جماعت الدعوۃ کی پنجاب کے مختلف شہروں میں ’’پاکستان

جماعت الدعوۃ کی پنجاب کے مختلف شہروں میں ’’پاکستان

  

کانفرنسیں‘‘ ،ہزاروں افراد کی شرکت

لاہور (اے این این)جماعۃالدعوۃ پاکستان کی طرف سے گذشتہ روز بھی گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، راولپنڈی، حیدرآباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نظریہ پاکستان کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور یوم پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے احیائے نظریہ پاکستان مارچ، جلسوں اور کانفرنسوں میں بھرپور شرکت کے عزم کا اظہا رکیا ۔ کانفرنسوں کے دوران پاکستان کا مطلب کیا‘ لاالہ الااللہ کے فلک شگاف نعرے بلند کئے جاتے رہے اور شرکاء کی جانب سے بھرپور جو ش و جذبہ دیکھنے میں آیا۔جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر ظفر اقبال نے حیدرآباد میں نظریہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بیرونی قوتیں پاکستان میں وطن عزیزمیں فکری انتشار پھیلانے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کررہی ہیں۔پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر بنایا گیا ملک ہے،وطن عزیز کو قومیت،صوبائیت اور لسانیت کی بنیاد پر حاصل نہیں کیا گیا ۔یہ ملک بناتے وقت لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں اس بنیاد پر دی تھیں کہ وہ اس خطہ میں لاالہ الااللہ کا نفاذ دیکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہاکہ قومیتوں اور لسانیت پرستی کے بت توڑ کر ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔23مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پرپورے ملک میں نظریہ پاکستان مارچ،جلسوں و کانفرنسوں کا انعقاد کریں گے۔مظلوم کشمیریوں کو غاصب بھارت کے چنگل سے نجات دلانا پوری مسلم امہ پر فرض ہے۔جہلم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جماعۃالدعوۃ کی طرف سے جامع مسجد راجڑ جہلم میں اور تقویٰ ماڈل سکول سول لائن جہلم میں نظریہ پاکستان کے حوالہ سے تقاریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طلباء کی کثیر تعداد سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما طاہر طیب بھٹوی، عبدالغفار و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ23مارچ1940کو لاہور کے منٹو پارک میں اسلامیان ہند سے بانی پاکستان محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مسلمان ہیں اورمسلمان ہندو کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔وہ تین کروڑ خداؤں کے پجاری ہیں اور ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں۔ہماری تہذیب،کلچر،مذہب،ثقافت،معیشت ان سے الگ ہے۔ہم کلمہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام چاہتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ خطہ حاصل کرنے کے بعد ہمارے حکمرانوں نے یہاں دین اسلام کو نافذ نہیں کیاجس کی وجہ سے آج ملک آزمائشوں سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب ملک کوایک بار پھر آزمائشوں سے نکالنے کے لئے قوم کو لاالہ الااللہ کے نعرے پر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔گوجرانوالہ میں جماعۃالدعوۃ کے رہنماؤں مولانا محمد یوسف ربانی، حافظ محمد اکرم،خالد سیف الاسلام ، مولانا رمضان منظور و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بیرونی قوتیں پاکستان کو دوقومی نظریہ سے الگ کرکے سیکولر ملک بنانے کی سازشیں کر رہی ہیں ۔کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا اسی پر قوم کو متحد کریں گے۔23مارچ کو ملک بھر میں تاریخی نظریہ پاکستان مارچ منعقد ہونگے۔پانچوں صوبوں و آزاد کشمیر کے ہر شہر میں تحفظ نظریہ پاکستان مہم جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں سب سے زیادہ افرادی قوت مسلمانوں کی ہے ۔وسائل کی دولت سے مالامال بھی مسلمان ہیں لیکن دنیا بھر میں غلامیوں کا شکار بھی ہیں۔جب امت مسلمہ نے قربانیوں و شہادتوں والا راستہ ترک کیا تو آزمائشوں میں مبتلا ہو گئے۔اسلام میں فرقہ واریت کی گنجائش نہیں۔قرآن و سنت پر عمل پیرا ہونے سے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی ملے گی۔جماعۃالدعوۃ پاکستان کی طرف سے سیالکوٹ، راولپنڈی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گھوٹکی، کراچی اور دیگر شہروں میں بھی نظریہ پاکستان کانفرنسوں، جلسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا جن میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ کانفرنسوں اور اجتماعات سے جماعۃالدعوۃ کے رہنماؤں مولانا محمد شمشاد احمد سلفی، مولانا عبدالعزیز المدنی، مولانا غلام قادر سبحانی، قاری احمد سعید ملتانی،مولانا محمد عمر ربانی، حافظ سیف اللہ اعظم و دیگر نے خطابات کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر بنا تھا مگر بڑی دیر سے کوشش ہو رہی ہے کہ پاکستان کو اپنے نظریئے اور مقصد سے ہٹایا جائے۔اسی سازش کے تحت وطن عزیز میں لسانیت پرستی اورعصبیتوں کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتون کا مسئلہ نہیں۔ بیرونی قوتیں مسلمانوں کو علاقائیت اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ اسی بنیاد پر سندھ، بلوچستان اور دیگر خطوں میں علیحدگی کی تحریکیں کھڑی کرنے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام و پاکستان دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے 23مارچ کو نظریہ پاکستان کانفرنسوں ،سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا تا کہ قوم کو پاکستان کے حصول کا مقصد یاد دلایا جا سکے ۔اسی سے اختلافات ختم ہو ں گے اور قوم کو متحد و بیدار کیاجاسکے گا۔

مزید :

صفحہ آخر -