وزیر اطلاعات سے اک ملاقات

وزیر اطلاعات سے اک ملاقات
وزیر اطلاعات سے اک ملاقات
کیپشن: najam wali khan

  

یوں توہر شعبے میںہر بندہ ہی میرٹ پر ہونا چاہئے مگر جناب عارف نظامی کی مہربانی سے محترم پرویز رشید سے ایوان اقبال میںایک رسمی ملاقات ہوئی تو پوری ملاقا ت کے دوران میں یہی سوچتا رہا کہ میرٹ پر انفارمیشن منسٹر ہونے کا کتنا فائدہ ہے ورنہ ماضی میں ایسے ایسے انفارمیشن منسٹر رہے ہیں جو آج کل اپنے تجربے کی روشنی میں صرف ڈس انفارمیشن ہی پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے صحافیوں سے رسمی ملاقات اور بات چیت ان کے لئے مشکل ہے تو یہ مشکل لاہور کے صحافتی کارکنوں کے لئے بھی ہے جنہوں نے سیاسی کارکن پرویز رشید کے ساتھ ایک طویل وقت گزارا ہے، دلچسپ امر تو یہ ہے کہ ” نظریاتی مخالفین“ سے بھی ان کی یاروں دوستوں والی ہی گپ شپ ہے، سچ ہی تو کہا سی پی این ای کی صدارت سنھالنے سے تقریب کے شہ بالے بننے والے جناب مجیب الرحمان شامی نے کہ پرویز رشید، اطلاعات، ثقافت، قانون اورانسانی حقوق ہونے کے باوجود وہ پرانے پرویز رشید ہی ہیں۔ میری گواہی بھی شامل کرلیں کہ وہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بااثر مالکان ہی نہیں، مجھے اورمیری طرح دوسرے صحافتی کارکنوں کو بھی دست یاب ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ بعض دوستوں کی طرف سے تو ایسے میسج اور کالز بھی آجاتی ہیں کہ چوٹی سے پسینہ بہتا ہے اور ایڑھی تک جا پہنچتا ہے۔

میرٹ پر وزیر اطلاعات ہونے کا اک فائدہ تو یہ ہونے والا ہے کہ اخباری صنعت کے ایک ارب اسی کروڑ روپے کے جو واجبات اب تک حکومت کی طرف ” پھنسے “ ہوئے ہیں، حمید ہارون صاحب سے ان کی دوستی اور تعلق کی وجہ سے ان کی ادائیگی کی راہ نکلنے لگی ہے، یہ بات انہوں نے خود ہی بتائی اور اس سے وہ مسئلہ بھی حل ہونے کی راہ نکلے گی جو ایوان اقبال میں اٹھایا گیا کہ اخباری کارکنوں کو تنخواہوں میں تاخیر ہوتی ہے ، جس کا جواب یہ تھا کہ اگر ایک، ایک ادارے کے دس ، دس کروڑ واجب الادا ہوں گے تو پھر تنخواہیں تاخیر سے ہی ادا ہوں گی۔ میرٹ پر وزیر ہونے کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف ایشوز کا سامناکرتے ہوئے انہیں نہ تو بیوروکریسی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور نہ ہی آئیں، بائیں، شائیں کرنا پڑتی ہے۔وہ اس معاملے میں ” با اختیار“ نہیں ہونا چاہتے، دلیل وزنی ہے کہ جس بھی ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے گی اسے حکومتی جبر کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا۔ فی الوقت سرکاری اشتہارات کو بھی اس ایشو سے منسلک کرنا بھی فائدہ مند نہیںکہ اخباری اداروں کا ” سرکلر ڈیٹ“ اتنا بڑھ چکا کہ اخباری اداروں نے مزید حکومتی اشتہارات کو شائع کرنے سے خود ہی انکار کر رکھا ہے۔ ان کا یہ شکوہ پرانے تعلقات کی بنیاد پر ہی بنتا تھاکہ ”ہڑتال“ کرنے کی بجائے دوستوں کو ان کے ساتھ بیٹھ کے رستہ نکالنا چاہیے تھابہرحال یہ ہدایت بھی اہم ہے کہ انہوں نے حکومتی اشتہار کے شائع یا ٹیلی کاسٹ ہونے کی ویری فیکیشن کے تیس دن اندر ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے۔

یہ معاملہ بھی تو بہت اہم ہے کہ ہمارے بہت زیادہ دیکھے جانے والے نجی ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد کچھ زیادہ ہی دکھایا جانے لگا ہے، جناب عارف نظامی نے تو بھارتی اداکار امیتابھ بچن کے پروگرام کون بنے گا کروڑ پتی کا نام بھی لے لیا جس کا پاکستان میں بولی جانے والی زبان اور ثقافت سے کوئی تعلق نہیں اور جناب مجیب الرحمان شامی کی یہ بات بھی درست ہے کہ بات صرف ایک پروگرام کی تو نہیں،یہ معاملہ اتنا گھمبیر ہو چکا کہ ہمیں چائے سے موبائل فونوں تک کی فروخت بھارتی پری چہروں کو بھارتی معاوضہ ادا کرتے ہوئے کی جا رہی ہے اور ہمارے پری چہرے ٹکا ٹوکری ہو رہے ہیں۔ یہاں پر پرویز رشید صاحب کی طرف سے ایک فلاسفی سامنے آتی ہے کہ ہم نے اپنے پری چہروں کوکبھی عریانی اور کبھی فحاشی کے نام پر جوتے اور ڈنڈے مارے ہیں، ہم نے اپنی اس انڈسٹری کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کیا ہے لہذا اب تین راستے سامنے آتے ہیں،پہلا یہ کہ ہم اپنی انڈسٹری کو اہمیت دیں، اسے تسلیم کریں، اسے پھلنے پھولنے کا موقع دیں، دوسرا یہ کہ اگر ہم اپنی انڈسٹری کوتسلیم نہیں کر سکتے تو جو اسے پھلنے پھولنے کا موقع دے رہے ہیں وہاں سے یہ پراڈکٹ امپورٹ کر لیں اور تیسرا یہ کہ ہم اس پر مکمل پابندی ہی لگا دیں کہ ہم نہ تو اپنے فلمی اور ثقافتی اداروں کو کام کرنے دیں گے اور نہ ہی درآمد کی اجازت دیں گے۔ طالبان ہی نہیں ، ہر ایشوکے حل کا بنیادی تھیم دلیل ہونی چاہئے بندوق نہیں۔پیمرا کا قانون کہتا ہے کہ پاکستان سے آن ائیر ہونے والے ٹی وی چینلز دس فیصد تک غیر ملکی مواد آن ائیر کرسکتے ہیں مگر یہ پابندی لینڈنگ رائٹس لینے والے چینلوں پر نہیں، وہ سو فیصد فارن کونٹینٹ دکھا سکتے ہیں۔ لینڈنگ رائٹس والوں کو یہ اجازت بنیادی طور پر نیشنل جرافک ، ڈسکوری، بی بی سی اور سی این این جیسے اداروں کے لئے تھی مگراس قانون کا غلط استعمال کیا گیا اور پاکستانی اداروں نے دوبئی وغیرہ سے لائسنس اور پاکستان سے لینڈنگ رائٹس لے کرسو فیصد فارن کنٹینٹ آن ائیر کرنا شروع کر دیا۔ روکے جانے پر ان چینلز نے حکم امتناعی حاصل کر لئے۔ اب ایک سیاسی کارکن کے وزیر اطلاعات ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ جس طرح وہ اپنے گرد پروٹوکول کا جھمگٹا نہیں لگا رہے، اسی طرح وہ وزارت کی کرسی کو اختیارات کا مرکز بھی نہیں بنانا چاہتے، ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ تنظیمیں انہیں سفارشات تیار کرکے دیں، وہ عدالت سمیت ہر جگہ کہہ سکیں گے کہ یہ متعلقہ ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کی تجاویز ہیں، حکومت چینلز کی آزادی کو اپنی غلامی میں نہیں بدلنا چاہتی۔

جناب امتیاز عالم کی بات تھیوری کے طور پر درست ہے کہ ہم جس زبان میں فلمیں اور ڈرامے بناتے ہیں وہ ہندوستانی فلموں اورشائقین کی زبان ہے، میڈیا پراڈکٹس کو نیگیٹو لسٹ سے نکالتے ہوئے بھارت سے امپورٹ ہی نہیں ایکسپورٹ بھی ہونی چاہئے۔ اس وقت ہمارا وہ کون سا شہر، قصبہ اور گاوں ہے جہاں بھارتی فلمیں بیس ، بیس روپے کی سی ڈی کی صورت میں موجود نہیں، وہ کون سے کیبل آپریٹرز ہیں جنہوں نے انڈین فلموں کی نمائش کے لئے کئی کئی چینلز آن ائیر نہیں کررکھے۔ پریکٹیکل سیچویشن تو یہ ہے کہ ہمارے سینما گھر بھی بھارتی فلموں کی وجہ سے دوبارہ بننے اور آباد ہونا شروع ہوئے ہیں۔ اسی ایشو پرکچھ عرصہ قبل میری وزیر اطلاعات سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے دلیل دی تھی کہ جب تک بھارتی فلمیں پاکستان میں نمائش پذیر ہوتی رہیں، پاکستانی فلم ساز ان کے مقابلے میں معیاری فلمیں پروڈیوس کرتے رہے مگر جیسے ہی مقابلہ ختم ہوا، یہاں معیار کا خاتمہ ہو گیا۔دنیا تیزی کے ساتھ عالمی گاوں میں بدلی ہے ،انٹرنیٹ اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی کا حصہ بننے والے بہت سارے گیجٹس کی وجہ سے اب جغرافیائی سرحدیں ، ثقافتی حملوں کو نہیں روک سکتیں۔اس وقت بھارتی فلمیں جس قانون کے تحت یہاں آ رہی ہیں وہ بھی اک فراڈ ہی ہے، بھارتی فلموںپر پابندی ہے مگر ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ اس کا فلم ساز امریکہ، برطانیہ یا دوبئی میں ہے اور وہاں سے بھارتی فلم غیر ملکی فلموں کی درآمد کے قانون کے تحت منگوا کے نمائش پذیر ہوجاتی ہے حالانکہ ہم اس منافقت کو ختم کر کے سنسر شپ بھی بہتر کرسکتے ہیں اور اس کے ذریعے ریاست مناسب ٹیکس بھی کما سکتی ہے۔ ہم نظریہ پاکستان کو بنیاد بناتے ہوئے بھارتی فلموں کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ان فلموں کی فحاشی کو دلیل بناتے ہیں گویا اگر پاکستانی فلم کی ہیروئن بارش میں نہائے ، پاکستانی ہیرو گنڈاسہ اٹھائے تو درست اور نظریہ پاکستان کے عین مطابق ہے۔ فلم اور تھیٹر بالغوں کی تفریح ہیں، انہیں اسی تناظر میں لیا جانا چاہئے۔

مجھے یہ مطالبہ کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمیں روٹی ،کپڑے اور مکان کے ساتھ مناسب تفریحی سہولتیں بھی درکار ہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو طویل عرصے سے اپنی جان بچانے کے لئے سرگرم عمل ہیں اور جب کوئی جان بچانے کے لئے اپنی توجہ صرف کر رہا ہو تو اسے تفریح کی عیاشی کا خیال تک نہیں آتا۔ پرویز رشیدکا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے سات ، آٹھ ماہ میں اتنی پرفارمنس دکھا دی ہے جو پچھلے سات ، آٹھ سال میں نہیں دکھائی گئی تو پھرجب لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی، فیکٹریاں دن رات چلتے ہوئے لوگوں کو مناسب روزگار فراہم کرنے لگیں گی، دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے گا تو پھر میرٹ پر آنے والے وزیر اطلاعات و ثقافت کی ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی کہ ان کی حکومت اپنے شہریوں کو مہذب قوموں کے افراد کو ملنے والی تمام تفریحی سہولتیں مہیا کرے، اپنے تھیٹروں اور سینما گھروں کو بھی آباد رکھے۔

مزید :

کالم -