حضرت امیر ملتؒ اور حضرت قائداعظمؒ

 حضرت امیر ملتؒ اور حضرت قائداعظمؒ

  

پروفیسر نور بلال

1946کا ایک واقعہ رئیس الا حرار مولانا حسرت موہانی ؒ بیان فرماتے ہیں کہ: ’’ ایک روز نماز فجر پڑھ کر علی الصبح اس نیت سے قائداعظم ؒ کی رہائش گاہ پر پہنچے کہ اس وقت قائداعظم ؒ تنہا اور فارغ ہوں گے اور ان سے خوب دل جمعی سے بات چیت ہو سکے گی چنانچہ وہ مُنہ اندھیرے وہاں پہنچے تو خادم نے مولانا کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا اور خود قائداعظمؒ کو اطلاع دینے کے لئے اندر چلا گیا۔ وہاں بیٹھے بیٹھے مولانا کی نظر ایک اندرونی دروازے پر پڑی جو ساتھ کے کمرے میں کھلتا تھا اور اس وقت اس پردوہ لٹک رہا تھا ۔ مولانا اپنی جگہ سے اٹھے اور اس دروازے کا پردہ اٹھا کر دوسرے کمرے میں یہ دیکھنے کے لئے کہ وہاں کون ہے اندر جھانکنے لگے۔ اندر بتی جل رہی تھی اور کمرے کے ایک کونے میں کوئی صاحب جائے نماز بچھائے قبلہ رو اپنے معبود کے روبرو سجدہ ریز تھے۔ حالت سجدہ میں پڑا جسم یوں لرز رہا تھا جیسے شدید گریہ طاری ہو۔ مولانا حسرت موہانی ؒ کا کہنا ہے کہ وہ صاحب محمد علی جناح ؒ تھے جو سجدہ میں خالق کائنات سے فریاد کناں تھے۔ اواخر جون 1945ء میں حضرت امیر ملت سید جماعت علی شاہ ؒ نے تحریک پاکستان کی حمایت میں ایک زبر دست بیان جاری فرمایا جس کا عنوان ’’ تحریک پاکستان اور صوفیاء کرام ‘‘ تھا۔ اس بیان کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ ’’محمد علی جناح ہمارا بہترین وکیل ہے اور مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے لہٰذاسب مسلمان قیام پاکستان کی جدوجہد میں شریک ہوں۔ حضرت امیر ملت سید جماعت علی شاہؒ نے قیام پاکستان کی حمایت میں اطراف و اکناف ملک کے دورے کئے اورقائداعظمؒ کے حق میں فضا ساز گار بنائی ۔ آپ نے پنجاب مسلم لیگ کے عام اجلاس منعقدہ لاہور کی صدارت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ دو قومی نظریہ سب سے پہلے سرسید احمد خان ؒ نے پیش کیاتھا اور علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے کلام کے ذریعے قوم کو متاثر کیا اب قائداعظمؒ نے اسی دو قومی نظریے کے بار آور ہونے کے لئے مسلمانوں کا علیحدہ وطن قائم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔اب ہمارا مقدمہ انگریز اور ہندو کے ساتھ ہے۔ مسلمانوں نے قائداعظمؒ کو اس مقدمے کا وکیل بنا لیا ہے اور پھر ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنا اور رکیک و سوقیانہ حملے کرنا کیا معنی؟ ما سوائے ذاتی کدورت و حسد کے۔ یہ تو ایک اصول کی بات تھی’’ اب رہی میری عقیدت اگر میں چراغ لے کر ڈھونڈوں تو مجھے ہندوستان میں ایک بھی جناح ایسا ایمان والا مسلمان نظر نہیں آتا جو اسلام کی ایسی خدمت بجا لا رہا ہو‘‘ اس کے بعد حضرت امیر ملت ؒ نے قائداعظمؒ اور تحریک پاکستان کی تائید وحمایت کے لئے سرگرمی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ مخالفین کی نیندیں حرام ہوگئیں ۔پیرانہ سالی کے باوجود طوفانی دوروں کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اوائل ستمبر 1945ء میں رہتک (حال انڈیا) کا دو روزہ دورہ فرمایا اور حسب سابق شہری و ضلعی مسلم لیگ کے سیکرٹری مالیات صاحبزادہ اختر علی صدیقی کو شرف میزبانی بخشا اور قلعہ میں ان کے دیوان خانہ میں قیام فرمایا اور رات کوعظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد کیا کہ: مسلمانو! دو جھنڈے ہیں ایک اسلام کا اور دوسرا کفر کا ۔بتاؤ تم اسلام کے جھنڈے کے نیچے جاؤ گے یا کفر کے۔ مسلم لیگ کا جھنڈا اسلام کا جھنڈا ہے۔ اب تم خود فیصلہ کرو کہ تم کس جھنڈے کے نیچے رہو گے ؟ حاضرین نے بلند آواز میں کہا کہ ہم مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے رہیں گے۔ 21ستمبر 1945ء کوسہ روزہ الامان دہلی میں حضرت امیر ملتؒ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مسلم لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیں۔ اپیل کے آخر میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا مسٹر جناح کی عمر دراز کرے جو ہندوستان کے مسلمانوں کے واحد لیڈر اور واقعی قائداعظم ؒ ہیں۔ 26نومبر 1945ء کو پیر صاحب مانکی شریف نے مانکی شریف ضلع پشاور میں قائداعظم ؒ کی ایک شاندار دعوت کی اور ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد بھی فرمایا۔ حضرت امیر ملت ؒ کو جلسہ کی صدارت کے لئے دعوت دی لیکن نا سازی طبع کے باعث تشریف نہ لے جا سکے اور اپنی جگہ اپنے فرزند اکبر پیر سید حافظ محمد حسین شاہ کو قائداعظم ؒ کے لئے سونے کا ایک تمغہ تین ہزار روپے کی تھیلی اور کئی دوسرے تخائف دے کر بھیجا۔ پیر صاحب مانکی شریف نے حضرات سراج الملت کی بڑی عزت افزائی فرمائی اور جلسہ کی صدارت انہیں کے سپرد کی۔ جب قائداعظم ؒ جلسہ میں آئے تو حضرت سراج الملت آگے بڑھے اور سونے کا تمغہ (جس پر کلمہ طیبہ کندہ تھا ) قائداعظم ؒ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر ملتؒ نے آپ کی کامیابی کے لئے طلائی تمغہ بھیجا ہے۔،، یہ سُن کر قائداعظم ؒ بہت خوش ہوئے، کرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہالگائیں۔ پھر تو میں کامیاب ہوں۔ اس پر مسلم لیگی کارکن ملک شاد محمد نے آگے بڑھ کر حضرت سراج الملت کے دست مبارک سے تمغہ لیا اور قائد اعظم کی شیروانی کی بائیں طرف سینے پر ٹانک دیا۔ قائد اعظم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور بیٹھ گئے ۔ مسلم لیگ کی حمایت میں ایک اعلان جاری فرمایا جس میں مریدین کے علاوہ تمام مسلمانوں کی اکثریت کو ہدایت کی گئی کہ مسلم لیگ کی حمایت کریں ۔حضرت امیر ملتؒ نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ جو مسلم لیگ میں شامل نہ ہو وہ مر جائے تو ان کے مرید ایسے شخص کا جنازہ بھی نہ پڑھیں ۔ 1945-46ء کے انتخابات کے سلسلے میں حضرت امیر ملتؒ نے ایک تاریخی بیان جاری فرمایا ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں نے فقیر کو امیر ملتؒ تسلیم کرلیا ہے۔ اب جملہ مسلمانان ہند کو اپنے امیر ملت کی رہنمائی پر عمل کرنا واجب ہے۔ جس طرح فقیر نے شملہ کانفرنس کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانان ہند کی واحد سیاسی جماعت ہے۔ اب چونکہ جدید انتخابات ہونے والے ہیں اس موقع پر جیسا کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مسلمانان ہند سے اپیل کی ہے کہ ہر ایک مسلمان کومسلم لیگ کے امیدوار کو ووٹ دینا چاہے فقیر بھی بحیثیت امیر ملت ،قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی اس اپیل کی پر زور تائید کرتا ہے۔ 11دسمبر 1945ء کو روز نامہ ’’وحدت‘‘ دہلی میں حضرت امیر ملت ؒ نے اپنے فتوے کااعادہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں فتوی دے چکا ہوں کہ جو مسلمان ،مسلم لیگ کو ووٹ نہ دے اس کا جنازہ نہ پڑھو او ر مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہ کرو ۔فقیر اپنے فتوے کا دوبارہ اعلان کرتا ہے کہ جو مسلم لیگ کا مخالف ہے خواہ کوئی ہواگر وہ مر جائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھا جاوے نہ مسلمانوں کی قبروں میں دفن کیا جائے۔1945-46ء کے انتخابات مسلمانوں کی قسمت کا فیصلہ تھے۔ حضرت امیر ملت ؒ اور ان کی اولاد امجاد نے طوفانی دورے کر کے مخالفین تحریکِ پاکستان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا ۔انہی دنوں آپ کو سیالکوٹ شہر میں تشریف لا کر خطاب فرمانے کی دعوت دی گئی۔ آپ شدید علالت کے باوجو دتشریف لائے ۔نقاہت کے باعث کسی جلسہ میں تقریر نہ کر سکتے تھے۔ آپ نے پکا گڑھا سیالکوٹ کی ایک آبادی میں قیام فرمایا۔ آپ کے مریدین اور ہزاروں شہری روزانہ حاضری دیتے تو چار پائی پر ہی حاضرین کو خطاب فرما دیتے اور تلقین کرتے کہ وقت کے تقاضے کے مطابق مسلم لیگی امیدواروں کی بھر پوراعانت کی جائے۔28دسمبر 1945ء کچی مسجد چاند ورضلع امراء تی انڈیا میں ایک بڑا عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں مندرجہ ذیل ریزولیشن پاس ہوا کہ حضرت امیر ملت صدر آل انڈیا سُنی کانفرنس پر مکمل اعتماد کا اظہار کر کے ان کے احکامات پر سر تسلیم خم کرنے کا اعلان کیاجاتا ہے۔ انتخابات میں مسلم لیگ کی مقبولیت سے بوکھلا کر انگریز حکومت نے ایک قانون جاری کیا جس کی رو سے مذہب اور اللہ کے نام پر ووٹ مانگنا جرم قرار دے دیاگیا اور اس جرم کی سزا تین سال قید اور جرمانہ بھی مقرر کیا گیا ۔اس پر لاہور کے ایک جیالے مسلم لیگی چودھری عبدالکریم آف قلعہ گوجر سنگھ نے جمعیت العلمائے اسلام پنجاب کی کانفرنس 11-10-9جنوری 1946ء کو اسلامیہ کالج لاہور کی گراؤنڈ میں بلائی جس کی صدارت حضرت امیر ملت ؒ نے فرمائی ۔ کانفرنس میں گورنر کے نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔،، حضرت امیر ملت نے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ حکومت اور کانگریس کان کھول کر سن لیں کہ اب مسلمان بیدار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی منزل مقصود متعین کرلی ہے۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ان کے مطالبہ پاکستان کو ٹال نہیں سکتی ۔بعض دین فروش نام و نہاد لیڈر مسٹر جناح کو برملا گالیاں دیتے ہیں لیکن انہوں نے آج تک کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔یہ ان کے سچا رہنما ہونے کا بڑا ثبوت ہے۔اس کانفرنس کے بعد حضرت امیر ملت نے بحیثیت صدر آل انڈیا سنی کانفرنس مسلم لیگ کی حمایت میں اپنا ایک دستخطی بیان ہفت روزہ الفقیہ امر تسر میں شائع کروایا کہ ’’ مسلم لیگ اہل اسلام کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اس سے الگ رہنے والے اسلام کے دشمن ہیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -