50سے زائد کارگو اور مسافر ایجنٹوں کو 30کڑوڑ کے واجبات معاف کر دیئے

50سے زائد کارگو اور مسافر ایجنٹوں کو 30کڑوڑ کے واجبات معاف کر دیئے

  

            لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کی انتظامیہ 50سے زائد کارگو اور مسافر ایجنٹوں سے واجبات وصول کرنے میں ناکام ہوگئی۔ کمپنی کی انتظامیہ نے سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدم دستیابی ، ایجنسی بند ہونے یا دیوالیہ ہونے پر متعدد ملکی و غیر ملکی ایجنٹوں کے واجبات معاف کردیئے ۔جس سے کمپنی کو 30کروڑ روپے سے زائد نقصان کا سامنا ہے۔ معلوم ہواہے کہ پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کی کریڈٹ پالیسی کے تحت ماہانہ 1.25فیصد کاسٹ کے ہمراہ کارگو اور مسافر ایجنٹوں کو واجبات کی ادائیگی کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا وقت دیا جاسکتا ہے۔لیکن 50سے زائد کارگو اور پیکس ایجنٹوں نے گزشتہ کئی ماہ سے واجبات ادا نہیں کئے ۔اور عدم دستیابی ، ایجنسی بند ہونے یا دیوالیہ ہونے پر پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کمپنی نے متعدد ملکی و غیر ملکی ایجنٹوں کے واجبات معاف کردیئے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمپنی نے بعض کارگو اور مسافر ایجنٹوں کے واجبات محض اس لیے معاف کردیئے کہ ان کے ساتھ مقدمے بازی میں کمپنی کا واجبات کی نسبت زیادہ نقصان ہورہا تھا۔جس سے کمپنی کو قریب30کروڑ روپے سے زائد نقصان کا سامنا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی پیکس اور کارگو ایجنٹ خود تو پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کمپنی سے لگا تا ر مالی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ لیکن کمپنی کی کریڈٹ پالیسی کو خاطر میں لانے اور اپنے واجبات بروقت ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق بہت سے کارگو اور پیکس ایجنٹوں کو کمپنی کے اعلیٰ افسروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی ایسے نادہندگا ن سے واجبات وصول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوتی ہے۔پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کے پسنجر سیلز مینوئل کے تحت قومی ائیر لائن کی ٹکٹوں کی سیل پرچیز کی رپورٹ پندرہ یوم کے اندر کمپنی کو فراہم کرنا اور اگلے پندرہ یوم کے اندر مسافر (پیکس)ا یجنٹوں سے ریکوری لازمی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ملک کے اندر اور ملک سے باہر قومی ائیر لائن کے پیکس ایجنٹ بروقت واجبات ادا نہیں کرتے ۔ جس سے کمپنی کو سالانہ بھاری نقصان کا سامنا ہے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائن کے جنرل مینجر پبلک افئیر زمحمد مشہود تاجورکا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ بہت سے کارگو اور پیکس ایجٹ واجبات ادا نہیں کررہے۔ اور بہت سے ایجنٹوں کو دیوالیہ ہونے ، یا ایجنسی بند ہونے یا عدم دستیابی کے باعث واجبات معاف کردئیے گئے ہیں۔اور بعض ایسے ایجنٹ بھی ہیں۔ جو مقدمے بازی میں واجبات کی نسبت کمپنی کو زیادہ نقصان پہنچار ہے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ ایجنٹوں کی بڑی تعداد سے ریکوری کی بھی گئی ہے۔

پی آئی اے

مزید :

صفحہ آخر -