وہ ملک جہاں ہر ہفتے ایک یونیورسٹی کھولی جارہی ہے اور امریکہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے

وہ ملک جہاں ہر ہفتے ایک یونیورسٹی کھولی جارہی ہے اور امریکہ شدید پریشانی میں ...
وہ ملک جہاں ہر ہفتے ایک یونیورسٹی کھولی جارہی ہے اور امریکہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے

  

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں ہر دوسرا شخص دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھتا نظر آتا ہے، لیکن دراصل یہ کام کیسے کیا جا سکتا ہے، ہمارے دوست ملک چین نے اس کی عملی مثال پیش کردی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین میں ایک خاموش انقلاب برپا کیا جا رہا ہے، جو آنے والی چند دہائیوں کے دوران دنیا میں طاقت کا نقشہ مکمل طور پر بدل دے گا۔ اس انقلاب کے لئے تباہ کن ہتھیاروں کی ضرورت ہے نہ دنیا پر چڑھائی کی، بلکہ یہ انقلاب بہت بڑی تعداد میں یونیورسٹیاں قائم کرکے لایا جارہا ہے۔

بی بی سی کے مطابق چین میں نئی یونیورسٹیاں اس قدر تیزی کے ساتھ بنائی جارہی ہیں کہ اوسطاً ہر ہفتے ایک نئی یونیورسٹی قائم ہورہی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل کی معیشتیں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے گریجوایٹس کی تعداد پر انحصار کریںگی اور جس ملک کے پاس ان گریجوایٹس کی تعداد زیادہ ہوگی وہی زیادہ طاقتور ہوگا۔

مزید جانئے: دنیا کی خطرناک ترین جیل جس میں پولیس بھی جانے کی ہمت نہیں کرتی لیکن پھر بھی پوری دنیا سے سیاح یہاں ایک ایسی چیز لینے آتے ہیں جو کہیں اور اتنی آسانی سے نہیں ملتی

رپورٹ کے مطابق 2030ءتک امریکا اور یورپ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے گریجوایٹس کی تعداد میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران چین میں ان گریجوایٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوگا۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2030ءتک دنیا کی بڑی معیشتوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے گریجوایٹس میں سے تقریباً 60 فیصد کا تعلق چین سے ہوگا، جبکہ یورپ میں ان گریجوایٹس کی تعداد 8فیصد اور امریکا میں صرف چار فیصد ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت امریکا اور یورپ سو رہے ہیں، جبکہ چین پوری رفتار سے دوڑ رہا ہے، اور وہ وقت دور نہیں کہ جب چین اس قدر آگے نکل چکا ہوگا کہ مغرب کے لئے تمام تر کوشش کے باوجود اس کے برابر پہنچنا ممکن نہیں رہے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -