پانی کی قلت کے خدشات....پس چہ باید کرد؟

پانی کی قلت کے خدشات....پس چہ باید کرد؟

  

منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے نئے ڈیم نہ بنائے تو آدھا ملک تھر بن جائے گا، پانی کا بحران توانائی بحران سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ جس کی پیش بندی کے لئے ہمیں لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ غازی بروتھا ڈیم کی تعمیر میں بارہ سال لگے ہیں، دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں دس سال لگیں گے۔ اس ڈیم کی تعمیر میں دیر کی تو ملک مزید مسائل کا شکار ہوگا، اور آبی وسائل میں مزید کمی ہو گی۔

احسن اقبال نے پانی کی ممکنہ قلت کے بارے میں انتباہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا۔ وہ اس بارے میں پہلے بھی خبردار کرتے رہتے ہیں لیکن اُن کا محض انتباہ کافی نہیں۔ انہیں تو بطور وفاقی وزیر منصوبہ بندی یہ بتانا چاہئے کہ ملک میں پانی کی قلت کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے وہ کیا اقدامات کر رہے ہیں اور کیا منصوبہ بندی کی جارہی ہے؟ اُن کی وزارت، پانی و بجلی کی وزارت کے ساتھ مل کر جو ”واٹر سمٹ“ کرا رہی ہے وہ بظاہر ایسی ہی منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جو خوش آئند ہے لیکن احسن اقبال سمیت پانی کے ماہرین جس ممکنہ بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں اس کے مقابلے کے لئے تیاریاں کوئی زیادہ شد و مد سے نہیں کی جا رہیں۔ کالا باغ ڈیم تو نہ بنایا جا سکا لیکن اس کی جگہ دیا مر بھاشا بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا اس پر بھی عملاً کام شروع نہیں ہوا اور جو کاغذی تیاریاں وغیرہ ہو رہی ہیں ان کی رفتار بھی بہت سست ہے، البتہ تین بار ایک ہی ڈیم کا افتتاح ضرور ہوگیا، دوبار تو یہ اعزاز یوسف رضا گیلانی نے حاصل کیاخود وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیم دس سال میں مکمل ہوگا اب یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ کام کس رفتار سے ہوتا ہے اور کام جاری رکھنے کے لئے فنڈز ملنے کی رفتار کیا ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بڑے ترقیاتی منصوبے عموماً تاخیر بلکہ بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہوتے رہتے ہیں، دیکھی اور ان دیکھی رکاوٹیں ان کی راہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔

غازی بروتھا ڈیم ہماری ضروریات کے لحاظ سے کوئی بڑا منصوبہ نہ تھا، بلکہ یہ مروجہ معنوں میں ڈیم ہے بھی نہیں، پاور پراجیکٹ ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ایک پختہ نہر تعمیر کی گئی ہے جس میں دریائے سندھ کا پانی غازی کے مقام پر ڈالا جاتا ہے اور بروتھا کے مقام پر ایک پاور پراجیکٹ لگایا گیا ہے جہاں پانی سے بجلی پیدا ہوتی ہے اور پانی واپس دریائے سندھ میں ڈال دیا جاتاہے۔ اس پراجیکٹ سے صرف بجلی بنتی ہے۔ زرعی مقاصد کے لئے پانی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ ہمیں ایسے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے جن میں پانی بھی محفوظ کیا جائے اور اس پانی سے بجلی بھی بنائی جائے۔ کیونکہ وفاقی وزیر کے بقول اگر ہم نے پانی کے لئے ڈیم نہ بنائے تو آدھا ملک تھر بن جائے گا۔

بطور قوم ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی ضروریات کے متعلق صحیح ترجیحات متعین نہیں کیں، یہی حال پانی ذخیرہ کرنے کے بارے میں ہے جس ڈیم سے ہمیں زرعی مقاصد کے لئے پانی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ سستی بجلی بھی مل سکتی تھی اسے ہم نے اپنی بے تدبیریوں کی نذر کر دیا۔ اور اس ضمن میں لوگوں کے ذہنوں کو اس قدر مسموم کر دیاگیا ہے کہ وہ اپنے بھلے کی بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم کئی سال سے نہ صرف توانائی کے بحران کا شکار ہیں بلکہ درآمدی ایندھن سے انتہائی مہنگی بجلی بنانے کی عیاشی بھی کر رہے ہیں، حالانکہ جن ملکوں میں تیل پیدا ہوتا ہے اور ہماری نسبت بہت سستا بکتا ہے وہ بھی اس مہنگے ایندھن کو دوسرے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پانی یا کوئلے سے سستی بجلی بناتے ہیں۔ ہمارے ملک کے عوام بجلی کی قیمتیں بڑھنے پر احتجاج اور ہمارے لیڈر بیان بازی تو کرتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ سستی بجلی کیسے بن سکتی ہے اور مہنگی بجلی سے جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، مہنگی بجلی کا طوق ہم نے ایک سیاسی حکومت کے دور میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی شکل میں اپنے گلے میں ڈالا تھا، جو اب بڑھتے بڑھتے عذاب کی شکل بن گیا ہے۔ یہ ایسا عذاب ہے جو ہر صورت میں بھگتنا پڑتا ہے یعنی بجلی نہ ملے تو لوڈشیڈنگ کی شکل میں اور مل جائے تو مہنگی بجلی کی شکل میں۔ موجودہ حکومت نے بجلی کی قیمت میں جو اضافہ کیا تھا اس کا عذاب اس موسم گرما میں لوگ دونوں صورتوں میں بھگتیں گے یعنی لوڈشیڈنگ کی شکل میں بھی اور بجلی کے بلوں کی صورت میں، دیکھیں اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

توانائی کے بحران کو تو لوگ بھگت رہے ہیں، اس لئے انہیں معلوم ہے کہ اس کے اثرات ملک کے عوام کی نفسیات اور ملکی معیشت پر کس حد تک منفی پڑ رہے ہیں لیکن ابھی تک انہیں پانی کی قلت کا کماحقہ، اندازہ نہیں اس کا اندازہ صرف اس کسان کو ہے جس کی زمین پیاسی ہے اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے بنجر ہو رہی ہے۔ تھر میں اس وقت جو بحران در پیش ہے وہ بنیادی طور پر خشک سالی سے پیدا ہوا ہے لیکن بھوک کے اس بحران کا بنیادی سبب غربت ہے، شہروں میں چونکہ غربت کا یہ عالم نہیں ہے۔ روز گار کے وسائل موجود ہیں اور لوگوں کی آمدنی اور قوت خرید بھی ہے اس لئے وہ پانی کی قلت سے اس طرح خوفزدہ نہیں، لیکن خدا نخواستہ پانی کی قلت کا وقت قریب آ گیا تو یہ بہت ہولناک ہوگا، لیکن سوال یہ ہے جس پانی کی قلت کا خطرہ موجود ہے اس سے بچنے کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں پانی ایسی انسانی ضروریات میں سے ہے جو زندگی کی بنیاد ہے جہاں پانی نہیں وہاں کوئی زندگی نہیں اور اس کا وسیلہ یا تو زیر زمین پانی ہے یا پھر ہمارے دریا ہیں جو ہماری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں جن سے خلقِ خدا کے لئے رزق اُگتا ہے۔

پانی کو محفوظ کرنے کے لئے دریاﺅں پر بند باندھے جاتے ہیں لیکن ہم نے اس ضمن میں مجرمانہ غفلت برتی، ہم پانی کی دولت ضائع کرتے رہے اور پانی سمندر میں پھینکتے رہے۔ آج بھی اس روش پر گامزن ہیں بارشوں کے موسم میں سیلاب بھی آ جاتے ہیں، ڈیموں میں پانی محفوظ ہو جائے تو سیلابوں سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی کو پانی کی قلت کا ادراک ہے تو پھر اُنہیں ابھی سے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کی بنیاد پر ہم اپنی کل کی ضرورت کے لئے آج پانی بچا سکیں پانی کا کوئی متبادل بھی نہیں اس لئے اسے محفوظ کئے بغیر چارہ نہیں۔

مزید :

اداریہ -