پرچہ رجسٹری کا حصول مشکل،شہری مدد کے لئے ’’پاکستان‘‘آن پہنچا

پرچہ رجسٹری کا حصول مشکل،شہری مدد کے لئے ’’پاکستان‘‘آن پہنچا

  


لاہور(اپنے نمائندے سے) تحصیل کینٹ کی حدود میں آنے والے موضع آن لائن روڑانوالہ کی پرچہ رجسٹری مالک اراضی کے لیے وبال جان بن گئی کمپیوٹر سروس سنٹر سٹاف اور نشتر ٹاؤن رجسٹریشن برانچ کے ملازمین نے مالک اراضی کو تگنی کا ناچ نچا ڈالاسائل مایوس ہو کر روزنامہ پاکستان کے دفتر پہنچ گیا معلومات کے مطابق موضع روڑانوالہ کے رہائشی محمدنواز نے اپنی1 کنال زمین اراضی کی رجسٹری نشتر ٹاؤن برانچ سے تصدیق کروائی تصدیق تاریخ 31-01-14 جس کی دستاویزات نمبر 188 جلد نمبر4716 بہی نمبر1 ہے تاہم 2 ماہ قبل پاس ہونے والی پرچہ رجسٹری کمپیوٹر سروس سنٹر پر نہ پہنچنے کی وجہ سے تاحال مالک اراضی کے نام انتقال ریونیو ریکارڈ میں درج نہیں ہو پایا اور نہ ہی کمپیوٹر کیاسک سروس سنٹر سسٹم میں فیڈ کیا جا سکا ہے جس پر مالک اراضی جب کمپیوٹر سروس سنٹر گیا تو انہوں نے اعتراض لگایا کہ پرچہ رجسٹری کے مطابق ہی انتقال کی تصدیق کریں گے وہ ہمارے پاس نہیں آئی آپ رجسٹریشن برانچ جائیں اور جب مذکورہ شہری رجسٹریشن برانچ کے آفس پہنچا تو انہوں نے آگاہی دی کہ پرچہ رجسٹری06-01-14کی تاریخ کو وصول کروا دی گئی شریف شہری پھر کمپیوٹر سروس سنٹرپہنچا تو انہوں نے کینٹ کچہری دفتر قانونگو کے پاس چیک کرنے کا مشورہ دیا اختر قانونگو نے بھی شہری کو آگاہ کیا کہ آن لائن موضع جات کی رجسٹری برائے راست کمپیوٹر سروس سنٹر میں جاتی ہے جس پر شہری دوبارہ سروس سنٹر پہنچا تو موقف اختیار کیا گیا کہ جب تک پرچہ رجسٹری نہیں آئے گی ہم انتقال تصدیق نہیں کریں گے اصل رجسٹری کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہ ہے یہ وہ شرائط ہیں کہ جو کہ پی ایم یو کی جانب سے ہم پر عائد ہیں مذکورہ شخص محمد نواز نے ڈی سی او لاہور احمد جاوید قاضی، اے ڈی سی جی عرفان میمن، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کیپٹن ظفر اقبال سے استدعا کی ہے کہ وہ اس کی مشکل کو آسان کریں اور میری اس خواری کا سبب بننے والے سٹاف کے خلاف سخت ایکشن لیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -