جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

  

وفاقی حکومت نے سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے، وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ، ان کے خلاف عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات جوں کے توں رہیں گے ، انہوں نے چار پانچ ہفتوں میں واپس آنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ واپسی پر مقدمات کا سامنا کریں گے ۔ چودھری نثار علی خان نے کہا اس فیصلے کے پیچھے کسی کو کوئی سایہ نظر نہیں آئے گا۔ گزشتہ روزسپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے جس کی سربراہی چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کر رہے تھے، جنرل(ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کی اپیل مسترد کر دی تھی تاہم فیصلے میں کہا گیاتھا کہ اگر وفاقی حکومت یا سنگین غداری کیس کی سماعت کے لئے قائم خصوصی عدالت کسی قانونی بنیاد پر ملزم کا نام ای سی ایل میں برقرار رکھنا چاہے تو سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ حکومت پرویز مشرف کے بیرون مُلک جانے کا فیصلہ خود کرے۔

جنرل(ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم سندھ ہائی کورٹ نے دیا تھا اُس وقت حکومت چاہتی تو عدالتِ عالیہ کے فیصلے پر عمل درآمد کر دیتی، اور اگر نام ای سی ایل سے نکال دیا جاتا تو عین ممکن تھا جنرل(ر) پرویز مشرف اُسی وقت بیرونِ مُلک روانہ ہو جاتے، لیکن حکومت نے اِس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جو اب مسترد ہو گئی ہے، تاہم فاضل عدالت نے اب بھی حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ قانونی حکم کے ذریعے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈال سکتی ہے یا پھر وہ خصوصی عدالت ایسا کوئی حکم دے سکتی ہے جو اُن کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ اب حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے جو سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی گزشتہ روز فوری طور پر ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئے اور بیرون مُلک جانے کے لئے رختِ سفر باندھنا شروع کر دیا تھا، 17مارچ کو علی الصبا ح ایمریٹس ائر لائن سے وہ دبئی جانا چاہتے تھے تاہم بعض فنی پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ روانگی ممکن نہ ہو سکی۔پرویز مشرف کے وکلاء نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اُن کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں ایسی تکلیف ہے، جس کا فوری علاج انتہائی ضروری ہے اور اگر اس میں تاخیر ہوئی تو فالج کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اپنے علاج کے لئے وہ فوری طور پر بیرون مُلک جانا چاہتے ہیں،زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ امریکہ میں علاج کرانا چاہیں گے مختلف عدالتوں میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف جو مقدمات زیرسماعت ہیں اُن کی واپسی تک وہ تمام مقدمات معرضِ التوا میں چلے جائیں گے۔ان میں سب سے بڑا مقدمہ تو آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا ہے، وہ اس مقدمے میں صرف ایک بار عدالت میں پیش ہوئے جب اُن پر فردِ جرم عائد ہوئی، اس کے بعد سے اب تک وہ اپنی بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے اس مقدمے میں اگلی تاریخ پیشی31مارچ مقرر ہے، دوسرا بڑا مقدمہ اسلام آباد کی سیشن عدالت میں غازی عبدالرشید کیس ہے، جس میں عدالت نے اُنہیں16مارچ کو طلب کیا تھا اور ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے، لیکن وہ خود پیش ہوئے نہ انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جا سکا، اب اسی عدالت نے2اپریل کے لئے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں، وہ بیرون ملک چلے گئے تو اس وقت تک واپسی ممکن نہ ہوگی اس لئے کوئی نئی تاریخ دی جاسکتی ہے، اس وقت دیکھنا ہو گا کہ وہ پیش ہوتے ہیں یا نہیں، اُن کے خلاف جو دوسرے مقدمات زیر سماعت ہیں ان میں سے بے نظیر بھٹو قتل کا مقدمہ اور ججوں کو حبس بے جا میں رکھنے کا کیس بھی شامل ہے۔

جنرل(ر) پرویز مشرف نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ چار پانچ ہفتوں میں واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کب تک صحت یاب ہو جائیں گے، پاکستان میں ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اُنہیں جو مرض لاحق ہے وہ زیادہ سنگین نہیں درست علاج کے ذریعے، اِس میں جلد شفایابی ممکن ہے۔ اُن کی پارٹی کے رہنما بھی کہہ رہے ہیں کہ علاج کے بعد وہ فوری طور پر واپس آ جائیں گے یہ بات محلِ نظر ہے کہ اب تک تو انہوں نے مقدمات کے سلسلے میں زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی، جب وہ اسلام آباد میں رہ رہے تھے تو عدالت میں جاتے جاتے راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی تو اُنہیں راولپنڈی میں امراضِ قلب کے فوجی ادارے میں داخل کرانا پڑا، وہاں سے صحت یاب ہو کر گھر آئے تو تھوڑے عرصے بعد کراچی منتقل ہو گئے، کوئٹہ میں اکبر بگٹی قتل کیس کا جو مقدمہ اُن کے خلاف زیر سماعت تھا اس میں تو وہ بغیر کسی پیشی کے بری ہو چکے ہیں ، دیگر مقدمات کا کیا انجام ہوتا ہے اِس کا انحصار استغاثہ کے رویئے پر ہے۔پاکستان میں جب سے1973ء کا آئین نافذ ہوا ہے اور اس میں آرٹیکل چھ شامل ہوا ہے، جنرل پرویز مشرف کے خلاف پہلی بار سنگین غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے، لیکن جس انداز میں یہ کیس چل رہا ہے لگتا ہے کہ یہ مقدمہ بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گا، نہ حکومت مقدمے کے سلسلے میں کسی جلدی میں لگتی ہے، نہیں معلوم یہ معاملہ کب تک کھٹائی میں پڑا رہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے فوری طورپر درست فیصلہ کرکے جنرل (ر) پرویز مشرف کے بیرون ملک علاج کی راہ ہموار کردی ہے۔ اب انہیں یہ شکایت بالکل نہیں ہوگی کہ حکومت نے انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا اور ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا ، اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ جونہی وہ علاج سے فارغ ہوں، وطن واپس آنے کا وعدہ پورا کریں۔ ویسے عدالتوں میں پیشی کے سلسلے میں تو ان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے دیکھیں ان کا نیا وعدہ کیسے پورا ہوتا ہے۔

مزید :

اداریہ -