پولیس نے معظم گینگ کے زیر حراست ملزم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا

پولیس نے معظم گینگ کے زیر حراست ملزم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ...
پولیس نے معظم گینگ کے زیر حراست ملزم کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا
کیپشن: pic

  

                                                                                                     لا ہو ر (کرا ئم سیل ) ناکافی شہادتیں یا ریکوری ہڑپ کرنے کا روائتی انداز ،رواں ماہ کے دوران سی آئی اے نوانکوٹ نے دوسرا جعلی پولیس مقابلہ کرتے ہوئے دوران ڈکیتی خواتین سے مبینہ طور پر بد اخلا قی کرنے والے زیر حراست ملزم کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ،روائتی مقابلے میں اجرتی قاتلوںاورمعظم گینگ کے ہاتھوں پولیس اہلکار محفوظ رہے جبکہ سرکاری گاڑی چھلنی ہو گئی ،ایک مارا گیا 6 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے نوانکوٹ کی طرف سے اجرتی قاتل اور خطرناک ڈکیت عمران عرف مانی کی گرفتاری کے دوران6 خطرناک ساتھیوں سمیت مقابلے کے دوران ہلاک کر دیا گیا اور واقعہ میں پولیس روائتی طور پر محفوظ رہی جبکہ سرکاری جیب چھلنی ہو گئی ،روائتی مقابلے کے دوران پولیس اس بات کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہی کہ ایسے ڈکیت گینگ کی گرفتاری کیلئے کسی بھی قسم کی فورس نہ تو حاصل کی گئی اور نہ مقابلے کے دوران خطرناک منعظم گینگ کی اندھا دھند فائرنگ کے دوران کسی بھی اہلکار کو ملزمان کی ایک گولی بھی چھو کر نہ گزری ہے۔ پولیس کی طرف سے روائتی موقف کے دوران گذشتہ روز صبح 5 بجے انہیں معلوم ہوا کہ سی آئی اے نوانکوٹ کی حراست سے ہتھکڑی سمیت فرار ہونے والے ملزم عمران عرف مانی کی گرفتاری کیلئے سندر کے علاقہ میں چھاپہ مار گیا تو فائرنگ کے دوران ٹارگٹڈ ملزم عمران عرف مانی ہی مارا گیا جبکہ اس کے ساتھی نامعلوم ملزم فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سی آئی اے کی طرف سے رواں ماہ کے دوران دوسرا پولیس مقابلہ کیا گیا ہے اور ان دونوں پولیس مقابلوں کے دوران تین خطرناک ملزمان مارے گئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق گذشتہ روز ہونے والے مقابلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ سی آئی اے کی طرف سے 11 مارچ کو سی آئی اے نوانکوٹ کے سب انسپکٹر محمدافضل نے معظم ڈکیت گینگ کے خطرناک ملزم عمران عرف مانی کو سند ر کی ایک ہاﺅس روبری کے مقدمہ نمبری 596/13 کے سلسلے میں کیمپ جیل سے مقامی عدالت کے حکم پر نکلوایا تاہم مقامی مجسٹریٹ سے اس کا ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد 14 مارچ کو ملزم عمران عرف مانی کا ہتھکڑی سمیت فرار ہونے پر تھانہ نوانکوٹ میں مقدمہ درج کرادیا گیا جس کا مقدمہ نمبری 211/14 بجرم بی 223 سب انسپکٹر محمد افضل کی مدعیت میں ہی درج کیا گیا تاہم اس کیس میں ملزم کی فراری کے ذمہ دار کانسٹیبل خالد اور عاشق کو پولیس نے نہ تو حراست میں لیا اور نہ ہی اس کو شامل تفتیش کرتے ہوئے معطل کیا گیا جو کہ دونوں بدستور سی آئی اے نوانکوٹ میں ڈیوٹی پر موجود ہیں ۔سی آئی اے سمیت دیگر پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت مارے جانے والے ملزمان کو کن کے کہنے پر مارا جارہا ہے ،کیا زیر حراست خطرناک معظم گینگ کے ملزمان کو ناکافی شہادتوں پر قتل کیا جاتا ہے یا پھر ان خطرناک ملزمان سے برآمد کی جانے والی کروڑوں روپے کی ریکوری کو حاصل کرنے کے بعد پولیس کی طرف سے بنائی جانے والی رپورٹس پر اعلیٰ حکام کو اپنی مرضی کی رپورٹ پر بریفنگ کے بعد احکامات حاصل کرنے کے بعد قتل کیا جارہا ہے ۔تاہم گذشتہ روز کے مقابلے میں مارے جانے والے خطرناک ملزم عمران عرف مانی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم دوران واردات گھر میں موجود خواتین سے بد اخلا قی بھی کرتا تھا واضح رہے کہ زیر حراست ملزم عمران عرف مانی کو گذشتہ سال سمن آباد میں ہونے والی ہاﺅس روبری کے دوران خاتون سے بد اخلا قی کرنے پر سمن آباد انویسٹی گیشن پولیس نے گرفتار کیا تھا جبکہ ملزمان کو 5 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا ۔

مزید :

علاقائی -