سپریم کورٹ کا ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

سپریم کورٹ کا ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

  

                                                        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے مظفرگڑھ زیادتی کیس کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دے دیا اور 10روزمیں رپورٹ طلب کرلی۔عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ازخود نوٹس لیا تو پولیس نے پرچہ درج کیا ورنہ تفتیشی افسر نے تو محض ملزم کے بیان پر اسے بے گناہ قرار دے دیا تھا،لڑکی پولیس کی کارکردگی اور رویہ سے مطمئن نہیں تھی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انصاف نہ ملنے پر دلبرداشتہ لڑکی کی خودسوزی کے ازخودنوٹس کیس کی۔ دوران سماعت آئی جی پنجاب خان بیگ نے واقعے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نادر کا لڑکی کے گھر والوں سے لین دین کا تنازع تھا اور ملزم کے بھائی نے لڑکی کی بہن سے پسند کی شادی کی،دونوں خاندانوں کے درمیان کاروباری تعلقات موجود تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے ازخود نوٹس لیا تو پولیس نے پرچہ درج کیا ورنہ تفتیشی افسر نے تو محض ملزم کے بیان پر اسے بے گناہ قرار دے دیا تھا،خود سوزی کرنے والی لڑکی مقامی پولیس کے رویے اور تفتیش سے مطمئن نہ تھی اس لئے اس نے خودسوزی جیسا سنگین قدم اٹھایا، حفاظتی اقدامات کئے جاتے تو لڑکی کو بچایا جاسکتا تھا لیکن پولیس محض تماشا دیکھتی رہی جو اس کی غفلت اور کوتاہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آئی جی نے عدالت کو بتایاکہ ڈی ایس پی نے ملزم نادر کو بے گناہ قراردیاتھاتاہم پانچ گواہان نے متاثرہ لڑکی کے بیان کی تصدیق کی تھی۔ گواہان کے بیان پر غفلت برتنے والے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرلیاگیاہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایس ایچ او کے خلاف صرف پرچہ درج کرلینا کافی نہیں ہے،تحقیقات کیلئے اے آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ دوران تفتیش تبصرہ نہیں کرناچاہتے ، آئی جی پنجاب دس دن میں رپورٹ دیں۔

مزید :

صفحہ اول -