پرویز مشرف کی کہانی۔ پرانی شراب نئی بوتل

پرویز مشرف کی کہانی۔ پرانی شراب نئی بوتل
 پرویز مشرف کی کہانی۔ پرانی شراب نئی بوتل

  

حکومت نے بالآ خر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیر آئے درست آئے کے مصداق بالآ خر حکومت نے ماضی سے سبق سیکھ لیا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پرانی شراب نئی بوتل میں آگئی ہے۔یہ عجیب صورتحال ہے کہ حکومت سابق صدرپرویز مشرف کے حوالہ سے جو بھی فیصلہ کرتی۔ وہ حکومت کے لئے ایک غیر مقبول فیصلہ ہی ہوتااور اس کا حکومت کی ساکھ پر منفی اثر ہی ہوتا۔ اس حوالہ سے حکومت کے لئے کچھ بھی مثبت نہیں تھا۔ اس ضمن میں مثال اس گدھے کی سی ہے جس سے یہ پوچھا گیا کہ سامان لیکر پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہے یاسامان لیکر پہاڑ سے نیچے اترنا مشکل ہے تو بیچارے گدھے نے معصومیت سے کہا کہ ہر دو لعنت ہی ہے۔ اگر حکومت پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہ دیتی تو یہ بھی ایک غیر مقبول فیصلہ ہو تا اور اس سے بھی حکومت کمزور ہوتی اور اب جب حکومت نے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے تو یہ بھی ایک غیر مقبول فیصلہ ہے اور اس سے بھی حکومت کمزور ہو ئی ہے۔

گو کہ پرویز مشرف کے وکلا نے عدالتوں کو یہ یقین دلا یا ہے کہ وہ چار سے چھے ہفتوں میں علاج مکمل کروا کر واپس آجائیں گے ۔ لیکن ایک عمومی رائے یہی ہے کہ اب سابق صدر جنرل پرویز مشرف واپس نہیں آئینگے۔ ان کے ساتھ کافی ہو گئی ہے۔ شاید انہیں جو یہ زعم تھا کہ وہ عوامی سطح پر بہت مقبول ہیں وہ بھی ختم ہو گیا ہو گا۔ انہیں اپنی سیاسی تنہائی کا بھی پتہ چل گیا ہو گا۔ انہیں یہ بھی یقین ہو گیا ہو گا کہ وہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بنا سکتے۔ کوئی ان کے ساتھ آنے کے لئے تیار نہیں۔ ان کے سب ساتھی اقتدار میں چوری کھانے والے مجنوں تھے اور کوئی ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی سیاسی اننگ کھیلنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقی زندگی میں آچکے ہو نگے۔ پاکستان میں اپنے موجودہ قیام کے دوران جہاں ان کا ذہنی علاج ہوگیا ہے۔ وہاں اگر انہیں تھوڑے بہت جسمانی علاج کی ضرورت ہے تو وہ بھی اب ہو ہی جائے گا۔ لیکن جن لوگوں کو ہلکا سا بھی شک ہے کہ پرویز مشرف واپس آئینگے وہ سابق سفیر حسین حقانی کا فیصلہ سامنے رکھیں۔ حسین حقانی بھی اسی طرح کی یقین دہانیاں کروا کر ملک سے باہر گئے تھے اور آج تک واپس نہیں آئے، اور حسین حقانی کامشہور زمانہ میمو گیٹ بھی ان کے ملک سے باہر جانے سے دفن ہو گیا۔ اب جب پرویز مشرف ملک سے باہر چلے جائیں گے تو یقیناًان کے خلاف قائم تمام مقدمات بھی اپنی موت آپ مرجائیں گے۔ اور ان کی داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

ملک بھر کے سیاسی تجزیہ نگاروں کے درمیان اس حد تک اتفاق رائے موجودہے کہ دھرنوں کے پیچھے بھی پرویز مشرف کا ہی معاملہ تھا۔ جب حکومت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب بھی حکمران جماعت کے اندر دو گروپ تھے۔ ایک وہ جو پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے حق میں تھے۔ اوردوسرے وہ جو اس مقدمہ کو چلانے کے خلاف تھے۔ایک شنید یہ بھی ہے کہ وزیر داخلہ اس گروپ میں تھے جو اس مقدمہ کو چلانے کے خلاف تھا اور ان کا موقف تھا کہ یہ مقدمہ نہیں بنا نا چاہے۔ جہاں تک چودھری نثار علی خان کی اس یقین دہانی کا تعلق ہے کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی مشاورت کے دوران کوئی بیک چینل پیغام رسانی نہیں ہو ئی تو یہ بات درست ہے کیونکہ جب مشاورتی اجلاس میں خود چودھری نثار علی خان بیٹھے ہیں تو پھر کسی بھی ادارے کو بیک چینل کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔

بہر حال پرویز مشرف کے باہر جانے کی صورت میں حکومت کو ایک سیاسی تنقید کا سامنا تو رہے گا۔ کہ حکومت نے پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی۔ یہ سب ایک ڈیل کے تحت ہوا۔ حکومت نے دھرنوں کے بعد اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کر لی۔ حکومت بچانے کے لئے حکومت نے پرویز مشرف کو باہر بھیجنے کی کڑوی گولی کھا لی۔ بلاول بھٹو نے ایک محاذ کھو لا ہے۔ گو کہ چودھری نثار علی خان نے انہیں جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ملک میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کوئی پہلی جماعت نہیں ہے جس نے کسی معاملے پر اسٹبلشمنٹ سے کوئی مفاہمت کی ہو۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ خود پیپلزپارٹی نے بھی اپنے پچھلے دور اقتدار میں ایک نہیں کئی معاملات پر اسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کی۔ اسی طرح باقی پارلیمانی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے سیاسی مفاد کے لئے کسی نہ کسی موقع پراسٹبلشمنٹ سے مفاہمت کی ہے۔ اس ضمن میں ایم کیو ایم کی مثا ل بھی سامنے ہے۔ اے این پی نے بھی مفاہمت کی ہے۔ جماعت اسلامی ۔ جے یو آئی بھی اسی صف میں شامل ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک خوبصو رت حقیقت ہے کہ اس حمام میں ننگے ہونے کے باوجود یہ سب ایک دوسرے پر الزام لگانے اور پوائنٹ سکور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

بہر حال پرویز مشرف کے ملک سے باہر چلے جانے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ کہ تمام فریقین کے درمیان مفاہمت ہو گئی اور ملک کسی نئے بحران سے بچ گیا۔ کیونکہ ملک اب دوبارہ کسی نئے سیاسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایسے بحران عوام کا بے پناہ نقصان کرتے ہیں۔ حکومت کی عوامی مسائل سے توجہ ہٹ جاتی ہے ۔ اور وہ حکومت بچانے میں لگ جاتی ہے۔ پرویز مشرف ہمارے ملک میں اب ایک نان ایشو ہیں۔ ان کو ایشو بنانا حکومت کے مفاد میں ہر گز نہیں۔ اس لئے تھوڑی بہت سیاسی تنقید برداشت کرنا کوئی بڑی قربانی نہیں ۔

مزید :

کالم -