خواجہ آصف کن قوتوں کے اشارے پر مزاکرات داﺅ پر لگانا چاہتے ہیں ،طالبان

خواجہ آصف کن قوتوں کے اشارے پر مزاکرات داﺅ پر لگانا چاہتے ہیں ،طالبان

  

                                               اسلام آباد (اے این این)کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف کن قوتوں کے اشارے پر مذاکرات داﺅ پر لگانا چاہتے ہیں؟ ، وزیر دفاع نہیں جانتے کہ خفیہ ایجنسی کے کتنے حراستی مراکز ہیں، ہم نے اپنی کمیٹی کو بطور ثبوت کچھ غیر عسکری قیدیوں کی فہرست دی ، اگر رہائی میں پیش رفت ہوئی تو مزید نام پیش کردئیے جائیں گے ۔پیرکو اپنے ایک بیان میں شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ فاٹا ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک کے ہر حصے میں خفیہ حراستی مراکز موجود ہیں جنہیں حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے قانونی حیثیت دے دی ہے ان حراستی مراکز میں خواتین اور بچوں سمیت طالبان کے غیر عسکری قیدی موجود ہیں،خواجہ آصف کوان حراستی مراکزکی تعدادکاعمل نہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی کمیٹی کو بطور ثبوت کچھ غیر عسکری قیدیوں کی فہرست دی ہے اگر ان قیدیوں کی رہائی میں پیش رفت ہوئی تو مزید نام پیش کردئیے جائیں گے۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ وزیر دفاع نہیں جانتے کہ خفیہ ایجنسی کے کتنے حراستی مراکز ہیں۔ خواجہ آصف کن قوتوں کے اشارے پر مذاکرات داﺅ پر لگانا چاہتے ہیں۔ حکومتی کیمپ میں کنفیوژن موجود ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کی تحویل میں کوئی بھی خاتون اور بچہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاتھاکہ اگر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم کیا تو حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی تحویل میں کوئی عورت یا بچہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان نے یکم مارچ سے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔اس جنگ بندی کے بعد بارہ مارچ کو تحریکِ طالبان کی جانب سے سکیورٹی اداروں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -