یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی ادبی بیٹھک میں انتظار حسین مرحوم کا تعزیتی ریفرنس

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی ادبی بیٹھک میں انتظار حسین مرحوم کا ...

  

(ثمن عروج)

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کی ادبی بیٹھک میں نامور ادیب،افسانہ نویس اور کالم نگار انتظار حسین کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیاگیا۔

یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے چیف ایگزیکٹو :حسن صہیب مراد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کی ہماری زندگی میں وہی حیثیت ہے جو کہ ناشتے کی زندگی میں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا انتظار حسین جیسے افراد قوم کو ذہنی اور روحانی غذا فراہم کرتے رہے جس کی توانائی میں علم و ادب کے حوالے سے قوم آگے بڑھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے تمام شرکاؤ کور خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ادبی بیٹھک میں آپ کی شرکت ہمارا بہت حوصلہ بڑھاتی ہے۔ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے انتظار حسین کے چند خوبصورت اشعاربھی سنائے۔

مرحوم انتطار حسین کی بھانجی نیلوفر نے بڑے غمزدہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ انتظار حسین کے چلے جانے سے ادب کا دُنیا میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جو کہ تادیر پُر نہ ہو سکے گا اور ذاتی سطح پر ہماری زندگیوں میں بھی ایک بڑا نقصان ہے۔اللہ ہمیں اتنا حوصلہ عطا کرے کہ ہم سب ان کے بغیر جینا سکھ لیں ۔

معروف اہل قلم مسعود اشعر نے کہا کہ میں یہ برملا کہتا ہوں کہ جتنا کام اردو ادب میں انتظار حسین نے کیا کسی اور نے نہیں کیا ہے۔مجھے ذاتی طورپر ان کی صحبت میں جتنا وقت گزارنے کا موقع نصیب ہوا۔ اس پر مجھے فخر ہے۔

جعفر زیدی نے کہا کہ جب اردو ادب میں نعرہ زنی کا رجحان آگیا تھا تو انتظار حسین نے اس کو الگ کردیا تھا۔وہ نظریے کی جبریت کے خلاف تھے۔ تہذیبوں کے ٹوٹنے پھوٹنے سے جب اس کے اثرات انسانوں پر پڑتے تھے۔وہ اس کو شدت سے محسوس کرتے تھے اور یہی اثرات انتظارحسین کے بیشتر افسانوں میں ملتے ہیں۔

آمنہ مفتی نے کہا انتظا رحسین ان ادیبوں میں سے تھے جنہوں نے پاکستان بنتے بھی دیکھا اور پھر پاکستان کے حالات بگڑتے بھی دیکھا۔

نذیر قیصر نے بتایا کہ ہاورڈ یونیورسٹی امریکہ نے انتظارحسین کے ساتھ ایک تقریب منعقد کی تھی۔ جب میں انتظار حسین کو لینے گیا تو وہ اپنے کولہے کی ہڈی کے فیکچر کی وجہ سے بستر پر پڑے تھے۔وہ سفر نہیں کرسکتے تھے۔ہاورڈ یونیورسٹی والوں نے مجھے کہا کہ آپ انتظار حسین کا انٹرویو ریکارڈ کرکے لے آئیں۔یوں مجھے ان کی زندگی کا آخری انٹرویو کرنے کا حسین اتفاق ہوا۔ انتظار حسین نے کہا تھا کہ میں بیل گاڑی میں سفر کرنے والا آدمی ہوں۔ جہاز سے مجھے ڈر لگتا ہے۔مَیں نے ان سے کہا کہ آپ پر یہ الزام ہے کہ آپ ماضی میں زندہ رہنے والے آدمی ہیں۔انتظار حسین ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی کھڑکیاں ماضی اورحال دونوں اطراف میں کھلی رکھتے تھے۔انتظار حسین سے کسی نے کہا کہ ہندوستان میں آپ اپنی جائیداد چھوڑ آئے تھے آپ نے دعویٰ کیوں نہیں کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو وہاں اپنا ’’تاج محل ‘‘ چھوڑ آئے ہیں۔

کچھ لکھاری اگر زندہ لفظوں کو چھوتے ہیں تو ان لفظوں کو مردہ کردیتے ہیں۔ا ورکچھ لکھنے والے جب مردہ لفظوں کو چھو لیں توانہیں زندہ کردیتے ہیں۔ انتظار حسین بھی ایسے ہی لکھاری تھے جو ماضی کو چھوتے تو اس کو زندہ کردیتے تھے۔

معروف اہلِ قلم اصغر ندیم سید نے انتظار حسین مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین جیسے ادیب، افسانہ نویس اور کالم نگار صدیوں بعد پیدا ہوئے ہیں اورصدیوں تک زندہ رہتے ہیں

مزید :

ایڈیشن 2 -