدالرحمٰن مکیؒ سے رابطہ کیا اور قاری صاحب کو علی گڑھ کی بجائے فرقانیہ لانے کی کوشش کی۔ استاد کے حکم کی تعمیل میں آپ دوبارہ فرقانیہ تشریف لے آئے۔ نواب ڈھاکہ خواجہ محمد اعظم نے چار پانچ مرتبہ آپ کو رمضان میں قرآن سننے کی غرض سے اپنے مصارف پر ڈھاکہ تشریف لانے کی دعوت دی۔1910ءمیں دارالعلوم دیوبند کے سالانہ جلسے میں بڑے بڑے اکابر علماءکی موجودگی میں پہلی مرتبہ آپ کو اور آپ کے بڑے بھائی قاری عبدالخالقؒ کو تلاوت کرنے کا موقع ملا۔ سامعین کے کان اس سے پہلے عربی لہجوں سے نا آشنا تھے۔ دونوں بھائیوں نے ایسی پُرسوز اور حجازی لہجوں کی پختہ گرفت کے ساتھ فن تجوید سے معمور تلاوت کی کہ تمام مجمع حیرت و استعجاب سے آگے نکل کر درد و سوز میں ڈوب گیا اور آنسوﺅں کی لڑیاں بندھ گئیں۔

 اس مجمع میں مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی تشریف فرما تھے تلاوت ختم ہوتے ہی آ کر لپٹ گئے اور دیر تک سینہ سے لگائے رکھا اور قاری عبدالمالکؒ کو تدریس کے لئے اپنے مدرسہ امداد العلوم تھانہ بھون لے گئے۔ تقریباً ایک برس قاری صاحب نے یہاں تدریسی فرائض سر انجام دیئے۔ ایک مرتبہ آگرہ میں کانگرس کا جلسہ تھا۔ تلاوت قاری صاحب نے کی اور سورہ¿ قصص کا رکوع ولما توجہ پڑھا۔ ہندو مسلم سب کی عجیب کیفیت ہو گئی سڑک پر ٹریفک رک گیا جو جہاں تھا،دم بخود کھڑا رہ گیا۔ لطف یہ کہ مقرر مولانا ابوالکلام آزاد اپنا اصل سیاسی موضوع بھول گئے اور تلاوت شدہ رکوع کے حوالے سے اسلامی معاشرت حیا اور پردے کے عنوان سے بڑا بلیغ وعظ فرمایا۔گویا قاری صاحب کی تلاوت کے سبب ایک سیاسی جلسہ تبلیغ و وعظ کی مجلس بن گیا۔ قاری عبدالمالکؒ اقرو القران بلحون العرب واصواتھا کی سچی اور عملی تفسیر تھے۔

ان کے بیٹے قاری عبدالماجد ذاکر لکھتے ہیں۔تمام معروف عربی لہجے اور حجازی الحان گویا اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ حسینی، حجازی، مصری، مایہ، حرب، محطہ، عشاق، دوکاسیکا وغیرہ لہجوں پر پورا عبور ہی نہیں، بلکہ ان لہجوں کی باریکیوں پر گہری استادانہ نظر تھی۔ عام طور پر قرا¿ت کی ابتداءحسینی لہجے سے ہوتی۔ دھیمی آواز سے شروع کرنے کے بعد بتدریج لہجہ کے اتار چڑھاﺅ اس کے مختلف مراتب کی بندشیں۔ آہستہ آہستہ آواز میں جوش و خروش پیدا ہو جاتا حتیٰ کہ آواز اپنے نقطہ عروج تک جا پہنچتی۔ اس کے بعد اچانک حجازی لہجے کی تلاوت میں اس ناقابل بیان خوبصورتی کے ساتھ پیوست کرتے کہ سننے والا وجد میں آ جاتا، اس کے فوراً بعد مرکزی لہجہ حسینی میں واپس آ جاتے۔ پھر جو آواز بلند ہوتی تو مصری لہجے کی مست کن اٹھان کانوں میں رس گھولتی۔ سیدھی دل پر مار کرتی کہ سننے والوں کی بے ساختہ چیخیں نکل جاتیں۔ اس عاجز ناکارہ نے مدرسہ عالیہ فرقانیہ کے سالانہ جلسوں میں متعدد سامعین کو حضرتؒ کی قرا¿ت کے دوران وجد میں آتے اور اونچے چبوترہ سے وجدانی کیفیت میں نیچے گرتے دیکھا۔قاری عبدالمالکؒ کی تلاوت کا کمالی پہلو یہ تھا کہ سامع تلاوت کے اثر سے ہی معنی و مفہوم کا احساس کرتا تھا انداز تلاوت میں یہ تاثیر ہرکہہ دمہ کو حاصل نہیں ہوتی، یہی وہ خاص ملکہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے قاری صاحب کو عطا فرما دیا تھا جس میں آج تک ان کا کوئی ثانی پیدانہیں ہوا۔ اس کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے قاری عبدالماجد ذاکر رقم طراز ہیں،”لہجوں پر ماہرانہ گرفت کے علاوہ جو چیز حضرت کو ان کے ہم عصروں سے ممتاز کرتی تھی ،وہ آیات قرآنیہ کے معانی و مفاہیم کے مطابق آواز کے اتار چڑھاﺅ کا کمال تھا۔ جس میں حضرت کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ نعمائے جنت والی آیات کی تلاوت کے دوران لہجہ و آواز سے اشتیاق و طلب کی کیفیت محسوس ہوتی۔ عذاب اور جہنم والی آیات سے اور اسی طرح عتاب و غضب والی آیات کی اداءکا انداز عتاب و غضب کی کیفیات کا مظہر ہوتا۔ کفار و مشرکین و اعداءالدین سے جہاں خطاب ہوتا، زجر و توبیخ والی کیفیات سامنے آ جاتیں الغرض ان کی تلاوت کیا تھی عطر بیز پھولوں کا گلدستہ تھی“۔

قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد قاری عبدالمالکؒ 1950ءمیں لکھنو¿ سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے۔ مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے اصرار پر دارالعلوم ٹنڈوالہ یار سندھ میں علم تجوید کی خدمت پر مامور ہوئے اور تقریباً ایک برس یاد و برس ٹنڈوالہ یار میں پڑھاتے رہے۔ پھر قاری سراج احمد ناظم دارالعلوم اسلامیہ چرچ روڈ پرانی انارکلی لاہور کے بے حد اصرار پر لاہور تشریف لے آئے اور دارالعلوم اسلامیہ میں صدر مدرس کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا۔ آپ کا لاہور تشریف لانا ایک بہار سے کم نہ تھا۔ قاری اظہار احمد تھانوی لکھتے ہیں: ”دارالعلوم اسلامیہ جواب تک گوشہ گمنامی میں تھا ،اچانک واردین و مستفیدین کی کثرت سے نہایت پُر رونق درس گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ سامعین کے علاوہ مساجد کے آئمہ، حفاظ، عربی درسگاہوں کے اساتذہ و طلبہ سے حضرت شیخ کی درسگاہ اس قدر تنگ دا ماں ثابت ہوئی کہ برابر والے تمام تعلیمی درجے بھی سامعین قرا¿ت کے لئے خالی کرنے پڑے۔ آپ کی قرا¿ت سننے کے شوق میں مولانا مفتی محمد حسن بانی جامعہ اشرفیہ، شیخ القرآن مولانا احمد علی، مولانا عبدالقادر رائے پوری، مولانا ابو الحسن علی ندوی، قاری فضل کریم بانی مدرسہ تجوید القرآن، مولانا داﺅد غزنوی، پروفیسر ظفر اقبال جیسی نابغہ روزگار وباکمال شخصیات دارالعلوم اسلامیہ آتی تھیں۔ قاری عبدالمالکؒ کے لاہور تشریف لانے پر مولانا احمد علیؒ نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔”حضرت قاری صاحب کا وارد پاکستان ہونا عامتہ المسلمین کے لئے عموماً اور مسلمانان لاہور کے لیے خصوصاً رحمت خداوندی کا ابر محیط ہے، جو پرجوش ہو کر برسے گا“۔

قاری عبدالمالکؒ 1952ءمیں دارالعلوم اسلامیہ لاہور تشریف لائے اور 1958ءمیں مستعفی ہو گئے۔ اپنے بعض تلامذہ اور مخلصین کے اصرار پر آپ نے 1958ءمیں لٹن روڈ پر مرکزی دارالترتیل کی بنیاد ڈالی۔ آپ کا انتقال 31 دسمبر1959ءکو لاہور میں ہوا۔

مزید : کالم