ایران کے ساتھ تجارت کے دروزے کھلنے کا فائدہ فوری اٹھانا چاہیے

ایران کے ساتھ تجارت کے دروزے کھلنے کا فائدہ فوری اٹھانا چاہیے

  

کراچی( اکنامک رپورٹر)پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے دروزے کھلنے کا فائدہ فوری طور پر ہماری حکومت کو اٹھانا چاہیئے،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاکستان اورایران کے مابین بینکنگ چینل کے آغاز کا اعلان خوش آئند ہے مگر تجارتی توازن اپنے حق میں رکھنے کیلئے وفاقی وزارت تجارت کو اقدامات کرنے ہونگے۔یہ بات یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے جنرل سیکریٹری زبیر طفیل اور ترجمان گلزار فیروز نے جمعرات کو جاری اعلامیہ میں کہی۔زبیر طفیل نے کہا کہ ایران ،مشرق وسطیٰ ،مغربی ایشیا اور وسطی ایشیا کا اہم ترین ملک ہے،پاکستان کے ساتھ ماضی میں ایران کے تجارتی تعلقات وسیع تھے مگر ایران پر مغربی دنیا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں نے پاک ایران تجارت کو متاثر کیا لیکن اب جبکہ امریکا اور یورپی برادری کی جانب سے ایران پر سے معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی ایران پر عائد پابندیاں ہٹالی ہیں۔

اور بینکنگ چینلز کیلئے کوششوں کی ابتداء کی جارہی ہے تو کسی تاخیر کے بغیر ہمیں ایرانی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔

زبیر طفیل نے کہا کہ گزشتہ5 سال کے دوران پاکستان اور ایران کے مابین ہونے والی تجارت میں تجارتی توازن ایران کے حق میں رہا، 2009میں پاکستان کی ایران کو ایکسپورٹ 252ملین ڈالر تھی جبکہ پاکستان نے ایران سے 956ملین ڈالر کی اشیاء امپورٹ کیں، دوطرفہ تجارت میں اس سال پاکستان 704ملین ڈالر کے خسارے میں رہا،اسی طرح 2010میں بھی پاکستان کو ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا جھکاؤ ایران کے حق میں رہا کیونکہ پاکستان نے182ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کے مقابلے میں 884ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کی البتہ2011میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی اور پاکستان کی ایران سے درآمدات304ملین ڈالر کی رہیں جبکہ برآمدات153ملین ڈالر کی ہوسکیں۔

مزید :

کامرس -