سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر بطور تحفہ دیئے یہ قرض نہیں

سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر بطور تحفہ دیئے یہ قرض نہیں

  

                                                        اسلا م آباد(اے این این ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے بتایاہے کہ سعودی عرب کی طرف سے فراہم کی جانے والی ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم قرض نہیں بلکہ تحفہ ہے ، شام کے حوالے سے پالیسی تبدیل نہیں ہوئی وہاں اسلحہ یا جنگجو بھیجنے کا الزام بے بنیاد ہے، سعودی حکام سے غیرقانونی پاکستانیوں کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، سفارتخانے نے غیرقانونی طور پر رہائش پذیر پاکستانیوں کواب تک 3448 ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کئے ہیں۔ پیر کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی حاجی عدیل کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ کمیٹی میں غیر ملکی قرضہ جات کیلئے پارلیمنٹ کی توثیق کے بل 2007ءپر بحث کی گئی۔ سیکرٹری قانون و انصاف بیرسٹر سیف اللہ نے کہا کہ عالمی معاہدوں کی توثیق کا اختیار کابینہ کے پاس ہونا چاہیے نہ کہ پارلیمنٹ اس کی منظوری دے ۔انہوں نے کہاکہ برطانیہ اور کئی ممالک میں عالمی معاہدوں کی منظوری کابینہ دیتی ہے ۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کمیٹی کوبتایا کہ سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے 3448 ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کئے گئے ہیں تاکہ انہیں واپس بلایا جاسکے۔ پی آئی اے کیساتھ معاہدہ کیا ہے کہ جن پاکستانیوں کے کاغذات مکمل ہیں انہیں ایک ہزار سعودی ریال کے ٹکٹ پر واپس بھیجا جائے گا۔ پی آئی اے 1500 سعودی ریال کی بجائے ایک ہزار سعودی ریال میں واپس لانے کیلئے تیار ہے اس حوالے سے سعودی حکام سے بات چیت کررہے ہیں کہ غیرقانونی لوگوں کو پی آئی اے کے ذریعے پاکستان لایا جاسکے۔ سعودی حکام سستی فلائٹ کے ذریعے پاکستانیوں کو واپس بھیجتے ہیں جس پر کئی لوگ وہاں ڈیپوٹیشن سنٹر میں انتظار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ سعودی عرب میں ڈیپوٹیشن سنٹر میں کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب‘ دبئی اور انگلینڈ میں کمیونٹی کی سروس کیلئے باقاعدہ کام شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے لندن قونصلیٹ کا دورہ کیا کہ وہاں جلد ایک نئی عمارت کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ جدہ میں جلد ایک نئے قونصلر سروسز کی تعمیر کا آغاز کریں گے۔ کمیٹی اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے حاجی عدیل نے کہا کہ مشیر خارجہ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی امداد غیر مشروط ہے۔ سعودی عرب نے جو ڈیڑھ ارب ڈالر دئیے ہیں وہ تحفہ ہے قرض نہیں‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسلحہ فروخت کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔ حاجی عدیل نے کہا کہ سرتاج عزیز نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب اور ایران میں توازن رکھنا ہوگا۔ اسلحہ فروخت نہیں کررہے ہیں۔ بحرین کے فرمانرواءتجارت کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کی شام کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہم جنیوا ون اور جنیوا ٹو معاہدوں کی حمایت کرتے ہیں۔ شام کی لڑائی میں ملوث نہیں ہوں گے نہ اسلحہ دیا جائے گا۔ پاکستان سے ہتھیار یا جنگجو شام نہیں بھیجے گئے۔ شام سمیت کسی ایسے ملک کو ہتھیار نہیں دیئے جائیں گے جہاں خانہ جنگی جاری ہو۔ سرتاج عزیز نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم جلد ایران کا دورہ کریں گے۔ کمیٹی نے چین میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چین میں دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی طرح چین کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -