وہ سیاسی جماعت جو صرف 25ہزار فیس بک لائیکس پر الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دے رہی ہے

وہ سیاسی جماعت جو صرف 25ہزار فیس بک لائیکس پر الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دے رہی ہے
وہ سیاسی جماعت جو صرف 25ہزار فیس بک لائیکس پر الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دے رہی ہے

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا صارفین جانتے ہیں کہ یہ غیر روایتی میڈیا کس قدر طاقتور ہے، لیکن شاید کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایک بڑی سیاسی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بھی سوشل میڈیا پر مقبولیت کو معیار بنا لیا جائے گا۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے کچھ ایسا ہی کردکھایا ہے، جس کے صدر امیت شاہ نے اترپردیش کی اسمبلی کا رکن بننے کے خواہشمندوں پر واضح کردیا ہے کہ اگر ٹکٹ چاہیے تو فیس بک پر 25ہزار لائیکس یا ٹوئٹر پر 25 ہزار فالوورز کا بندوبست کریں۔

امیت شاہ کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں لوگوں سے رابطے کے لئے سوشل میڈیا پر سرگرم ہونا بے حد ضروری ہے لہٰذا سیاستدانوں کے لئے سوشل میڈیا پر عوامی رابطہ ایک بنیادی شرط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2017ءمیں ہونے والے الیکشن کے لئے اگر کسی کو پارٹی کا ٹکٹ چاہیے تو سوشل میڈیا پر اس کے 25 ہزار فالوورز ہونے چاہئیں یا 25 ہزار لائیکس ہونے چاہئیں۔

مزید جانئے: ’رہنے کیلئے دنیا کے مہنگے اور سستے ترین شہروں کی فہرست جاری‘ پاکستان کے کن شہروں نے جگہ بنائی؟ آپ بھی جانئے

یہ اعلان سامنے آنے کے بعد بی جے پی کے اکثر سیاستدانوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ بی جے پی کے ریاست اتر پردیش کے صدر لکشمی کانت باجپائی کی پارٹی میں انتہائی اہم پوزیشن ہے، مگر ٹویٹر پر ان کے فالوورز کی تعداد صرف 10ہزار ہے۔ اسی طرح دیگر سیاستدانوں میں سے کسی کے فالوورز 5ہزار ہیں، تو کسی کے 3 ہزار اور کچھ تو ایسے ہیں کہ جو سوشل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتے۔

ان سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت کوئی معیار نہیں ہے۔ ایک اہم سیاستدان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں اور ان کے ووٹرز کی بڑی تعداد کا تعلق پسماندہ اور ان پڑھ طبقے سے ہے جو سوشل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سوشل میڈیا کے معیار کو دیکھا جائے تو وہ نااہل ہیں، جو کہ سراسر زیادتی کی بات ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -