پرویز مشرف مائل پرواز:حکومت کا اڑچن سے انکار

پرویز مشرف مائل پرواز:حکومت کا اڑچن سے انکار
 پرویز مشرف مائل پرواز:حکومت کا اڑچن سے انکار

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد حکومت نے انھیں علاج معالجہ کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے مقدمات میں پیش ہونے کا وعدہ کیا ہے۔ علاج کے بعد پرویز مشرف وطن واپس آ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص سیاسی ٹولے نے حکومت کے ہر اقدام پر تنقید کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ ایک پارٹی کی طرف سے بار بار بیانات آ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مشرف کو جانے دیا تو طوفان آ جائے گا۔ بیانات دینے سے پہلے بتایا جائے مشرف کو گارڈ آف آنر کیوں دیا گیا؟۔ وہ الزام لگا رہے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دیا۔ مشرف کو گارڈ آف آنر دینے والے آج ٹکرز میں اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ انھیں اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بینظیر قتل کیس یاد نہیں آیا؟۔ مشرف پر اس وقت پر بے نظیر قتل کا الزام تھا۔چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی سابق صدر پرویز مشرف سے کوئی ذاتی عناد نہیں ۔ وزیراعظم نواز شریف کا پہلے دن سے موقف تھا کہ جو کچھ ان کیساتھ ہوا معاف کر دیا لیکن جو کچھ عوام کیساتھ ہوا اس کیس کو عدالت لے کر جائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی اجازت دے سکتے تھے لیکن ہماری حکومت کیس کو سپریم کورٹ لے کر گئی۔ اگر مْک مْکا ہی کرنا تھا تو ہمیں عدالت میں جانے کیا ضرورت تھی؟۔ آج ہر طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے 50 ہزار سے زائد لوگوں کے نام بلیک لسٹ اور 9 ہزار سے زائد لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے جو پچھلے 30 سال سے موجود تھے اور ہم نے پچھلے ادوار کی طرح کسی کا نام بھی ذاتی مفاد اور دشمنی کے لیے ای سی ایل میں نہیں ڈالا جب کہ اس کو ایک شفاف قانون بنا کر اس پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اس ملک میں بدقسمتی سے اچھی کارکردگی خبر نہیں بلکہ غلط کارکردگی خبر ہوتی ہے، پرویز مشرف کے خلاف ایمرجنسی کا کیس ہماری حکومت کے خلاف نہیں بلکہ عدلیہ پر جو وار کیا گیا اس کے خلاف ہے اور اس کیس کا مکمل فیصلہ ابھی تک نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ مؤقف تھا کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنا اور واپس نکالنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے، پرویزمشرف کے وکلا کی جانب سے درخواست آئی کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے جس پر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے پرویز مشرف کو علاج کی خاطر ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے جب کہ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 4 سے 6 ہفتوں کے علاج کے بعد وطن واپس آ کراپنے اوپر قائم مقدمات کا سامنا کریں گے،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کو قبول ہے اور یہ سب کو قبول ہونا چاہیے۔چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز مشرف کو جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کے پیچھے کوئی سایہ نہیں منڈلارہا مگرہرچیز کے پیچھے سایہ تلاش کرنا ہماری عادت بن چکی ہے جب کہ ای سی ایل کیس میں نہ بیک چینل کچھ ہوا نہ کوئی اثر انداز ہوا ہے۔

کراچی(خصوصی رپورٹ)جنرل (ر)پرویز مشرف علاج کے لئے دبئی روانہ ہو گئے جہاں سے وہ امریکہ جائیں گے ،انہیں رینجرز ،فوج کے کمانڈوز اور پولیس کے سخت پہرے میں گھرسے ایئرپورٹ لے جایا گیاجہاں سے وہ غیرملکی ایئرلائن کی پرواز ای کے 611سے دبئی روانہ ہو گئے رات دو بجے رینجرز کی 12گاڑیاں ان کے گھرپہنچ گئیں ۔پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے لئے ای کے 611کی پرواز میں سیٹ بک کرائی گئی تھی ۔ذرائع کے مطابق پرویزمشرف کیلئے ایئرپورٹ پرخصوصی پروٹوکول کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -