بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار اور اقوام متحدہ؟

بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار اور اقوام متحدہ؟

  

بھارت میں تعصب کا جن بوتل میں جانے پر آمادہ نہیں اور متعصب ہندوؤں نے وہاں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں اور نچی ذات کے ہندوؤں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوئے، مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ اور گوشت کھانے کے الزام میں جان سے مار دیا گیا، حد یہ ہے کہ اب مختلف نعروں کو بھی مُلک دشمنی کا ذریعہ بنا لیا گیا اور ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ نہ کہنے والوں کو مُلک دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان رہنمااسد الدین اویسی نے کھل کرکہا کہ ان کی گردن کٹ جائے وہ ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کا نعرہ نہیں لگائیں گے کہ یہ بھارتی آئین میں نہیں لکھا ہوا، اب ایک اتفاق یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ایک رکن صوبائی اسمبلی وارث پٹھان کی رکنیت مہاراشٹر اسمبلی کے ایک سیشن کے لئے معطل کر دی گئی ہے۔ وارث پٹھان کو بھی یہی نعرہ لگانے کو کہا گیا تو انہوں نے انکار کیا اور وضاحت کی کہ وہ جے ہند کہہ سکتے ہیں، بھارت ماتا کی جے نہیں، اس پر اسمبلی کے ہندو اراکین جمع ہو گئے اور ایک قرارداد کے ذریعے ان کی رکنیت اس اجلاس کے لئے معطل کر کے ان کو ایوان سے باہر نکال دیا۔انتہا پسند ہندوؤں کے مختلف گروہوں اور ٹولوں کی ایسی متعصبانہ کارروائیوں کو اگرچہ عام لوگ بھی پسند نہیں کرتے، لیکن مذہبی تعصب یا خوف کی بنا پر ایسی کارروائیوں کی مذمت بھی نہیں کرتے۔ اب دلی سے آواز اُٹھی اس میں چند اور آوازیں ملی ہیں، لیکن یہ مذمت کی حد تک تو ہیں، ایسی کارروائیوں کو روکنے کی اہل نہیں ہیں۔بھارتی انتہا پسندوں کی اِن حرکات کی مذمت تو کی جا سکتی ہے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی آنکھیں اور کان بند کر لئے ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ کا ایک باقاعدہ شعبہ ہے جو اقلیتوں کے تحفظ کے اقدامات کا اہل اور اس کی ذمہ داری ہے، کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ،جب اقوام متحدہ اِن مظالم کے خلاف مداخلت کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھی خاموشی ہی نظر آتی ہے۔ اس سے عالمی ادارے کی کارکردگی اور وجود سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔

مزید :

اداریہ -