جعلی اور ملاوٹ والی خوراک، ادویات کا سدِ باب!

جعلی اور ملاوٹ والی خوراک، ادویات کا سدِ باب!

  

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پنجاب ایگریکلچرل، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی اور اسے ایک باقاعدہ ادارہ بنایا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ خوراک اور ادویات کے نام پر عوام کو زہر کھلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔صرف پنجاب ہی نہیں، پورے مُلک میں خوراک اور ادویات میں ملاوٹ اور جعلی اشیاء اور ادویات بنانے کی شکایات عام ہیں اور اب تو زرعی ادویات اور کھاد وغیرہ میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ دودھ، ہلدی، مرچ وغیرہ خریدتے وقت وسوسے پیدا ہوتے ہیں، لوگ رقم خرچ کر کے زہر خریدتے ہیں، جعلی ادویات سے اموات کا اپنا ریکارڈ ہے۔وزیراعلیٰ نے ان برائیوں کے سدِ باب کے لئے جس جذبے کا اظہار کیا ہے اور اتھارٹی بنا کر ان برائیوں سے قلع قمع کا جو یقین اور ارادہ ظاہر کیا ہے وہ قابلِ تحسین اور تعریف ہے۔تاہم گزارش یہ ہے کہ اس اتھارٹی کے لئے تمام اہم امور کو مدنظر رکھا جائے، قانون سازی کے لئے وکلاء سے مشاورت کر کے ایک مربوط اور منظم قانون بنایا جائے اور اس کے بعد جو اتھارٹی قائم ہو اس کے اراکین اور کارندے بھی دیانت دار ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ان برائیوں کے حامل افراد کے لئے سخت سزائیں بھی ہوں اور یہ بھی اہتمام کر لیا جائے کہ مقدمات ناں لٹکیں اور فیصلے جلد ہوں تاکہ اصلاح ممکن ہو سکے۔

مزید :

اداریہ -