سپریم کورٹ نے ای او بی آئی میں 238تقرریاں کا لعدم قرار دیدیں

سپریم کورٹ نے ای او بی آئی میں 238تقرریاں کا لعدم قرار دیدیں

  

                                                                  اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ نے ای او بی آئی میں کی جانے والی 238خلاف قانون تقرریوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کو سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے داماد کی تقرری کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دےدیا۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت کی۔ فاضل بینچ نے سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں 238 تقرریاں کالعدم قرار دیتے ہوئے خالی اسامیوں پر قواعد و ضوابط اور کوٹے کو مدنظر رکھ کر بھرتیاں کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ادارے میں تقرریوں کے ذمہ دار چیئرمین ای او بی آئی ہوں گے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نیب سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کے داماد راجہ عظیم الحق کی تقرری کے معاملے کی ایک ماہ میں تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے اور رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ نئی کی جانیوالی تقرریوں کے ذمہ دار چیئرمین ای او بی آئی ہونگے

مزید :

صفحہ اول -