حکومت مشرف کو باہر بھجوانے سے قبل اسمبلی کو اعتماد میں لے :وزیر اعظم بتائیں کیا ڈیل کی ہے :سیاسی و مذہبی رہنما خارجہ و عسکری ماہرین

حکومت مشرف کو باہر بھجوانے سے قبل اسمبلی کو اعتماد میں لے :وزیر اعظم بتائیں ...

  

لاہور( جاوید اقبال ‘ شہزاد ملک ،محمد نوازسنگرا )ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور عسکری و خارجہ امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ وزیراعظم قوم کو بتائیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک بھجوانے کے لئے ان سے کیا نئی ڈیل کی ہے، اگر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تو ان کے خلاف غداری کیس سمیت دیگر اہم کیسز ادھورے رہ جائیں گے، ایسا لگتا ہے کہ مشرف پر آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کا غداری کیس انہیں کلین چٹ فراہم کرنے کے لئے دائر کیا گیا، حکومت مشرف کو باہر بھجوانے سے قبل اسمبلی کو اعتماد میں لے ۔وہ روزنامہ ’’پاکستان ‘‘کے مقبول عام سلسلے ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کررہے تھے۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری لطیف کھوسہ نے کہاحکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کو بیرون ملک بھجوایا توان کے خلاف زیر سماعت کئی اہم کیسز ادھورے رہ جائیں گے، وہ بے نظیر قتل کیس میں مرکزی ملزم ہیں جبکہ غداری کیس میں بھی وہ عدالت کو مطلوب ہیں انہیں باہربھیجا گیا تو انصاف میں بھی تاخیر ہو گی۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا اسے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے، آئین کو توڑنے والے کا عدالتی ٹرائل ہونا ضروری ہے ،حکومت بزدلی کا مظاہرہ نہ کرے ۔جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن نے کہا کہ حکمران انتظامی آرڈر پر جمہوریت پر شب خون مارنے والے کو ای سی ایل میں نہیں ڈالنا چاہتے اور عدالت نے سرزنش بھی کی ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کو ڈھال بنانا چاہتی ہے ،ان کا کہنا تھاکہ سابق فوجی آمر کو سزا نہ ہوئی تو آئندہ مارشل لاؤں کا راستہ نہیں روکا جاسکے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفرالحق نے کہا کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کی اجازت دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے، ہم عدلیہ کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اسے تسلیم بھی کرتے ہیں، انہوں نے کہ اس پر شور مچانے والے بتائیں کہ انہوں نے مشرف کو گارڈ آف آنر دیکر کیوں باہر جانے دیا تھا۔جے یو پی کے سر براہ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے آئین توڑا ،آئین توڑنے والا غدار کہلاتا ہے انہیں باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ میں عسکری اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ انہیں مشرف کے ٹرائل میں رکاوٹ کا تاثر دور کرنا چاہیے تاکہ آئین پاکستان اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو برقرار رکھا جاسکے۔ مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے فیصلہ واضح ہے وزیراعظم پاکستان قوم کو بتائیں کہ انہوں نے پرویز مشرف کو واپس بھجوانے کیلئے کیا نئی ڈیل کی ہے۔ جہانگیر خان ترین نے کہا کہ عدالت کے فیصلے پر عمل اچھی بات ہے لیکن حکومت بتائے کہ ڈیل کی خبروں میں کتنی صداقت ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ افتخار حسین نقوی نے کہا کہ پرویز مشرف کا کوئی قصور نہیں ہے، وہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار تھے اس لئے انہیں قیدمیں نہیں رکھا جا سکتا ۔ پیپلزپارٹی کی ایم پی اے فائزہ احمد ملک نے کہا کہ (ن) لیگی قیادت پہلے پرو یز مشرف سے ڈیل کر کے ملک سے باہر گئی اور اب اقتدار بچانے کیلئے پرویز مشرف سے ایک اور ڈیل کر کے انکو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے ۔ سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ حکومت کے فیصلے کے خلاف ہی عدالت سے رجوع کیا گیا تھا اور اب عدالت نے بھی جان چھڑا لی ہے، حکومت پہلے بھی فیصلہ کر چکی ہے اب دیکھنا ہو گا حکومت کیا کرتی ہے۔بریگیڈئیر(ر)محمد یوسف نے کہا کہ اس ملک کے جج اور سیاستدان سب قوم سے مذاق کر رہے ہیں ۔پیپلز پارٹی نے خود پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر روانہ کیا تھا۔حسین حقانی باہر گیا تھا اس کو آج تک نہیں بلایا گیا،اب پرویز مشرف بھی چلے جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -