لاہور ہائیکورٹ کا مستقل بنیادوں پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے تعینات کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا مستقل بنیادوں پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے تعینات کرنے کا ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے مستقل بنیادوں پر ایل ڈی اے کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کرنے کا حکم دے دیا ،فاضل جج نے ایل ڈی اے کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل اور قائد اعظم تھرمل پاور پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹومحمداحد خان چیمہ سے وضاحت بھی طلب کرلی ہے کہ انہوں نے ایل ڈی اے کے امور نمٹانے کے لئے روزانہ ،ہفتہ واراور ماہانہ کتنا وقت صرف کیا ہے اور یہ کہ وہ دونوں اداروں سے کتنی تنخواہیں وصول کررہے ہیں ۔مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے صبیحہ خانم نامی خاتون کی توہین عدالت کی درخواست پرمحمد احد خان چیمہ کو آئندہ تاریخ سماعت پر 29مارچ کو متعلقہ ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے ۔فاضل جج نے ہدایت کی ہے کہ احد چیمہ نے ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا ایڈیشنل چارج سنبھالنے کے بعد ایل ڈی اے کو جو وقت دیا ہے ثبوتوں کے ساتھ اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں یہ بھی بتایا جائے کہ انہوں نے روزانہ ،ہفتہ وار اور ماہانہ کتنے امور نمٹائے ۔عدالت نے اس کیس میں احد چیمہ کو طلب کررکھاتھا وہ پیش نہیں ہوئے اور ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ احد چیمہ کے پاس ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج ہے ،وہ درحقیقت قائد اعظم تھرمل پاور پراجیکٹ اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور انہیں اسلام آباد میں نیپرا کے اجلا س میں شریک ہیں جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے ۔فاضل جج نے قرار دیا کہ ایک شخص جس کے پاس اضافی چارج ہو وہ مناسب وقت نہیں دے سکتا جس کے باعث اس کے ماتحتین من مانیوں میں مشغول ہوسکتے ہیں کیوں کہ انہیں نگرانی کا خوف نہیں ہوتا۔فاضل جج نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک شخص جو اسلام آباد میں پہلے ہی ایک بڑے پراجیکٹ سے منسلک ہے ،اسے ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے ،کیا احد چیمہ کے پاس مافوق الفطرت صلاحتیں ہیں کہ انہوں نے دونوں اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ۔عدالت کا اس بات سے زیادہ تعلق نہیں کہ کس سرکاری افسر کو کیا ذمہ داری سونپی جاتی ہے لیکن یہ عدالت کا بنیادی فرض ہے کہ وہ شہریوں کی زندگیوں ،جائیدادوں اور آزادیوں جیسے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ کرے ۔جب کوئی سرکاری افسر عوام کی خدمت کی اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کررہا ہو تو پھر عدالت آئینی طور پر اس کے معاملے میں مداخلت کی پابند بن جاتی ہے ،فاضل جج نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالت کی خواہش ہے کہ جلد از جلد مستقل بنیادوں پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کا تقرر عمل میں لایا جائے اور اس ضمن میں عدالتی حکم سے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے ۔فاضل جج نے عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک عبدالعزیز اعوان کو حکم دیا کہ وہ عدالتی احکامات سے مجاز حکام کو آگاہ کرکے آئندہ تاریخ سماعت پر اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں ،اس کیس کی مزید سماعت 29مارچ کو ہوگی ۔

مزید :

صفحہ اول -