صوبائی دارالحکومت میں پہلی پراسیکیوشن ڈاکیو منٹری کی شوٹنگ کا آغاز

صوبائی دارالحکومت میں پہلی پراسیکیوشن ڈاکیو منٹری کی شوٹنگ کا آغاز

  

لاہور (جنرل رپورٹر) پاکستان میں انصاف کی فراہمی میں پراسیکیوشن سروس کے کردار اور اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے پہلی پراسیکیوشن ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ کا لاہور میں آغاز ہو گیا ہےQuest for Justice کے نام سے بننے والی اس ڈاکیومنٹری کی تحریر و ہدایات کا فریضہ کرغزستان سے تعلق رکھنے والی نوجوان صحافی ای کترینہ ہارسڈورف بغیر کسی معاوضے کے انجام دے رہی ہیں سیکرٹری پنجاب پراسیکیوشن سروس ندیم ارشاد کیانی کے وژن پر بننے والی اس ڈاکیومنٹری فلم کورواں سال مئی میں نمائش کیلئے پیش کر دیا جائے گا ڈاکیومنٹری کی مصنف و ہدایتکار کترینہ ہارسڈورف کے مطابق یہ ڈاکیومنٹری قتل کے ایک مقدمے کے گرد گھومتی ہے جس میں پبلک پراسیکیوٹر تمام تر دشواریوں کے باوجود فورینزک سائنس، گواہان، پولیس اور عدالتی نظام کے موثر استعمال سے مجرم کو کیفرکردار تک پہنچاتا ہے کترینہ کے مطابق ڈاکیومنٹری کی کہانی کو حقیقت کے قریب ترین رکھنے کیلئے اس میں کرائم سین سے لے کر پولیس اسٹیشن، پراسیکیوشن کے دفاتر اور عدالت میں جرح کے منظر عکس بند کیے جا رہے ہیں اس منصوبے کیلئے مالی معاونت جرمنی کا ادارہ جی آئی زیڈ جبکہ تکنیکی سہولیات محکمہ پبلک پراسیکیوشن فراہم کر رہا ہے تفصیلات کے مطابق پراسیکیوشن سروس اور پبلک پراسیکیوٹر کی اہمیت اور اس فرض کی انجام دہی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کیلئے اپنی طرز کی پہلی ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ ان دنوں پولیس ٹریننگ اکیڈمی چوہنگ میں جاری ہے ڈاکیومنٹری پر کام کرنے والے عملے اور محکمہ پراسیکیوشن نے اس منصوبے کو انصاف کی فراہمی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے پبلک پراسیکیوٹرز کے نام سے منسوب کیا ہے تکمیل کے بعد اس ڈاکیومنٹری کو ملک بھر کے قانون کی تعلیم دینے والے اداروں، پراسیکیوشن اکیڈمی اور میڈیا میں نمائش کیلئے پیش کیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -