کراچی اور نئی سیاسی جماعت

کراچی اور نئی سیاسی جماعت
 کراچی اور نئی سیاسی جماعت

  

پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاست پر ایسے زمینداروں کا قبضہ ہو جو انتخابی نشست کو بھی موروثی جا ئیداد تصور کرتے ہوں اور ایسے سرمایہ داروں اور نو دولتئے جو انتخابی سیاست میں پیسے کے سہارے انتخاب جیتنے کو اپنا حق تصور کرتے ہوں، کسی نئی سیاسی جماعت کی مقبولیت کے اسباب کم ہی نظر آتے ہیں۔ پھر عوام خصوصا متوسط تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے ملازمت پیشہ اور تاجر حضرات بھی اپنی پسند کی بنیاد پر سیاسی جماعت کی مالی مدد کرنے پر تیار نہ ہوں، (بھتہ اور رشوت ضرور دیتے ہیں) سیاسی جماعت کے پنپنے کے آثار کم ہی ہوتے ہیں۔ جماعت کے پاس یا تو کوئی اتنی بھاری بھر کم پر کشش شخصیت ہو جس کے گرد عام لوگ جمع ہو سکیں یا وہ شخصیت خود اتنی پر کشش گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو جو لوگوں کو اپنا گرویدہ بناسکے۔ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان میں عمران خان نے سیاست میں اپنا مقام بنانے میں 18 سال صرف کئے تب کہیں جاکر انہیں عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ میاں نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر بھٹو کی مثالیں مختلف نوعیت رکھتی ہیں۔ میاں صاحب فوجی حکومت کے سہارے اپنے لئے راستے بناتے گئے پھر انہیں پذیرائی حاصل ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کو تو ابتداء ہی سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایسے فوجی آمر کی جانب سے انہیں سختیاں جھیلنا پڑیں جس کے دور میں ان کے والد مرحوم کو تختہ دار پر چڑ ہا دیا گیا۔ انہیں دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑا۔ الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے آغاز سے قبل ذہن سازی کی، ساتھیوں کا حلقہ بنایا، رات دن ان کی تربیت کی۔ تب کہیں جاکر 18مارچ 1984کو ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی گئی۔

سیاسی جماعت قائم کردینا اور اعلان کردینا کوئی مشکل یا بڑا کام نہیں ہوتا ۔ اصل بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ اس پارٹی کو عوا م الناس میں پذیرائی کب اور کیسے اور کتنی ملنا ممکن ہوتی ہے۔ کراچی کے ایم کیو ایم کے سابق ناظم مصطفی کمال اپنی پارٹی کی قیادت سے کتنے ہی ناراض کیوں نہ تھے، خاموشی اختیار کر گئے تھے۔ پھر ملک بھی چھوڑ گئے تھے۔ اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے وہ اسی مہینے واپس کراچی آئے اور انہوں نے پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ان کے پاس ابھی تک پارٹی کے قیام کے سلسلے میں کوئی ہوم ورک بھی مکمل نہیں ہے۔ ان کے خیال میں انہیں یہ سہولت ضرور حاصل ہے کہ ایم کیو ایم سے خوف زدہ برگشتہ لوگ، ایم کیو ایم سے ناراض اور نالاں لوگ، ایم کیوا یم کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عتاب کے شکار لوگ ان کی قوت اور سہارا بنیں گے ۔ انیس قائم خانی تو ان کے ساتھ ہی وطن لوٹے ۔ کراچی میں ان کی آمد کے بعد دیگر لوگوں نے بھی ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ رضا ہارون آگئے۔ ابھی اور لوگ بھی ہاتھ ملائیں گے۔ شمولیت اختیار کریں گے۔

یہ قیاس بھی زوروں پر ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی کسی وقت اس گروہ میں شامل ہو جا ئیں گے یا اس کی قیادت کریں گے۔ عشرت العباد خود بھی الطاف حسین سے اس حد تک ناراض ہیں کہ بحالی تعلقات بھی ممکن نہیں ۔ وہ گورنر جو بھرے جلسوں میں گورنر ہونے کے باوجود الطاف حسین کو بھائی بھائی کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ، اب مکمل طور پر الطاف حسین مخالف طاقتور قوتوں کے ہم جولی ہو گئے ہیں۔ ان کے لئے ایم کیو ایم کی وہ سیاست اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہے جس کی وجہ سے انہیں گورنر جیسا جلیل القدر عہدہ نصیب ہوا تھا۔ ایم کیو ایم جیسی بھی رہی ، جن موافق اور غیر موافق حالات کا شکار رہی، گورنر وہ ہی رہے۔ جن آسائشوں کے ساتھ بھر پور پر تعیش زندگی انہوں نے گزشتہ دس سالوں میں گزاری ہے ان کے لئے یہ ممکن کیسے ہوگا کہ کسی سیاسی جماعت کی تنظیم سازی یا اس کی نگرانی بھی کرسکیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسا سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہوا۔ آل پاکستان مسلم لیگ قائم تو کردی گئی لیکن اس کی تنظیم سازی ہنوز مسئلہ ہے۔ اس لئے عشرت العباد جب بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے، بیرون ملک سدھار جائیں گے۔ پھر یہ بھی کیوں ممکن ہوگا کہ مصطفی کمال نے جتنا ہی سہی، پر خطر راستہ منتخب کیا ہو، اور جی کڑا کیا ہو، وہ کیوں کر گھوڑے کی لگام عشرت العباد کے حوالے کریں گے؟

مصطفی کمال نے کراچی کو کتنے ہی چار چاند کیوں نہ لگا دئے ہوں لیکن عام لوگوں کے لئے آج وہ بھی الطاف حسین مخالف عناصر میں شامل ہیں۔ الطاف حسین ہر لحاظ سے لوگوں سے کٹے ہوئے ہیں، پندرہ رکنی رابطہ کمیٹی عام لوگوں تک ان کا پیغام پہنچاتی ہے، اس پر لوگ کب تک کار بند رہیں گے اور کان دھریں گے ۔ پھر جب مختلف سطحوں پر الطاف حسین کی صحت کے بارے میں بھی تضادات سے بھری خبریں اور افواہیں رات دن گردش کر رہی ہوں تو لوگ کیوں کر رابطہ کمیٹی کی ہر بات کو من و عن تسلیم کریں گے، وہ بھی اس صورت میں جب ایم کیو ایم کے بنیادی ڈھانچہ میں ہی دڑاڑیں پڑ گئی ہوں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ لوگ الطاف حسین مخالف عناصر کے پر وپیگنڈے کی زد میں آجائیں گے یا ان کی مخالفت میں تشکیل دی گئی کسی سیاسی جماعت کا راتوں رات حصہ بن جائیں گے۔ یہ عام لوگوں کی بات ہو رہی ہے۔ ان لوگوں کی بات نہیں جو ایم کیو ایم میں کوئی نہ کوئی ذمہ دارانہ حیثیت رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کے ادھر ادھر ہونے کے باوجود عام لوگ کیوں کر کسی نئی جماعت کو پذیرائی بخشیں گے؟ جب لوگ ایسے لوگوں کے ماضی اور کردار سے بھی واقف ہوں ۔

پاکستان کی سیاست کے ماضی بعیدسے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ تمام خرابیوں کا ملبہ ایک شخص پر گرا دیا جاتا ہے، بقایا لوگ ڈرائی کلین ہو جاتے ہیں۔ تمام ادوار کو اٹھا کر دیکھ لیں، اس ملک میں کیا نہیں ہوا ہے۔ ہر دور کے بعد ایک شخص کو کفارہ ادا کرنے کے لئے چنا گیا۔ اس کے بعد کاروبار حکومت چلتا رہا۔ نہ سبق لیا گیا، نہ ہی گریہ زاری کی گئی۔ نہ ہی ماضی سے بے زاری کا کھلے عام اظہار کیا گیا۔ بے زاری کا بہت زیادہ اظہار اسی طرح کیا گیا جیسے آج مصطفی کمال اینڈ کمپنی کر رہی ہے۔ مصطفی کمال کو بھی اسی طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے کسی مسیحا کا انتظار تھا وہ آگیا ہے۔ ان کی تصویر کو ہی ہر جگہ نمایاں رکھا جاتا ہے۔ فرد واحد کی قیادت کے نقصانات ہم نے دیکھ لئے ہیں، اجتماعی قیادت اور ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے عام لوگوں کو دشوار گزار مسائل سے نجات مل سکے۔ اگر کمپنی کی پس پشت ایسٹبلشمنٹ ہے تو یہ نہ کوئی کار خیر ہے اور نہ ہی شر سے بچاؤ کی صورت ہے۔ کراچی میں ایک خانہ جنگی سر اٹھائے کھڑی ہے اور اس خانہ جنگی میں مہاجر ہی مہاجر کا گلہ کاٹ رہے ہوں گے۔ اگر ایسٹبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ صرف کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام سے کراچی کے عوام الناس کو درپیش مسائل پر امن طور پر حل ہو جائیں گے تو یہ خام خیالی سے زیادہ کچھ اور نہیں۔ نئی سیاسی جماعت کچھ لوگوں کو تحفظ تو دے سکے گی اور کچھ ہی لوگوں کے مسائل حل بھی ہو سکیں گے لیکن کراچی کچھ لوگوں کامعاملہ نہیں رہا ہے۔ آبادی کی اکثریت گھمبیر گونا گوں مسائل کا شکار ہے۔ ایسٹبلشمنٹ کو چاہئے کہ وفاق اور صوبے میں حکمرانی کرنے والی دونوں جماعتوں کو پابند بنائے کہ کراچی کے مسائل کا حل نئی سیاسی جماعت کے قیام کے ساتھ ساتھ انتظامی طور بھی تلاش کیا جائے۔

مزید :

کالم -