تقوی ماڈل سکول لاہورکی پانچویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات

تقوی ماڈل سکول لاہورکی پانچویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات

  

نظر یہ پاکستان کی اہمیت اجاگرکرنے والا ٹیبلو بہت ہی پسند کیا گیا

سبز ہلالی پرچم کے ساتھ روح کو گرمادینے والے ترانے پڑھے گئے

ثوبان ارشد

نوجوان کسی بھی قوم کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں تو تعلیمی ادارے نظریاتی مورچوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شعبہ تعلیم اور تعلیمی ادارے اغیار کے سپرد کر دینا گویا ملک کی سرحدیں دشمنوں کے سپرد کر دینے کے برابر ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انگریز جب برصغیر پر قابض ہوا تواس نے سب سے پہلے یہاں کے شعبہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کو اپنی مرضی ومنشا کے مطابق ڈھالا اور پھر طبقاتی نظام تعلیم کی بنیاد رکھی۔انگریز کے انخلا اور قیام پاکستان کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ نظام تعلیم کو قومی امنگوں اور نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ کیا جاتا لیکن اس ضمن میں دانستہ غفلت و لاپراہی کی گئی جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارانظام تعلیم ابتری کا شکار اور شتر بے مہار بن کر رہ گیا۔ہمارے ملک میں ہمارے سرکاری تعلیمی ادارے موجود ہیں اور ان میں پڑھانے والے لاکھوں اساتذہ بھی ہیں لیکن سر کاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کی حالت یہ ہے کہ ان کے اپنے بچے سر کاری اداروں میں نہیں پڑھتے باقی رہے پرائیویٹ تعلیمی ادارے تو ان کی حالت ’’اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ‘‘والی ہے۔ان حالات میں جماعہ الدعوۃ نے تعلیم کی اصلاح احوال ،علم کے فروغ اور بچوں کو بامقصد زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ’’الدعوۃ ماڈل سکول‘‘۔۔۔’’تقوی ماڈل سکول‘‘ کے نام سے تعلیمی اداروں کا ایک جال بچھایا۔ ان اداروں جہاں طلبہ و طالبات کو سائنس سمیت دیگر علوم وفنون کی تربیت دی جارہی ہے وہاں یہ ادارے نظم و ضبط اور اصلاحِ تربیت کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔ایسا ہی ایک تعلیمی ادارہ تقوی ماڈل سکول لاہور جوہر ٹاؤن میں واقع ہے ۔یہ سکول جماعہ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید کی اہلیہ نے پانچ سال قبل شروع کیا تھا۔اس سکول کی گذشتہ دنوں پانچویں سالانہ تقریب تقسیم انعامات منعقد ہوئی۔یہ بہت ہی خوبصورت ،باوقار اور بامقصد تقریب تھی۔تقریب میں ننھے منے طلبہ و طالبات نے تحریک پاکستان، نظریہ پاکستان،سانحہ پشاور اور ملک کو درپیش دیگر مسائل کے حوالے سے ٹیبلو پیش کئے اردو ،عربی اور انگریزی میں تقریریں کیں۔ایک بہت ہی عمدہ اور خوبصورت ٹیبلو میں ایک بچے نے علامہ محمد اقبال اور دوسرے نے قائداعظم بن کر پاکستان کے بارے میں گفتگو کی۔اسی طرح بچوں نے ملکی حالات کے حوالے سے ایک شاندار ٹاک شو پیش کیا۔بچوں نے ایمان افروز ترانے پُرجوش انداز میں پیش کئے۔ پروگرام میں ترانوں کے ساتھ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اور جماعہ الدعوۃ کا کلمہ طیبہ والا پرچم بھی لہرایا جاتا رہا،جس سے حاضرین سامعین اور والدین میں ایک نیا جوش وولولہ پیدا ہوتا رہا۔

اس موقع پر امیرجماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ جماعہ الدعوۃ ملک کو درپیش مسائل کی اصلاح دعوت و تبلیغ اور تعلیم وتربیت کے ذریعے کرنے پر یقین رکھتی ہے اگر ایک طرف فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ملک بھر میں دکھی انسانیت کی خدمت کر رہی ہے تو دوسری طرف ہمارے معیاری تعلیمی ادارے بچوں کو سچا مسلمان اور محب وطن شہری بنانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ دشمن ہمارے بچوں کو دہشت گردی کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے جبکہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب اور قلم دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ ملک اسلام کی جاگیر اور شہدا کی امانت ہے اپنی جانوں سے بڑھ کر ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ملک کی حفاظت نظریہ پاکستان کے احیا سے ہی ممکن ہے۔اس سلسلہ میں اساتذہ کو بھی آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا پاکستان کے استحکام اور بقا کے لئے ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب میں نظریہ پاکستان کو بنیادی اہمیت دی جائے۔نصاب تعلیم قومی امنگوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔بیرونی مدد حاصل کرنے کے لئے نصاب تعلیم میں تبدیلیاں کسی طرح بھی درست نہیں ہیں۔

جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقویٰ ماڈل سکول جیسے تعلیمی ادارے فاٹا وزیر ستان، بلوچستان، شمالی علاقہ جات و دیگر علاقوں میں بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ یہاں دشمن کی مداخلت بہت زیادہ ہے ۔ آج اگران علاقوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی ہے تو اس کے پیچھے طویل عرصہ سے جاری دشمن کی سرگرمیاں ہیں۔ لوگوں کو علم ہی نہیں ہے کہ وطن عزیزپاکستان کس قدر قربانیاں پیش کرکے حاصل کیا گیا ہے۔اساتذہ کو اس حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔پروفیسر حافظ محمد سعید کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم ہم نے سے ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جہاں بچوں کا اللہ سے تعلق مضبوط کیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں ہمارے 350سکول چل رہے ہیں اور دو ہزار سے زائد سکولوں میں ہمارا تیار کردہ نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے سکولوں کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اساتذہ بچوں کی تربیت کریں اورلوگوں کو سمجھائیں کہ لڑائی جھگڑے، قتل و غارت گری، فتنہ تکفیر اور بین الاقوامی مداخلت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے انتشار کا حل کیا ہے؟ہمیں تعلیمی اداروں کو ہدف بنا کر نوجوان نسل کو نظریہ پاکستان سمجھانا اور بیرونی سازشوں سے آگاہ کرنا ہے۔ پاکستان میں مثبت انداز میں سوچنے والے اللہ کے فضل و کرم سے اکثریت میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیم پر بہت محنت کر رہے ہیں لیکن انہیں یہ بات ضرور مدنظر رکھنی چاہیے کہ اگر باہر سے فنڈز لینے ہیں تو ان کی شرطیں پوری کر کے نصاب تبدیل نہ کئے جائیں۔ہمیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ بیرونی قوتوں نے اس وقت ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے۔میدانوں میں انہیں شکست کا سامنا ہے جس پر انہوں نے تعلیمی اداروں کو خاص طور پر اپنا نشانہ بنا رکھا ہے۔ ہم نے ان شاء اللہ وہ نسل تیار کرنی ہے جو اسلام اور پاکستان کی صحیح معنوں میں محافظ ہو۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر ظفر اقبال نے بتایاکہ جماعۃ الدعوۃ نے الدعوۃ اور تقویٰ ماڈل سکول کے نام سے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں ان میں زیر تعلیم بچوں اور بچیوں تربیت کی جاتی ہے اور ان اداروں کی بنیاد ایمان اور توحید پر ہے کیونکہ اسی میں اسلا م اور سائنس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں علم ہونے کے باوجود جہالت موجود ہے،کیونکہ جس علم میں وحی نہیں وہ سراسر جہالت ہے۔ہمارے ہاں دینی ودنیوی تعلیم کے الگ الگ ادارے بنا دیے گئے ہیں حالانکہ سائنس بھی دین نے ہی سکھلائی ہے۔سینئر صحافی و کالم نگار سجاد میر نے کہا کہ تقویٰ ماڈل سکول کی سالانہ تقریب کے موقع پر سکول کے بچوں کا نظریہ پاکستان پر بات کرنا خوش آئند ہے۔کچھ قوتیں کہتی ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ معاشی مفادات کے لئے بنا تھا یہ غلط ہے۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں نظریہ پاکستان کو پروان چڑھایا جائے۔ ملکی سرحدوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی نظریاتی حفاظت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں بنیادی تعلیم مضبوط ہے مگر کالجز اور یونیورسٹیز کی سطح پر کام نہیں،وہاں دین کے بنیادی اصولوں کے مطابق تعلیم نہیں ملتی،علی گڑھ یونیوسٹی نے ایسے لوگ پیدا کئے تھے جنہوں نے تحریک پاکستان کا آغاز کیا تھا آج بھی ایسی یونیورسٹی بنانی چاہئے جو نظریہ پاکستان کی تحریک کو آگے بڑھائیں اور منزل تک پہنچائیں۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما سیف اللہ خالد نے کہا کہ تقویٰ ماڈل سکول اس معاشرے میں اسلامی تعلیمات کا علمبردار ہے جو اسلامی کلچر کو پروان چڑھانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔یہ تہذیبی جنگوں کا دور ہے۔نائن الیون کے بعد پاکستان پر مغرب کی طرف سے تہذیبی یلغار مسلط کی گئی اور اس کا سب سے بڑا ہدف بچے ہیں ہم نے انکا جواب قرارداد مذمت میں دینے کی بجائے تقویٰ ماڈل سکول جیسے اداروں کی صورت میں دینا ہے۔جماعۃ الدعوہ شعبہ تعلیم کے مدیر انجینئر نوید قمر نے کہا کہ ہزاروں بچے الدعوۃ سکول سسٹم کے تحت ملک بھر میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اساتذہ کرام کی بھی تربیت کا کام جاری ہے۔جماعۃ الدعوۃ اس مشن کو جاری رکھے گی۔جس طرح مدینہ میں بچوں کی تربیت دعوت دین پر ہوئی تھی ہم بھی اسی طرز پر تربیت کر رہے ہیں۔جماعۃ الدعوۃ لاہور کے مسؤل ابوالہاشم ربانی،اساتذہ جماعۃالدعوۃ کے مسؤل حافظ طلحہ سعید، محمد بلال احمد چیمہ و دیگر نے کہا کہ دشمنوں کا ہمیشہ سے یہ ٹارگٹ رہا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کو بے دین کیا جائے اس حوالہ سے اسمبلیوں میں بھی ایکٹ منظور کئے جا رہے ہیں۔سینیٹ میں ہندو میرج بل کے حوالہ سے بحث تو پنجاب میں تحفظ خواتین ایکٹ منظور کیا گیا ہے۔اپنی اولاد کو دشمنوں کی سازشوں سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ تقویٰ ماڈل سکول جیسے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جائے اور ایسے ادارے ملک بھر میں بنائے جائیں جہاں اسلام،نظریہ پاکستان اور عصری علوم پڑھائے جائیں۔پروگرام کے آخر میں پوزیشن ہولڈر اور پروگرام میں حصہ لینے والے بچوں بچیوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -