نجی تعلیمی ادارے اور بے بس والدین

نجی تعلیمی ادارے اور بے بس والدین
 نجی تعلیمی ادارے اور بے بس والدین

  

بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدین کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے مفت معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔ یورپ سمیت دنیا کے بہتر ترقی یافتہ ممالک معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری ادا کررہے ہیں کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں دوہرا معیار اپنایا گیا ہے حکومتی ادارے موجود ہیں ان کا تعلیمی معیار بہتر نہیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیں ان کے اخراجات بہت زیادہ ہیں پنجاب حکومت کی طرف سے بڑھتی ہوئی والدین کی شکایت کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے ایجوکیشن اتھارٹی بل منظور کروا کر نجی تعلیمی اداروں کے لئے قواعد وضوابط مرتب کردیئے ہیں ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری اور ایجوکیشن بل کے اثرات کے آغاز پر ہی نجی تعلیمی اداروں نے سکول بند کرکے بل کو واپس لینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے 9-8مارچ کو ہونے والی ہڑتال جزوی طورپر کامیاب رہی تھی حکومت پنجاب کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں کے مذاکرات سے ہڑتال مؤخر کردی گئی تاثر ملنے لگا شاید پنجاب حکومت بل واپس لینے جارہی ہے۔ 11مارچ کو میں نے ایجوکیشن اتھارٹی بل واپس نہ لیا جائے کے عنوان سے کالم لکھا اور اس میں والدین کے تحفظات کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی مناپلی اور نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کی اندرونی کہانی بھی لکھی۔ میرے کالم کی غیرمعمولی پذیرائی سامنے آئی ہے والدین نے فیس بک پر نجی تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر قلم اٹھانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بہت سی تجاویز پیش کی ہیں اور اہم امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔

بے بس والدین کی توجہ پر آج کا کالم جو کسی اور موضوع پر تحریر کرنا چاہتا تھا نجی تعلیمی ادارے اور بے بس والدین کے عنوان سے پھرتحریر کررہا ہوں، نجی تعلیمی اداروں کے سرمایہ دار بے لگام ہیں اور ان پر گرفت کسی کمزور حکومت کے بس میں نہیں میں نے تذکرہ بطور ثبوت پیش کیا تھا، 7سال پہلے میاں شہباز شریف نے ریگولیٹری اتھارٹی بل لانے کی ہدایت کی تھی ۔ میاں شہباز شریف کے جرأت مندانہ اور دوٹوک مؤقف رکھنے پر شک کی بھی گنجائش نہیں ہے ان کے آگے بھی سات سال تک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ایجوکیشن مافیا اڑے آتا رہا ہے اب جبکہ بل پاس ہوگیا ہے جس کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کو سالانہ 5فیصد تک فیسوں میں اضافہ کی باضابطہ اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ قواعدوضوابط پر عمل درآمد کے لئے ایجوکیشن اٹھارٹی کے بل کے تمام نکات سے تعلیمی اداروں کو آگاہ بھی کردیا گیا ہے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو نہ بل ہضم ہورہا ہے اور نہ طے کئے گئے قواعد وضوابط ، مجھے والدین کی طرف سے موصول ہونے والے تحفظات سے اپنے قارئین اور حکام بالا کو آگاہ کرنا ہے والدین کا کہناہے نئے داخلے کے موقع پر بے تحاشا ایڈمشن فیسیں لاگو کردی گئی ہیں ماہانہ فیسوں میں اضافے کے لئے نجی سکولوں کے مالکان نے بچوں کے والدین کو خط لکھے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے سکول کی عمارت کرائے کی ہے اور ہم سالانہ بنیادوں پر 10فیصد کرایہ بڑھانے پر مجبور ہیں اساتذہ کی سالانہ 10فیصد تنخواہوں میں اضافہ کرتے ہیں اس لئے یکم اپریل سے 15سے 20فیصد ماہانہ فیس بڑھانا مجبوری ہے۔ ساتھ ہی گرمیوں کے آغاز اور اے سی چلانے کی نوید سنائی گئی ہے اور بجلی کے بل کی مد میں فی طالب علم بل لینے کو بھی مجبوری قرار دیا گیا ہے اندھیر نگری ہے سکول اور کالج کے انٹرنٹ کا بل بھی بچوں سے وصول کیا جانے لگا ہے۔

نئے سیشن کے آغاز کے موقع پر یونیفارم، کتابیں کاپیاں سکول سے لینے کی پابندی عائد کردی گئی ہے اور سکول سے خریدی گئی کاپی اور کتاب کی قیمت مارکیٹ سے 10سے 15فیصد زائد رکھی گئی ہے اور سکول سے یونیفارم اور کتابیں نہ خریدنے والوں کو جرمانہ دینا ہوگا۔

ہمارے ایک دوست جو بڑے سرکاری آفیسر ہیں بظاہر ان کو اپنے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی میں کوئی مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے تحریری طورپر مجھے لاہور گرائمر سکول کی طرف سے ان کے نام لکھے گئے خط کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے محترم والدین آپ کے دو بچے ہمارے سکول میں پڑھتے ہیں اور پھر سکول کی کارکردگی کو بنیادبناکر اور بچوں کو فراہم کی گئی سہولتوں کو سامنے رکھتے ہوئے والدین کو فیس بڑھانے کی مجبوری سے آگاہ کیا گیا اور پنجاب حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندیوں اور ایجوکیشن اتھارٹی بل پر والدین کو حمایت کی درخواست اور تعاون کاکہا گیا ہے والدین کی بے بسی کی کہانی پر تو کتاب لکھی جاسکتی ہے وقت کی قلت کے پیش نظر والدین کی مشکلات کو حکام بالا کے علم میں لانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں نجی تعلیمی اداروں میں مناپلی ان کی طاقت سے بخوبی آگاہ ہوں خدشات موجود ہیں کہ ایجوکیشن مافیا جو سوفیصد سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ ہے اس کے دباؤ میں ایجوکیشن بل میں ترمیم کردی جائے اور کم از کم اے گریڈ کے سکولوں کے لئے مرتب کئے گئے قواعدوضوابط میں نرمی کردی جائے ۔

پنجاب حکومت کا بڑا امتحان ہے میں نے گزشتہ کالم میں درخواست کی تھی کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں فیس وصول کرنا ماہانہ فیس، ایڈوانس لینا اور ایڈوانس فیس بھی 10تاریخ تک جمع نہ ہونے پر 50روپے روزانہ جرمانہ عائد کرنا بچوں سے بھاری فیس وصول کرنا اور اساتذہ کو چند سو یا 4سے 5ہزار ماہانہ دینا نجی تعلیمی اداروں کے ایسے جرائم ہیں جن پر چشم پوشی درست نہیں ہوگی ۔ گزشتہ کالم کے چند نکات تذکیر کے لئے دوبارہ تحریر کرتے ہوئے کہوں گا ۔ دومرلہ 10مرلہ ایک کنال سکولوں کو کٹیگری میں تقسیم کریں یا نہ کریں البتہ وطن عزیز سے محبت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے یکساں نصاب تعلیم رائج کیا جائے ۔ اردو کو ذریعہ تعلیم بنادیا جائے۔

بھانت بھانت کے رائج نصاب کو یکسر ختم کردیا جائے اور اخلاقیات اور اخلاقی قدروں کے نفاذ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں ۔ سکول کے اساتذہ کا معیار تعلیم مقرر کیا جائے بچوں کی ذہنی و اخلاقی نشوونما کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ماہانہ اور سالانہ چھٹیوں اور فیسوں کی یکمشت وصولی کا نظام وضع کیا جائے۔

سب سے اہم بات گورنمنٹ سرکاری اداروں کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ والدین اپنے بچوں کو نجی اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑنے کی بجائے سرکاری اداروں میں اپنے بچوں کو داخل کرائیں ریاست کی ذمہ داری بھی ادا ہو اور والدین بھی اپنے فرض سے احسن انداز میں عہدہ برا ہوسکیں۔ نجی تعلیمی سکولوں کی حدتک اور مسائل ہیں اور کالجز اور یونیورسٹیوں کے دوسرے مسائل سامنے آئے ہیں نجی کالجز کے مسائل اور ان کی دھونس کے لئے علیحدہ کالم لکھوں گا البتہ آخر میں وعدہ پورا کرنے کے لئے مختصر آگاہ کروں گا۔

والدین نے توجہ دلائی ہے کہ نجی کالجز ، یونیورسٹیوں کو انجینئرنگ یا میڈیکل کے کسی شعبہ میں 100نشست پر داخلہ کرنے کی اجازت ہے وہ 100افراد کی بجائے 300سے 500تک داخلہ کررہے ہیں اور سمسٹر میں ایسا طریقہ اپناتے ہیں 300بچوں کاداخلہ ہے 200بچوں کو فیل کرتے چلے جاتے ہیں ، من پسند 100افراد کا داخلہ بھیج دیتے ہیں یہ بہت بڑی سطح پر مکروہ دھندہ ہورہا ہے کروڑوں اربوں روپے اکٹھا کرتے ہیں ان پر کوئی چیک بیلنس نہیں ہے تفصیل انشاء اللہ آئندہ کسی کالم میں لکھوں گا۔

موجودہ حالات میں یکم اپریل سے نئے سیزن کا آغاز ہورہا ہے حکومت ڈٹ جائے اور فیسیں بڑھانے کے ظالمانہ اقدام کے آگے پل باندھے اور ایجوکیشن بل پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

مزید :

کالم -