اس عمر میں ہمارے لوگ بستر پر لگ جاتے ہیں لیکن اس یورپی خاتون نے ایسا کام کردیا کہ آپ کو یقین نہ آئے گا

اس عمر میں ہمارے لوگ بستر پر لگ جاتے ہیں لیکن اس یورپی خاتون نے ایسا کام کردیا ...
اس عمر میں ہمارے لوگ بستر پر لگ جاتے ہیں لیکن اس یورپی خاتون نے ایسا کام کردیا کہ آپ کو یقین نہ آئے گا

  

پیرس (نیوز ڈیسک) علم کی جستجو ایک ایسا مشغلہ ہے کہ جس کے لئے ماہ و سال کی پابندیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں، یعنی انسان جس عمر میں بھی چاہے علم کے چشمے سے اپنی پیاس بجھاسکتا ہے۔ فرانس کی ایک معمر خاتون نے اس کی خوبصورت عملی مثال پیش کرتے ہوئے 30 سال قبل شروع کی گئی پی ایچ ڈی بالآخر 91 سال کی عمر میں مکمل کرکے دنیا کے لئے نئی مثال قائم کردی۔

اخبار دی گارڈین کے مطابق کولیٹ بورلیئر نامی خاتون نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد پی ایچ ڈی پر کام شروع کیا۔ وہ فرانس میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعلیم و تربیت سے وابستہ تھیں اور اسی کام کے دوران انہیں پناہ گزینوں پر تحقیق کا خیال آیا۔ کولیٹ نے اس موضوع پر کام شروع تو کر دیا، لیکن اپنے حالات کی وجہ سے بار بار اسے روکنا پڑا، البتہ انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ منگل کے روز انہوں نے مشرقی فرانس کی فرانش کونٹے یونیورسٹی میں 91 سال کی عمر میں اپنے پی ایچ ڈی تھیسز کا کامیاب دفاع کیا۔

مزید جانئے: بچے کی ڈلیوری کے دوران ماں بننے والی نوجوان لڑکی کا ایسا اقدام کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا، تصاویر بھی جاری کردیں

کولیٹ نے اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل میں ہونے والی تاخیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ”مجھے پی ایچ ڈی مکمل کرنے میں کچھ تاخیر ہوگئی۔ دراصل اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے بار بار وقفہ لینا پڑا۔“ اس موقع پر ان سے سوالات کرنے والے پروفیسر ان کی محنت اور لگن کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ کولیٹ کے پی ایچ ڈی تھیسز کا موضوع ”امیگرنٹ ورکرز ان بسینکن ان دی سیکنڈ ہاف آف دی ٹونٹیئتھ سینچری“ تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -