جواں سال بیٹی زےر حراست والد کی واپسی کی منتظر

جواں سال بیٹی زےر حراست والد کی واپسی کی منتظر

  

سرینگر (کے پی آئی) 1996ءمیں فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہو جانے والے بدگام کے غلام محی الدین کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے باپ کے دیدار کے لئے جواں سال بیٹی شاہینہ بانو بھی اس راہ کو تک رہی ہے جہاں سے فوج کی 20 آر آر سے لے گئی تھی ۔ شاہینہ کا ارباب اقتدار سے سوال ہے کہ اس کا باپ کہاں ہے اور کیوں فوج سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا جاتا ۔ ڈور بڈگام کی شابینہ نے بتایا کہ سال 1996 میں اس کے والد غلام محی الدین ڈار کو اس وقت فوج کی 20 آر آر گھر سے اٹھا لے گئی جب وہ گھر کا کام کر رہے تھے اس نے بتایا کہ آر آر سے وابستہ اہلکاروں نے ان کے مکان پر چھاپہ مارا اور ایک میجر جس نے اپنا نام سلیم خان رکھا تھا نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ اس آدمی کو گاڑی میں ڈالو ۔ اس کا کہنا تھا ” ہم چیخ و پکار کرتے رہے کہ ہمارے والد کو چھوڑ دو لیکن ہمارے رونے کی آوازیں فوج نے نظر انداز کر کے ہمارے والد کو اٹھا کر اپنے ساتھ لیا اور تب سے اب تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ۔ “شابینہ نے بتایا ۔8 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی والد کا کوئی پتہ نہ چل سکا ہے میری والدہ حاجرہ بیگم اور چھوٹا بھائی فاروق احمد ڈار کئی مرتبہ ان کی تلاش میں پولیس سٹیشن اور فوجی کیمپ گئے لیکن صرف یہی کہا گیا کہ وہ جلد آ جائے گا “ شاہینہ کا کہنا ہے کہ اگر اس کے والد زندہ ہیں تو کہاں ہیں اور اگر ان کو مار دیا گیا ہے تو ان کی لاش کیوں ابھی تک واپس نہیں کی گئی ۔

شاہینہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کی تلاش کے سلسلے میں کئی مرتبہ حکومت سے بھی گزارش کی لیکن صرف یقین دہانیون کے سوا کچھ نہیں ملا ۔ ہم انصاف چاہتے ہیں اور جس فوجی افسر نے میرے والد کو اپنے ساتھ لیا اس کے خلاف کارروائی چاہتے ہیں ۔ شاہینہ کو شکایت ہے کہ ان کی مددکسی نے نہیں کی اور ہر ایک جگہ سے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کا کہنا ہے کہ والد کے چلے جانے کے بعد گھر کا نظام بری طرح سے متاثر ہو گیا اور اہلخانہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔ شاہینہ نے کہا کہ اس وقت ہمارے گھر میں میرے علاوہ 4 بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی ہے والد کا سر سے سایہ اٹھ جانے کے بعد بھائی نے محنت مزدوری کر کے ہمارا پیٹ پالا لیکن مہنگائی کے اس دور میں کمسن بھائی کے لئے سب لوگوں کی کفالت کرنا مشکل ہے اس کا کہنا ہے کہ اس کی والدہ حاجرہ بیگم والد کا انتظار کرتے کرتے تھک ہار چکی ہے اور وہ ہمیشہ یہی دہائی دیتی رہتی ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو واپس کیوں نہیں آتے اور اگر مار دیا گیا ہے تو لاش کیوں نہیں دی جا رہی ہے ۔ شاہینہ کہتی ہیں اب 20 آر آر کے کیمپ کا بھی کوئی پتہ نہیں جسے کہیں دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے نہ جانے والد کو لے جانے والے فوجی اہلکار کہاں ہین اور ان کا کیمپ کہاں گیا ہمیں اس بارے میں بھی کوئی پتہ نہیں ۔

مزید :

عالمی منظر -